ریڑھی لگانے سمیت ہر کاروبارکیلئے رجسٹریشن لازمی قرار

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ملک بھر میں آج سے ریڑھی لگانے سے لے کر ہر قسم کے کاروبار کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دیدی گئی ہے جب کہ رجسٹریشن نادرا سہولت مراکز پر ہوگی۔

بجٹ کے نفاذ کے بعد پیر سے ٹیکسٹائل، لیدر، سپورٹس اشیا، کارپٹس، سیمنٹ ، اینٹیں،سگریٹ، سریا سمیت دیگر سٹیل مصنوعات،گھی، ککنگ آئل،مشروبات و منرل واٹر،میک اپ کا سامان، جوسز،سی این جی،چینی، برانڈڈ اشیا، فرون اشیاء ،پینٹس، وارنش، الیکٹرک و ہوم اپلائنسز،لبریکنٹ آئل،سٹوریج بیٹریاں، سیمنٹ،ایل این جی،ہیرے جواہرات، سونا چاندی، گاڑیاں،ماربل،ٹرانسپورٹ کرائے اور تمام درآمدی اشیاء مہنگی کردی گئی ہیں جبکہ کیپٹل گین ٹیکس کیلئے جائیداد کا ہولڈنگ پیریڈ جوپہلے تین سال تھا بڑھا دیا ہے۔

پہلے تین سال بعد پراپرٹی کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس سے چھوٹ تھی۔ اب یہ مدت تعمیر شدہ جائیداد کیلئے پانچ سال اور پلاٹ کیلئے دس سال کردی گئی ہے ۔سُپر ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔بینکوں کیلئے آمدنی کا فارمولا لاگو کردیا گیا ہے ۔ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والوں پراڑھائی ہزار روپے ماہانہ ٹیکس عائد کردیا گیاہے ۔80 لاکھ سے اوپر والی پراپرٹی انکم پر ٹیکس20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے ۔ٹرانسپورٹ سروسز پر ٹیکس کی شرح دو سے بڑھا کر چار فیصد کردی گئی ہے۔

مقامی رائیلٹی پر پندرہ فیصد ٹیکس عائد کردیا ہے جبکہ یکم جولائی سے ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آنے کیلئے دیر سے گوشوارے جمع کروانے پر ایک ہزار سے20 ہزار روپے جرمانے دینا ہونگے۔ نان فائلرز کیلئے جائیداد و گاڑیاں خریدنے پر پابندی ختم کردی گئی ہے تاہم انہیں جائیداد یا گاری خریدنے کے 45 دن میں ریٹرن جمع کروانا ہوگی۔

ریٹرن جمع نہ کروانے پر ایف بی آر از خود ٹیکس کا تعین کرکے ریکوری کا نوٹس جاری کرے گا ۔عدم ادائیگی پر پراسیکیوشن ہوگی جس میں بھاری جرمانے اور ایک سال سے تین سال تک کی قید ہوسکے گی ۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں آرمی چیف، صدر پاکستان، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر تمام مراعات یافتہ طبقے کو انکم ٹیکس سے چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے اور مراعات یافتہ طبقے کیلئے ٹیکس سے متعلق دوسرے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں