16 جون 1999 کو آزاد کشمیر کی سیاست میں رواداری،ایمانداری اورشرافت کی موت

16جون 1999 کا دن مجھے آج بھی یاد آتا ہے. اس وقت بھلے ہی میری عمر چھوٹی تھی لیکن مجھے وہ لمحات ابھی بھی یاد ہیں. ہمیں سکول میں گرمی کی چھٹیاں تھیں.اچانک کسی نے خبر دی کہ غریب عوام کے دوست ایک درویش ایک مرد قلندر ایک طاقتور سیاستدان کشمیر کی پہچان راجہ ممتاز حسین راٹھور اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں. یہ علم تھا کہ رات وہ محمود گلی ریسٹ ہاؤس میں تھے. مجھے سب یاد ہے کہ کچھ سمجھ بوجھ نا ہوتے ہوئے بھی میں نے اپنے گھر سے بازار کی طرف دوڑ لگا دی. جب بازار کی طرف جا رہا تھا تو میری ان آنکھوں نے ہر انسان کو دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھا.کربلا کا منظر تھا وہ ایسا لگ رہا تھا کہ جناب راٹھور کے دکھ میں یہ پہاڑ درخت غرض کہ پرندے بھی رو رہے ہیں.

اس وقت سب لوگ سوگ میں تھے. تب اتنی عقل نہیں تھی آج سوچتا ہوں ایسا کیا دیا تھا ممتاز راٹھور نے ان لوگوں کو جو اس قدر والہانہ محبت کرتے تھے. جوب ملتا تھا کہ ممتاز راٹھور نے لوگوں میں پیار بانٹا تھا. لوگوں کے درد کو اپنا سمجھا تھا. اسی لیے دلوں پر راج کیا. میں بات کر رہا تھا ان لوگوں کی جن میں بچے جوان بزرگ خواتین شامل تھے ننگے پاؤں خواتین سر پر چادر اوڑھنا بھول گئ تھیں. بس انکی ایک ہی منزل تھی کہ ممتاز راٹھور کا آخری دیدار کر لیں. میں نے اپنی زندگی میں کسی انسان سے ایسی محبت پہلی مرتبہ دیکھی تھی. پورے آزاد کشمیر سے لوگ آپنے محبوب کا دیدار کرنے آ رہے تھے. میں نے بڑے بڑے لوگوں کو دیکھا جو کبھی گاڑی کے بغیر دو قدم نہیں جاتے تھے.

وہ میلوں پیدل سفر کر کے آ رہے تھے. جو بندہ جناب راٹھور کا دیدار کر لیتا تھا وہ اپنے آپکو خوش قسمت سمجھتا تھا. بچہ ہونے کی وجہ سے میں بھی ممتاز راٹھور صاحب کے جنازے والی چارپائی کے قریب پہنچ گیا اور اپنے اپکو کو ان خوش نصیبوں میں شامل کر لیا. ممتاز واقعی ممتاز تھے. انکو رخصت ہوئے آج 20 سال گزر گئے ہیں لیکن انکے جانے کا دکھ آج بھی ویسا ہی ہے. وہ ایک درویش صفت انسان تھے. انکا کل اثاثہ انکے علاقے حویلی کے لوگ تھے. جن کے لیے انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی وزیراعظم ہاؤس کے دروازے کھول دیئے تھے. اور وہ تاریخی الفاظ آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ آج سے حویلی کا ہر فرد وزیراعظم ہے. انہوں نے کبھی برادری ازم کی بات نہیں کی. حویلی کے تمام قبائل کو ایک گلدستے کی صورت میں جوڑ کر رکھا..سیاست ایک بے رحم کھیل ھے اور کرکٹ کی طرح اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آج کا مین آف دی میچ اگلے میچ میں صفر پر کلین بولڈ ہو گا-

ریکارڈ ہولڈر کے خلاف ریکارڈ بنیں گے جو ملک جمہوری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں عوام کی خدمت کا دعویٰ کرکے اقتدار تک پہنچتے ہیں جو عوام کی خدمت کے دعوے پر پورا اترتے ہیں تو صرف چنگیزی طرز پر حکومت کرتے ہیں. اس حکومت میں دین اسلام کی بنیادی روح موجود نہیں ہوتی. ممتاز راٹھور حقیقی سیاستدان تھے ایک حقیقی جمہوریت پسند لیڈر تھے غریب پرور تھے درویشوں کے شہنشاہ تھے. آج ممتاز راٹھور کو ہم سے بچھڑے 20 برس گزر چکے ہیں لیکن ان کے اقوال ان کے کام آج بھی ہمارے ساتھ پرچھائی کی طرح چل رہے ہیں.ممتاز راٹھور نے برادری ازم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ضلع حویلی بالخصوص اور بالعموم آزاد کشمیر کےعوام کی خدمت کی. جب ممتاز راٹھور سینئر منسٹر تھے تو اس وقت سردارعبدالقیوم خان سے جھگڑے کی وجہ صرف ایک ہی تھی کہ حویلی میں سیلاب کی وجہ سے قحط سالی ہو گئی تھی.

ممتاز راٹھور نے اسمبلی میں اراکین کی توجہ حویلی کی طرف دلائی جس پر سردار عبدالقیوم خان نے یہ کہا تھا کہ راٹھور کیوں شور مچاتے ہو دو چار گجر ہی تو مرے ہیں. انکی جگہ ستر اسی اور پیدا ہوجائیں گے جس پر ممتاز راٹھور شدید احتجاج کیا. احتجاج کے بعد ممتاز راٹھور نے ذوالفقار علی بھٹو سے خصوصی ملاقات کی اور حویلی کے لیے بھٹو شاندار پیکج لیا جس میں دوائی کھانے پینے کا سامان اور کمبل وغیرہ تھے. اس کے بعد حویلی میں برادری ازم کا بیج بویا گیا جو کہ آج تک بویا جا رہا ہے.اگر ضلع حویلی کے اندر کا ایک بچہ ایک ایک سیاستدان ممتاز راٹھور کے سیاسی نقش قدم پر چلنا شروع کر دیتا ہے.تو حویلی امن کا گہوارہ بن سکتا ہے. میری تمام اہلیان حویلی سے گزارش یہ ہے کہ برادری کو چھوڑ کر انسانیت کی بنیاد پر سیاست کریں. بے شک دنیا کا سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے ہے ہم لوگ انسانی اقدار کو بھول چکے ہیں.پھر دیکھیں کتنا سکون ملتا ہے.
#الجھی_گتھیاں

تمام مضامین نیک نیتی سے شائع کیے جاتے ہیں، کالم نگاروں/ بلاگرز کی آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں