سردارعلی شاہنواز خان

دریابچاؤ مگر کیسے؟

مظفر آباد میں دریا بچائو تحریک کے مطالبات پر احتجاج کے بعد بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری خبر سامنے آ گئی کہ کوہالہ پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا ۔ مجھ سمیت کوئی بھی شہری ڈیمز کا مخالف نہیں تاہم حکومتوں کو بنیادی سہولیات اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والے اثرات کا جائزہ لیکر ایسے پراجیکٹ شروع کرنے چاہئیں۔

اب دریا بچائو تحریک کے مطالبات دیکھیں تو کوئی غیر ضروری مطالبہ نہیں۔ ان کے مطالبات میں مظفر آباد کیلئے گریٹر واٹر سپلائی کا قیام ، درجہ حرات کو برقرار رکھنے کیلئے شجرکاری کا مطالبہ ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس ، دریا سے محلقہ علاقوں میں واٹر سپلائی کا موثر نظام جیسے بنیادی مطالبات ہیں تاکہ شہریوں کو پانی کی سہولت فراہم ہو سکے اور ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔

لیکن ان مطالبات کو لیکر دو ماہ سے زائد احتجاج ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت سہولیات کی فراہمی کیلئے کوئی اقدامات کرتی اچانک انتظامیہ کی جانب سے ہلا بولا گیا اور احتجاج کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا اور پھر چھوڑ دیا گیا۔

اس سب میں آزاد حکومت کیا کردار ادا کر رہی ہے یہ تو واضح نظر آتا ہے سوائے زبانی کلامی باتوں کے کوئی اقدام نہیں کیے جا رہے ہیں۔نیلم جہلم پراجیکٹ تو بن گیا کام بھی شروع ہو گیا ۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ کسی وقت اس کی رائلٹی آزاد حکومت کو مل سکتی ہے لیکن کوہالہ پراجیکٹ کو دیکھا جائے تو یہ بالکل منگلاڈیم کی طرز کا پراجیکٹ ہے یعنی ڈیم آزاد کشمیر کی حدود میں ہو گا اور پاور ہائوس مری کی سائیڈ پر۔ اور وقت آنے پر آزاد حکومت صرف واٹر چارجز کی حق دار قرار پائے گی۔

آزاد حکومت کو اس سلسلے میں اقدام کرتے ہوئے حکومت پاکستان اور واپڈا سے معاملات طے کرنے چاہئیں تاکہ ریاستی وسائل کا فائدہ ریاست کو بھی مل سکے اور مقامی آبادیوں کا خیال رکھتے ہوئے ماحولیاتی ماہرین کی تجاویز پر عمل کریں ۔ تاکہ مقامی سطح پر مشکلات پیدا نہ ہوں اور آزاد حکومت اور حکومت پاکستان کو ان پراجیکٹس پر ایسے معائدے کرنے چاہئیں جن سے ریاست کے وسائل کا ریاست کو بھی فائدہ ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں