مہاجرین کے عالمی دن پر کشمیری مہاجرین کی بھارتی مظالم کیخلاف اور آزادی کے حق میں ریلی

مظفرآباد سٹیٹ ویوز)مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر کشمیری مہاجرین ہندوستانی ظلم اور جبر کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے بھارت مخالف اور آزادئ جموں کشمیرکے حق میں شدید نعرے بازی اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل۔

تفصیلات کے مطابق 20 جون کو دنیا بھرمیں مہاجرین کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن کو مہاجرین جموں کشمیر نے ریلی کا انعقاد کیا۔ ریلی کا آغاز سنٹرل پریس کلب سے ڈسٹرکٹ کمپلیکس تک کیا گیا۔ بھارت مخالف ریلی میں مہاجرین کیمپس کے صدور، زمہ داران اور دیگر مہاجرین نے شرکت کی، ریلی میں شریک شرکاء نے بھارتی ریاستی دہشتگردی، ظلم ،بربریت کیخلاف اور آزادئ کشمیر کےحق میں شدید نعرے بازی کی، مہاجرین قیادت نے ویک اپ یو این او کے بھی نعرے لگائے۔

ریلی کی قیادت مہاجرین نمائندگان راجہ زخیرخان، محمداقبال اعوان، عزیراحمدغزالی، مشتاق السلام، چوہدری محمداسماعیل، حامد جمیل کشمیری ،چوہدری شاہ ولی، بلال ادریس، محمد صادق بٹ، محمد اسماعیل میر،عثمان علی ہاشم، مقصودمغل، گل زمان تانترے، عبدالحمید لون، عاطف لون، محمد بشیرخان، سرانداز میر، چوہدری شفیع، شوکت علی، میاں نوراحمدو دیگر شریک رہے۔

بھارت مخالف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستانی فوج کے مظالم ہماری ہجرت کی وجہ بنے، ہندوستان نے 1947 سے اب تک لاکھوں خاندانوں کو جبراً گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، 1989 میں بھارتی قابض افواج نے ریاستی جبر کے زریعے نہتے عوام پر جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے،  گھر گھر چھاپے، کریک ڈاؤن، کرکے ہزاروں خاندانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

اقوام متحدہ دنیا کے دیگر مہاجرین کی طرح مقبوضہ جموں و کشمیرکے مہاجرین پر ہونے والے بھارتی مظالم کانوٹس لے۔ مقررین نے کہا کے اقوام متحدہ اپنے انسانی حقوق کمیشن کی کشمیرپر رپورٹ کے بعد ایک وفد کشمیر بھیجے تاکہ مقبوضہ وادی کی ابتر صورت حال کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔ مہاجرین نمائیندگان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کے قضیہ کشمیر کے حل کیلیئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جائے تاکہ ریاست کے عوام آپنی مرضی سے آپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرسکیں۔

مقررین نے بھارتی حکومت کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں لاگو غیر انسانی قوانین پوٹا، ٹاڈا اور آفسپا فوراً ختم کرائے جائیں، مہاجرین نمائندگان نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کے بے گھر مہاجرین کو آباد کرنے کے اقدامات کیئے جائیں، پڑھے لکھے نوجوانوں کو %6 کوٹہ کے مطابق نوکریاں دی جائیں مہاجرین بستیوں میں انسانی ضروریات کی بنیادی سہولیات پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات فراہم کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں