نقطہ نظر/سردار ساران خالق

متاع نظر

میری لٹی پٹی پتھر کے زمانے کی سوچ رکھتی قوم جیسے آج تک خبر نہ ہو سکی کہ صرف چالیس لاکھ کی آبادی والا یہ خطہ جو حسین وادیوں میں ڈھکا ہوا جنت نظیر ٹائٹل کے باوجود کیوں پسماندگی کی حدوں کو ستر سال سے چھوتا ہوا آرہا ہے مگر جہاں قدرت کی نعمتیں تو موجود ہوں جہاں لہلاتے کھیت اونچے اونچے پہاڑ ہر طرف سرسبز بہار ہر شخص کے پاس اپنی زمین موجود پانی وافر مقدار میں موجود دریا موجود آخر کونسی کمی رہ گئی جو یہ چھوٹا سا خطہ اور اس کے لوگ آج بھی پسماندگی کی سوچ لیے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔

قارئین دل کُڑھتا ہے اس قوم کی سوچ دیکھ کر جس نے ستر سالوں سے اپنے اوپر اکثریت میں اُن لوگوں کو اپنا سربراہ چنتے رہے جنکو مہذب دنیا میں دس گھروں کی ذمہ داری نہیں دی جا سکتی اور اس قوم نے کیا وزیر اعظم کیا وزیر ایسے جاہلوں کو اقتدار کے وہ وہ نشے کروائے کہ یہ لیڈر تنہائی میں خود ہنس ہنس کر بے ہوش ہوتے ہوں گے ۔ کہ کس طرح کی قوم ہے جس نے بار بار ہمیں منتخب کیا اور ہم بار بار انہی کو لوٹ کر اپنی نسلوں کے لیے قارون کے خزانے جمع کرتے رہے اس خطہ کے اندر اگر پانچ سال بھی یہ قوم کسی انسانی ہمدردی رکھنے والے شخص کو وزیر اعظم یا وزیر یا ممبر اسمبلی بنا دیتی تو آج یہ خطہ پوری دنیا کے اندر ایک مثالی خطہ ہوتا اور جس کو دیکھنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے سیر کو آتے اور ہم سیاحت سے ہی اس خطہ کا نظام چلا رہے ہوتے ۔

سوائے چند کریکٹر فُل لوگوں کے نام کے علاوہ جو بھی آیا سیاست کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر آیا اقتدار میں بھی لوٹا اپوزیشن میں بھی اپنا حصہ لے کر اس خطہ کو اندھیروں میں ڈالنے کا سلسلہ جاری و ساری رہا جو آیا گُڈ گورننس کا دعوی کرتے پایا گیا لیکن گڈ گورننس دیکھنے کو نہ ملی اور نہ ان سے توقع کی جائے کہ یہ جاہلانہ سوچ کے حامل لیڈر کریں گے ۔

ستر سالوں سے محکمہ پولیس محکمہ مال محکمہ لوکل گورنمنٹ محکمہ برقیات محکمہ شاہرات کا فرسودہ قانون کو تبدیل نہ کر سکنے والے اقتدار میں رہتے ہو ئے وزارت امور کشمیر کے سامنے بھیگی بلی بنے رہے اور جب اپوزیشن آئی تو ریاست کی عزت کا نعرہ بلند کر کے چونا لگاتے رہے اس خطہ کے کیا پی ایچ ڈیز اور کیا ماسٹر ڈگری ہولڈر کو میں نے ایم فل پی ایچ ڈی اور ماسٹرز ڈگری ہولڈر کو ان کاسہ لیس حکرانوں کی چوکھٹ کے گرد چکر کاٹتے دیکھا اور یہ صفائیاں دیتے دلواتے دیکھا کہ میں نے قسم سے آپ کو ووٹ دیا تھا آپ کہں ساتویں سکیل میں ہی بھرتی کرلیں آگے بھی پوری زندگی آپ کی غلامی کروں گا اور نسلیں بھی غلام ہوں گی آپ کی دی ہوئی نوکری کی وجہ سے میں نے نظریات کی پسندیدگی کو نہیں بلکہ دو وقت کے نان کی خاطر لوگوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھا .

میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے جو کرپشن سامنے دیکھ کر لوٹ مار دیکھ کر تھانے میں غریبوں پر ظلم ہوتا دیکھ کر عدالتوں میں لوگوں کو سال ہا سال ذلیل ہوتے دیکھنے کے باوجود حکمرانوں کی تعریفوں کے پُل باندھنے والے بھی دیکھے جو حکمرانوں کی دی ہو ئی ساتویں یا گیارہویں سکیل کی نوکری کا قرض اُتا ر رہے تھے اور اپنے آپ کو اور لوگوں کو برملا یہ باور کروا رہے تھے کہ ہاں میں چور کا کمیشن خور کا وہ ساتھی ہوں جو لیڈر کے ساتھ جہنم میں بھی جانے کے لیے تیار ہوں کیونکہ غلط کام کا دفاع کرنے والا بھی غلط ہوتا ہے اور وہی ٹھکانا اُس کو بھی ملے گا جو اُسکے لیڈر کا ہو گا ۔

میں نے ان امورِ کشمیر کی کٹھ پتلیوں اور بیرونی ایجنٹوں کو اور اُنکے پروردہ اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن کے لیے ماہانہ باہر سے دس یا بیس ہزار آتا ہے جو یہاں اُن بڑے ایجنٹوں کے نعرے لگاتے ہیں جو راجہ گلاب سنگھ کو باپو کہہ کر پکارتے ہیں جن کے نزدیک مہاراجہ کی غلامی بہت بہتر تھی جو زبردستی انکے بزرگوں سے بے گار لیتا تھا جو مالیا لیتا تھا جس نے انگریز سے ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح پچھتر لاکھ نانک شاہی میں خریدا تھا ۔جو گائے کو ذبع کرنے کے جرم میں ان کے آباءکو مارا کرتا تھا یہ نئی نسل جو باپو باپو کہتی پھر رہی ہے یہ اپنے آباء کے دکھ کو بھول گئے ہیں تو ان سے کون امید رکھتا کہ یہ کشمیر کی جدو جہد کے لیے مخلص ہوں گے خیر واپس اپنے موضوع کی طرف کے اس خطہ کو لوٹنے والوں نے بڑے تسلی بخش انداز میں لوٹا اور لٹانے والی عوام آج بھی اُن نظریات کو تھامے پرچار کر رہی ہے جس نظریے کے موجد خود نظریہ بھول گئے مفاد پرستی اور لالچ میں گھری قوم جب نظریات نظریات کرکے دوسروں پر تنقید کرتے ہیں تو انکو ذرا حیا بھی نہیں آتی کہ وہ کتنی دفعہ اپنے نظریات کو کبھی شخصیت رستی اور کبھی آزاد خیال انداز میں بیچ چکے ہیں.

آج قوم پرستوں کی ایک ٹیم جس کی شروعات محاذ رائے شماری سے ہوئی تھی پہلے مقبول بٹ گروپ کبھی امان اللہ گروپ کبھی یاسین ملک گروپ کبھی رشید حسرت گروپ کبھی شوکت کشمیری کی اے این پی جو انیس سو پچاسی میں معرض وجود میں آئی کبھی این ایس ایف کا دھڑا اور باقی جو ہیں انکو خبر ہی نہیں کہ اس خطہ کی شروعات مسلم کانفرنس پھر آزاد مسلم کانفرنس پھر پیپلز ارٹی پھر ن لیگ پھر پی ٹی آئی کبھی آزاد امید وار اور لیکچر اس طرح دیتے ہیں جیسے جنم جنم سے یہ ایک ہی نظریے کو فالو کرتے آرہے ہیں پارٹیاں تبدیل ہر کسی نے کی ہاں جو اپنے آپ کو باہر نکال کر دوسروں پر تنقید کرے وہ کسی تاریخ والے سے پہلے تاریخ تو پوچھ لے باتیں بہت سی ہیں قارئین اس قوم کو سمجھانے کے لیے لیکن اثر بھی کرے تو تب نہ ہمارا ایک طبقہ جس نے قوم کو اچھے برے کی تمیز غلط انسان کی سپورٹ نہ کرنے کا درس ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دینا تھا یا کھڑے ہونے کا کہنا تھا وہ خود لیٹ گئے بلکہ منہ کے بل اوندھے منہ لیٹ گئے اب کون ایجوکیٹ کرے اس قوم کو مادیت کے اس دور میں جب قوم ٹوٹی نلکہ کھیل رہی ہے .

اب خطہ کے نوجوانو یہ ذمہ داری آپ کی ہے کہ قوم کو بتائیں کہ اس ریاست کے اندر ذمہ دار عہدوں پر رہنے والوں کا فرض کیا تھا انھوں نے کس طرح اس چالیس لاکھ کی آبادی کو ہر دفعہ نت نٸے انداز میں لوٹا کبھی ہیلی کاپٹر ایمبولینس کے نعرے پہ کبھی ہاسپیٹل کے وعدے پہ کبھی سڑکوں کے وعدے پہ کبھی نوکریوں کے وعدے پہ حالانکہ یہ سب کام تو ریاست کی ذمہ داری میں آتے ہیں یہ کام تو اداروں نے آبادی کے تناسب کو دیکھتے ہوئے کرنے ہی کرنے تھے لیکن اس سوئی قوم کو کیا خبر کہ ریاست کیا ہوتی ہے اس کے فرائض کیا ہے اگر کسی نے سیکھانے کی کوشش بھی کی تو یہ ہجوم سیکھانے والوں کے پیچھے ہی پڑھ گیا تاکہ ان لٹیرے لیڈروں سے داد وصول کر سکے چلیں ہم نے تو اپنی قلم کو طاقت دینی ہے خواہ کسی کے دل پر خنجر چلے یا کسی کے پیٹ پر کیونکہ میرے قلم کے الفاظ ہمیشہ حاشیہ برداروں کے دل کو زخمی کرتے رہیں گے جب تک یہ غلامانہ ذہنیت سے باہر نہیں آتے .

اس خطہ کے اندر اللہ پاک نے ایسی ایسی دولت رکھی ہے کہ اگر استعمال کرنے والا کوئی مخلص شخص آگیا تو ہر شخص خود کفیل ہو کوئی لٹیروں کے پیچھے ڈگری لے کر نہیں بھاگے گا لیکن شرط یہ کہ قوم پرانے پیشہ ور کھلاڑیوں کو مکمل ریسٹ دینے کے لیے تیار ہو جائے اور یہ عزم کر لے کہ آٸندہ ہمارا قائد وہ ہو گا جو کمیشن لے کر سڑکوں کی تباہی نہ کرے جو تقری تبادلے نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرے اس کے لیے قوم کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے امید ہے یہ دلوں کے سخی لوگ اپنا آپ بدلیں گے اور ظالموں سے سیاست کو آزاد کروا کر دم لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں