شہر قائد میں دہشتگردوں کے سلیپر سیل دوبارہ فعال ہونے کا انکشافات

کراچی (سٹیٹ ویوز) ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ایس ایس پی غلام اظفر مہیسر نے شہر قائد میں دہشت گردوں کے سلیپر سیل دوبارہ فعال کرنے والے گروپ کے متعلق اہم انکشافات کر ڈالے۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں کا تعلق شیخ ممتاز عرف فرعون اور احمد منا کا تعلق حافظ قاسم گروپ سے ہے، جو اب بھی کراچی میں موجود ہیں۔

ڈی آئی جی نے بتایا یہ ملزمان سینٹرل جیل سے فرار ہونے کے بعد افغانستان چلے گئے تھے تاہم اب ان کی آخری لوکیشن ایبٹ آباد آئی ہے، کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ٹیم ملزمان کی گرفتاری کیلئے ملک بھر میں چھاپے مار رہی ہے۔

عامر فاروقی نے کہا حالیہ اطلاعات کے مطابق دونوں دہشت گرد ایک بار پھر کراچی پہنچ چکے ہیں، دو افراد کے قتل سمیت کئی تاجروں کوبھتہ کی پرچی بھجواچکے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بھی بناچکے ہیں، کچھ عرصہ خاموشی کے بعد پھر 2 پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیاگیا۔انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ بھتہ کی کال کو ٹریس کرتے ہوئے اہم ملزم شیخ ممتاز کی کراچی میں موجودگی کا انکشاف ہوا۔

اس موقع پر ایس ایس پی غلام اظفر مہیسر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نیٹ ورک جیل کےاندرسےآپریٹ ہوتا تھا شیخ ممتاز نے جیل سے باہر آنے کے بعد نا صرف سلیپر سیلز کو دوبارہ ایکٹیو کیا بلکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بھی فعال کردیا ہے ، ملزم سہولت کار سکینہ ناز کی دہائشگاہ پر ساڑھے چار ماہ حلیہ بدل کر بھی رہا۔غلام اظفر مہیسر کا کہنا تھا شیخ ممتاز عرف فرعون حافظ قاسم کےآؤٹ لیٹس ہیں، بھتہ خوری کی شکایت آئی اور ایک ریٹائرڈ اہلکار شہید ہوا تب پتہ چلا، شیخ ممتاز اور احمد منا کے علاوہ2 اور دہشتگرد بھی نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

ایس ایس پی نے کہا سکینہ ناز عرف نازو کا شوہر بھی دہشت گرد ہے، سکھر جیل میں قید ہے، شیخ ممتاز عرف فرعون عرف شہزاد کی شناخت بھی سکینہ ناز نے کی۔غلام اظفر مہیسر نے پولیس کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس ٹارگٹ کلنگ میں ملوث موٹرسائیکل بھی برآمد کرچکی ہے جبکہ اس وقت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کام کررہے ہیں، ملزمان زیادہ سے زیادہ کراچی یا پھر بلوچستان موجود ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں