یہودی کتنا گہرا پلان بناتے ہیں؟

تحریر: ڈاکٹر فائزہ خان خٹک
1951ء میں مراکش کے ایک یہودی خاندان نے اسرائیل ہجرت کی۔ اس خاندان کی ملیکہ تیتانی نامی ایک لڑکی اسرائیل کے بجائے مصر بھیجی گئی۔ جہاں اس نے 1953ء میں سعيد حسين خليل سے شادی کی اور 1954ء میں اس جوڑے کے یہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ ملیکہ کو مراکش کی شہریت کے ساتھ 1958ء میں مصری شہریت بھی دی گئی اور وہ یہاں سعاد کے نام سے پکاری جانے لگی۔ تاہم 1973ء میں اپنے بیٹے کو مصری فوج میں بھرتی کرنے کیلئے اسے مراکشی شہریت سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

ملیکہ کا سگا ماموں ”عوری صباغ“ اسرائیل کے قیام کے بعد 1951ء سے 1968ء تک وہاں وزیر تعلیم و تربیت سمیت کلیدی عہدوں پر فائز رہا۔ ادھر مصر میں اس کا بھانجا فوج میں ترقی پاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ بعد میں جنرل کے عہدے تک پہنچ گیا۔ لیکن بظاہر مسلمان اور کافی دیندار۔ یہاں تک کہ اس جنرل کی بیوی کی کوئی تصویر بھی کسی نے نہیں دیکھی تھی۔

بس اسی ظاہری دینداری سے مصر کی نومنتخب اسلام پسند حکومت دھوکہ کھا گئی اورصدر مرسی نے 12 اگست 2012 ء کو صدارتی حکمنامہ جاری کرکے اس جنرل کو آرمی چیف اور وزیر دفاع کے عہدے پر فائز کیا۔ جانتے ہیں یہ جنرل کون تھا؟ وہی سیسی جس نے مرسی کا تختہ الٹ کر اخوان المسلمون کا قتل عام کیا اور آئین میں ایسی ترمیم کی کہ اسلام پسند آئندہ کبھی الیکشن میں ہی حصہ نہیں لے سکتے، حکومت میں آنا تو دور کی بات ہے۔

یوں ساٹھ سال پہلے بنایا گیا پلان نہایت کامیاب رہا اور اسرائیل مصر کی جانب سے مستقبل بعید میں بھی ہر قسم کے خطرات سے مکمل طور پر محفوظ ہو گیا۔ اس لئے اسرائیلی جنرل سیسی کو اپنا نیشنل ہیرو کہتے ہیں۔یہ بھید بھی تب کھلا جب ملیکہ تیتانی کا اسی برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اگر جنرل سیسی اس کی موت کو خفیہ اور تمام رسومات کو پردہ اخفا میں رکھنے کا سختی سے حکم نہ دیتا تو شاید ذرائع ابلاغ بھی کھوج میں نہ پڑتے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں