مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بن سکتا ہے،غلام سرور خان

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کے اراکین پی ٹی آئی سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نہ ’ان ہاؤس‘ تبدیلی آئے گی، نہ چیئرمین سینیٹ تبدیل ہوں گے اور نہ ہی حکومت مخالف تحریک چلے گی۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے کہا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتیں آپس میں ایک ساتھ نہیں ہیں۔وفاقی وزیر غلام سرور خان نے پروڈکشن آرڈر کے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کے خلاف ریفرنس بن رہے ہیں وہ ایوان میں آکر ’لیکچر‘ دیتا ہے۔

ایک سوال پرپی ٹی آئی کے وزیر نے کہا کہ ان کے خیال میں جب تک الزامات سے رکن پارلیمنٹ کو مبرا قرار نہ دیا جائے اس وقت تک اسے ایوان کی کارروائی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ذرائع ابلاغ کے استفسار پر غلام سرور خان نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں کے بغیر ہی منظور کرالیں گے۔

وفاقی وزیر برائے ہوابازی نے اپنے انتخابی حریف اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حوالے سے کہا کہ وہ یا تو حلف اٹھائیں اور یا استعفیٰ دے دیں۔پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی ’حریف‘ سمجھے جانیوالے جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کے متعلق غلام سرور خان نے کہا کہ ان کے پاس چند مدرسے اور کچھ بچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ساتھ عوام ہوتے تو وہ اپنی نشست ہی جیت لیتے۔

پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں ’فارورڈ بلاک‘ کا ’کردار‘ کوئی نیا نہیں ہے اور ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کافی اہمیت کا حامل گردانا بھی گیا ہے لیکن آئینی ترمیم کے باعث گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں اس کی بازگشت سنائی نہیں دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں