نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

”جاپانی ٹوٹکے”

جیسے پہاڑوں میں رات کے گھپ اندھیرے کے سکوت میں کوئی ہلکی سی آواز دور تلک گونجتی ہے ایسے ہی ذہنی ارتقاء اور ملکوں کی تاریخ میں لئے گئے فیصلے نسلوں تک جاتے ہیں۔

ایسے ہی بیٹھے بٹھائے زمانۂ طالبعلمی میں پڑھا جاپانی پہلوان والا مضمون یاد آ گیا تو سوچا کیوں نا تھوڑی خبر ہی لے لی جائے انکی۔وہ تو ویسے کے ویسے ہٹے کٹے ہی تھے لیکن جاپانیوں کو ورق ورق الٹتے اس بات کی تصدیق ہو ہی گئی کہ کسی بھی مکینیکل پرزے کے ساتھ ‘جاپانی پرزے’ کا نام لگ جانا سونے پہ سہاگے کا کام کیسےکرتا ہے۔ کچھ سوال بھی اٹھے اور کچھ جواب بھی جو سب سیاق و سباق کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

آپ نے کبھی کسی ذہنی پریشان یا بکھری سوچوں کے مالک کو کامیاب دیکھا ہے ؟ یا پھر ذہنی سکون سے قاصر شخص کو مطمئن زندگی گزارتے دیکھا ہے؟ یقیناً نہیں دیکھا ہو گا۔

جاپان۔۔۔
جسکو دوسری جنگ عظیم کے دوران برباد کر دیا گیا تھا اس وقت جی ڈی پی کے حساب سے دنیا کی تیسری اور خریداری کی قوت کے حساب سے چوتھی بڑی معیشت ہے۔جسکا جی ڈی پی 5.18 ٹریلین امریکی ڈالر ہے،برآمدات 697.2 بلین امریکی ڈالر جبکہ درآمدات 670.97 بلین امریکی ڈالر ہیں۔
 
یہ سب ایک چمتکار ہی لگتا ہے کہ ایک صدی سے بھی کم وقت میں ایک ایسا ملک جس پہ ایٹمی ہتھیار استعمال کئے گئے نہ صرف اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے بلکہ دنیا میں بہترین نام بھی رکھتا ہے۔

ایسے تو بے شمار راز ہیں جنکو اپنا کے وہ اس مقام تک پہنچے لیکن ایک بنیادی راز جو انھوں نے اپنایا وہ اپنی افرادی قوت کو ذہنی انتشار اور پریشر کوکر بننے سے بچایا۔جسکے نتیجے میں اسی افرادی قوت نے اُنکو دنیا کے صف اول کے ممالک کے ساتھ لا کھڑا کیا۔

ایک کینیڈین تحقیق کے مطابق ہفتہ وار 40 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے سے صحت اور حادثات کی بے شمار وجوہات دیکھنے میں آئی ہیں۔اضافی وقت کام کرنے والوں کی نجی زندگیاں بھی غلط فہمیوں کا شکار ہیں حتی کے طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بھی ہیں۔اسی لئے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں افرادی قوت سے روزانہ 8 گھنٹے اور ہفتہ وار پانچ دنوں میں چالیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے کیونکہ وہ اسکا ادراک اور فہم رکھتے ہیں کے افرادی قوت ہی ان کی بڑی طاقت ہے۔

جاپان میں بھی روزانہ 8 گھنٹے ، ہفتہ وار 40 گھنٹے اور سالانہ 1714 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔مطلب یہ ہوا کے اگر چھٹیاں نکال دی جائیں تو ایک شخص تقریباً روزانہ 4 سے پانچ گھنٹے کام کرتا ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کے اگر کسی ادارے یا کمپنی کو ملازمین کا اضافی وقت درکار ہو تو وہ گورنمنٹ سے باقاعدہ اسکی اجازت لے گا۔

کچھ دلچسپ سہولتیں جو انکے لوگوں کی ذہنی صحت بڑھانے کے لئے انتہائی کارآمد سمجھی جاتی ہیں یا جن میں سے بیشتر کا مقصد لوگوں کی نجی و ذاتی زندگی بہتر بنانا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

• دن بھر کام کرنے کے بعد اگر آپ عوامی ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہیں جو کے وہاں زیادہ تر ٹرین یا جدید ترین ریل گاڑیوں کی صورت میں موجود ہے۔اگر ٹرین میں رش زیادہ ہے اور آپ کھڑے کھڑے سونا چاہتے ہیں تو وہاں ”چن ہولڈر” یعنی کے آپکی تھوڑی کو سہارا دینے کے لئے معلق سہارے بنائے گئے ہیں۔اگر کھڑے کھڑے سونا چاہتے ہیں تو بس تھوڑی کو اس میں ڈال کے خواب خرگوش کے مزے لے لیں۔

اگر آپ ٹرین میں بیٹھے ہیں اور ساتھ بیٹھے مسافر آپکو کسی بھی قسم کی کوفت دے رہے ہیں تو بٹن دبائیں اور سیٹ کی سمت تبدیل کر لیں۔تھکاوٹ زیادہ ہے اور پاؤں تھک چکے ہیں تو وہیں پر پاؤں کا مساج کرنے کے لئے مشینی انتظام موجود ہے۔

• کام کے دوران اگر آپ زیادہ تھک جاتے ہیں تو اجازت لے کے آپ اپنے کام کرنے والے ٹیبل یا جگہ پر ہی تھوڑی دیر سو سکتے ہیں۔کام کرنے کی اداکاری کرنے سے بہتر آرام کرنے کو سمجھا جاتا ہے۔

• صفائی اور لوگوں کو جراثیم سے بچاؤ کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ ٹیشو بنانے والی کمپنیاں باقاعدہ معاوضہ دے کر سیلز سٹاف کے ذریعے گلیوں اور سڑکوں میں مفت ٹیشو تقسیم کرتی نظر آتی ہیں۔

• کوئی بھی مشروب ہو اس پہ مشروب کا نام ابھار کے بھی چھاپنا لازم ہے تا کہ اگر کوئی اندھا شخص کسی مشین یا سٹور سے مشروب خریدے تو ابھری ہوئی اندھوں کی مخصوص لکھائی سے مشروب کا نام جان سکے۔بینائی سے محروم حضرات کا اتنا خیال رکھا جاتا یے جبکہ دنیا میں ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں اندھوں میں کانا راجا کہلاتا ہے۔

• دوران سفر مسافروں کی عارضی رہائش کا ایک بڑا ہی دلچسپ انداز ”کیپسول ہوٹلز” کی صورت متعارف کروایا گیا ہے۔ جومکمل ایئرکنڈیشنڈ ایک آدمی کے آرام فرمانے کی پرآسائش جگہ ہوتی ہے جس کا گھنٹے کے حساب سے معاوضہ لیا جاتا ہے۔سمجھنے کے لئے ہمارے خطے میں ”بسترا ہوٹلوں” کے انداز کو تکنیکی رخ دیا گیا ہے۔

• سڑکوں پہ دوڑتی ٹیکسی کاریں بھی مسافروں کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں۔
مسافروں کی آسانی کے لئے ٹیکسیوں کے سارے دروازے مسافروں کے لئے خود کار طریقے یا آٹومیٹک کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔

•  کہا جاتا ہے کے وہاں پانی صاف کرنے کا اتنا بہترین نظام ہیکہ لوگ گھروں میں پانی کے نلکوں سے پانی پی لیتے ہیں۔اگر آپ سفر میں ہیں تو ‘منرل واٹر’ کا استعمال بہتر ہے۔پانی کی اتنی قدر کی جاتی ہے کہ ہاتھ دھونے والے ”سِنک” سے پانی استعمال کے بعد ”ٹوائلٹ” میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

• 320 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھاگنے والی عام جاپانی بلٹ ٹرینز یا ریل گاڑیاں بھی وہاں رہنے والوں کے وقت کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔جبکہ انکے پاس دنیا کی تیز ترین ریل گاڑی چلانے کا اعزازا بھی ہے جو 603 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کیا گیاتھا۔

• چونکہ جاپانی لوگ چھتری بہت استعمال کرتے ہیں اور کام پہ پہنچنے کے بعد چھتری نما کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہوتی۔ویسے بھی اکثر چھتریان یا تو لوگ بھول جاتے ہیں یا گم ہو جاتی ہیں لیکن جاپان میں ایسا نہیں ہے۔وہاں باقاعدہ آپکو چھتریوں کی پارکنگ ملے گی،جی جناب چھتری لاک کریں اور کریں کام، واپسی پہ بھول بھی جائیں تو اگلے دن وہیں ملے گی آپکو۔چھتری کو عزت دو،اچھا معافی چاہتا ہوں۔

• دکان کے نظریے کو بالکل ہی نئی شکل دی ہے جاپانیوں نے۔پورے جاپان میں 5.5 ملین مشینی دکانیں ہیں۔اُنکو ‘وینڈنگ مشینیں’ کہا جاتا ہے۔ضرورت کا سامان شیلفوں میں سلیقے سے لگا دیکھیں،پیسے ڈالیں اور سامان لے کے یہ جا اور وہ جا۔
 
یہ سب لکھنے کا مقصد بطور قوم اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہم اور ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے؟ کسی بھی ملک کا اثاثہ اسکے نوجوان ہوتے ہیں اور ہمارے پاس اللہ کے فضل سے ہماری آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم لوگ ہیں اور 29 فیصد 15 سے 29 سال کے نوجوان پائے جاتے ہیں۔ایسا تو نہیں کے اُنکو راستہ دکھانے والے خود ہی بھٹکے ہوئے ہیں؟

صاحبان۔۔۔
جاپان کا ذکر ہو تو جرمنی آج کل خود بخود یاد آجاتا ہے۔نا چاہتے ہوئے بھی ایک چیز بہت ڈھونڈی،وہ یہ کہ مشرقی ایشیاء میں واقع جاپان نامی اس ملک کی سرحد وسطی یورپ کے ملک جرمنی سے تو نہیں ملتی؟بہت ڈھونڈا صاحب لیکن کچھ نہیں مل سکا۔
اللہ پاک بھٹکے ہوئے دانشوروں کو راستہ نصیب کریں،آمین۔

تمام مضامین نیک نیتی سے شائع کیے جاتے ہیں، کالم نگاروں/ بلاگرز کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں