میرپورچیمبرکوانفراسٹرکچربجٹ نہ ملنے پرسہیل شجاع شکوہ زبان پرلے آئے

میرپورچیمبرکوانفراسٹرکچرٹیکس نہ ملنے پرسہیل شجاع شکوہ زبان پرلے آئے
میرپور(سٹیٹ ویوز)صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میرپور آزاد کشمیر و جوائنٹ صدر چیمبر آف کامرس جموں وکشمیر سہیل شجاع مجاہد نے کہا کہ آٹھ ارب سے زائد حکومت آزاد کشمیر کو ٹیکس دینے والی میرپور انڈسٹری کو پچھلے10 پندرہ سال سے انفرا سٹرکچر کیلئے بجٹ میں فنڈ نہ دینا بہت بڑی زیادتی ہے وزیراعظم آزاد ریاست جموںو کشمیر راجہ فاروق حیدر خان ، وزیر صنعت وتجارت نورین عارف اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر حالیہ بجٹ میں میرپور کی نئی وپرانی انڈسٹری اسٹیٹ اور ڈڈیال انڈسٹری کی سڑکوں اور پانی کیلئے بجٹ میں فنڈ مختص کر وائیں تاکہ نئی انڈسٹریاں لگ سکیں اور سرمایہ کاری کا رحجان اس طرف بڑھ سکے ۔

انہوں نے کہا کہ بند انڈسٹریوں کی بحالی کیلئے ٹیکس چھوٹ پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کی جائے تاکہ وہ انڈسٹریاں بھی چل سکے حکومت آزاد کشمیر نے اگر انفراسٹرکچر کی بحالی اور ٹیکس چھوٹ نہ دی تو آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان میں سی پیک کے اسپیشل منفی زون میں دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے تمام سرمایہ کاروں او رنئی اینڈسٹری لگانے والوں کا رحجان اور دلچسپی اُس طرف ہوجائے گی ۔ جس سے حکومت آزاد کشمیر کو حاصل ہونے والے اربوں روپے بند ہو جانے کے خدشات کے ساتھ اس خطہ میں بے روزگاری بھی بڑھ جائے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آزاد کشمیر میں مربوط اور منظم سرمایہ کاری کیلئے نئے حکومت جانب سے کوئی جامع پالیسی بنائی جاتی ہے تو ہم دنیا کی ایک بہتری بزنس اسٹیٹ بن سکتے ہیں کیونکہ میرپور پاکستان کی مرکزی شاہراہ جی ٹی روڈ سے 25/20کلو میٹر کے فاصلے پر انے یہاں ایک عشرہ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی جس سے گھر گھر میں انڈسٹریاں لگ گئی تھیں اور تین شفٹوں میں کام ہونے لگا تھا جو کہ بعد میں حکومتی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کر دیا ۔

سہیل شجا ع مجاہد نے مزید کہا کہ حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری رُک گئی ہے اور بعض صنعتیں بند بھی ہوگئی ہیں جس سے سرمایہ کاروں کی ایک بڑی رقم بلاک ہو گئی اور حکومت کو بھی ایک بڑے ریونیو سے محروم ہونا پڑھا ۔ موجودہ حکومت نے بھی اگر سابق حکومتوں کی طرح عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور انڈسٹری لسٹ کی سہولتیں فراہم نہ کی تو آئندہ پانچ یا دس سالوں میں خدشہ کیے کہ یہاں کی بڑی بڑی صنعتیں بھی یا تو بند ہو جائے گی یا پھر نئے بننے والے SEZپاکستان میں شفٹ ہو جائیں گی ۔ اس لئے کہ انڈسٹری لسٹ کو تمام تر اپنا خام مال پاکستان سے لانا پڑھتا ہے اور بنانے کے بعد فروخت بھی وہاں پر ہی زیادہ ترہوتا ہے ۔ اسی تمام صورتحال کومد نظر رکھتے ہوئے حکومت آزاد کشمیر کو ٹیکس میں مزید سہولتیں دینے انفراسٹکچر کیلئے خالی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیر صنعت ان تمام مسائل اور تجاویز کو غور سے دیکھیں اور موجودہ بجٹ میں ان تمام سہولتوں کیلئے بجٹ میں بھی حصہ رکھوائیں او رانڈسٹری لسٹ کے مسائل کو دور کریں تاکہ خطہ میں خوشحالی آسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں