جنسی ہراسگی: گلوکارہ میشا شفیع کا ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

لاہور(نیوزڈیسک)جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر گوکارہ میشا شفیع نے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیاہے۔

گلوکارہ میشاشفیع نے گورنرپنجاب کی جانب سےاداکارعلی ظفر کے خلاف جنسی ہراسگی کی اپیل مستردکرنےکااقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

میشاشفیع نےبیرسٹراحمدپنسوتہ اورثاقب جیلانی کےذریعےہائیکورٹ سےرجوع کیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاھد کریم نے میشاء شفیع کی درخواست پر سماعت کی ہے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد آئندہ سماعت پرفریقین کےوکلاء کودلائل کیلئےطلب کرلیا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ گورنرپنجاب نےجنسی ہراسگی کیخلاف دائرکی گئی اپیل خارج کی،صوبائی محتسب کواپیل کیلئےمناسب فورم قرارنہ دیتےہوئےدرخواست مستردکی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ جنسی ہراسگی کے معاملے میں مالک اورملازم ہوناضروری نہیں ہے۔ کام کی جگہ پرجنسی ہراسگی کیخلاف صوبائی محتسب سےرجوع کیاجاسکتاہے۔عدالت گورنرپنجاب کی جانب سے اپیل مستردکرنےکااقدام کالعدم قراردے۔

واضح رہے کہ لاہور کی مقامی عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اداکارعلی ظفر کے لگ بھگ 9گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل ہوگئی ہے ۔

لاہور کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ کیس کی سماعت کررہے ہیں۔گواہان کا کہنا تھا وہ ریہرسل سیشن میں موجود تھے ، میشا شفیع کے ساتھ ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

یاد رہے 14 مئی کو گلوکارہ میشا شفیع ،اداکار علی ظفر کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوی سے متعلق درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور عدالت نے گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دی تھی ۔

سپریم کورٹ نے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں