نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

مکا مارنا میرا پارلیمانی حق ہے

جی جناب بغیر کسی تمہید کے آئیں آپکو ایک انتہائی اہم ہستی سے ملواتے ہیں اور انکی ہی زبانی انکے کارنامے آپکو سناتے ہیں۔
آداب عرض ہے،میں ہوں فواد چوھدری۔یوں تو میں موجودہ حکومت میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ہوں لیکن کبھی کبھی 18 سال کے لڑکوں والی حرکات کر کے دوسروں کی توجہ حاصل کرنا میرا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔ویسے تو پاکستان کی کچھ سیاسی تنظیمیں میری قابلیت سے مستفید ہوئی ہیں جن میں پی پی پی ، مسلم لیگ ق و آل پاکستان مسلم لیگ میری خدمات سنہری حروف میں تا ازل لکھتی رہیں گی۔اسی کامیابی کے سفر میں خان صاحب کا  لاڈلا بننے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ کیونکہ میں نے انکی تحریک کے دوران اپوزیشن کے بے شمار لوگوں کی عزت اچھالی تھی اس لئے مجھی ریاست مدینہ کی طرز پہ بننے والے نئے پاکستان کی وزارت اطلاعات سونپ دی گئی کیونکہ مجھ سے زیادہ متقی اور انسانیت کا درد رکھنے والا کوئی میسر نہیں تھا۔

اس عہدے کے تقدس میں پاکستان تحریک انصاف کی سالوں کی محنت کی مٹی پلید کرنے کا سہرا کئی بار مجھ نا چیز کو ملا۔الحمداللہ آج تک سب سے زیادہ نقصان اس جماعت کو میری وساطت سے ملا ہے۔میں نے وزارت اطلاعات کو اتنے سائنسی طریقے سے انجام دیا کے خان صاحب میری بصیرت کے قائل ہو گئے اور مجھے زبردستی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سونپ دی۔لاڈلا تھا نا کیا کرتے وہ بھی؟پھر بھی میری بے چین روح کو چین نا ملا۔ماضی میں میں نے علمائے کرام کو برملا کہہ دیا کہ انکی تو شکلیں ہی پاکستان بنانے والوں سے نہیں ملتیں اور کوئی میرا کچھ نا بگاڑ سکا۔مزید رویت حلال کے سنت طریقے کو کسی بہتر حل اور ہم آہنگی کی طرف لے جانے کے بجائے میں نے اگلے پانچ سال تک کا کیلینڈر دے کر اس طریقہ کار کو ختم کرنے کی تجویز دے کر کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کر دی۔

آپ کو سمجھ نہیں آ سکے گی کہ میں کتنا لاڈلا ہوں کیونکہ آج کل تو میرے کارٹون بنا کے روتے ہوئے بچوں کو ہنسانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔میرے اردگرد میرے حلقہ اثر میں کوئی شخص میری پرفارمنس کو چیلنج نہیں کر سکتا نہیں تو اسکو نجی زندگی میں بے عزت کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔پتہ ہے کیوں؟کیونکہ میں تو وزیر ہوں اور اوپر سے لاڈلا بھی۔کچھ عرصہ سے بول نیوز کا سینئر صحافی و اینکر پرسن سمیع ابراہیم میرے بارے میں بہت بول رہا تھا۔یہ وہی سمیع ابراہیم ہے جس نے خان صاحب کی تحریک اور انکے اقتدار میں آنے کے بعد بھی درجنوں پروگرام انکے حق میں کئے۔پھر اسکی جرأت کیسے ہوئی میرے بارے میں بولنے کی؟

میں موقعے کی تاک میں تھا کے اسکو سبق سکھا سکوں اور اسی تاڑ میں ایک شادی کے فنکش میں اپنے دوستوں اور گارڈز کے ساتھ میں دندناتا ہوا گیا اور ڈی جی ایف آئی اے ،رؤوف کلاسرا اور دیگر قد آور شخصیات کے ساتھ کھڑے سمیع ابراہیم کو کس کے مکا مارا اور ماں بہن کی گالیاں بھی دیں۔وہاں موجود سب لوگ میری اس فلمی انٹری سے ابھی تک ہکے بکے ہی تھے کہ میں مزید خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔بھری محفل میں کیسے عزتیں اچھالی جاتی ہیں اس ضمن میں میرے شاگرد مجھ سے رابطے میں رہیں۔مکا ہی مارا ہے نا؟یا تھپڑ؟کچھ لوگ تھپڑ کیوں کہہ رہے ہیں ؟سنا ہے ساری صحافی برادری سمیع ابراہیم کی حمایت میں میرے خلاف بول رہی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ابھی تک بیچارے کی ایف آئی آر بھی نہیں درج ہونے دی گئی۔میں تو وزیر ہوں،یہ تو ایک صاحب حیثیت شخص کے ساتھ ایسا کیا ہے۔عام آدمی تو مجھ سے بچنے کی سوچے بھی نا کیونکہ مکا مارنا میرا پارلیمانی حق ہے۔ جو جو میرے خلاف بولے گا سب کو مکے ماروں گا اب جو کرنا ہے کر لو جاؤ کیونکہ ہاتھ اٹھانے کے جواز بھی ہیں اور دلائل بھی۔کوئی مانے نا مانے،اصل لاڈلا تو میں ہی ہوں۔

جی صاحبان۔۔۔۔۔
یہ تھے مشہور زمانہ جناب عزت ماب فواد حسین چوہدری صاحب۔
جب وزراء کا اخلاقی معیار ایسا ہے تو کس طرح کے معاشرے کو پروان چڑھایا جا رہا ہے؟اور اگر اُنکو اسکی سزا دینے والا کوئی نہیں تو کیا یہ کھلا پیغام ہے کہ ہمارا قانون ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا صحافت یا سچ کا پرچار و آزادی رائے کا حق ہم سے چھینا جا رہا ہے؟
کس طرز کی ریاست بنائی جا رہی ہے؟ تھوڑی راہنمائی کر کے شکریہ کا موقع دیں۔

تمام مضامین نیک نیتی سے شائع کیے جاتے ہیں، کالم نگاروں/ بلاگرز کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں