تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی تک برہان وانی کا مشن جاری رہے گا،پیر علی رضا بخاری

 حویلی کہوٹہ (حماد الحسنین+سٹیٹ ویوز) ممبر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی و سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف پیر علی رضا بخاری نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی تک برہان وانی کا مشن جاری رہے گا، وانی کشمیر کا نڈر سپوت تھا۔ مقبول بٹ شہید سے لیکر برہان وانی شہید اور اس سے لیکر آج تک دھرتی ماں کی آزادی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرنیوالے عظیم بیٹوں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔

کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے۔ ملکی استحکام میں پاک افواج کا کردار قابل ستائش ہے۔ معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ ہی قومی مفاد میں ہے۔ وہ برہان مظفر وانی کے یوم شہادت کے حوالے سے منعقدہ پیغام پاکستان کشمیر کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس کی صدارت راجہ جمشید کیانی ایڈووکیٹ  نے کی جبکہ مہمان خصوصی انجنئیر چوہدری عامر نذیر تھے۔

کانفرنس سے خطاب ہوئے پیرعلی رضا  بخاری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے عالمی برادری کو پاکستان سے سیاسی اور سفارتی یک جہتی کرنے کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے دوہرا معیار اپنانا نہیں چاہئے ، عالمی برادری کوکشمیر کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔

کشمیری عوام جرات اور بہادری کے ساتھ بھارتی مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں، وہ دن دور نہیں کہ مظلوم کشمیری قابض فوج کا کشمیر سے قبضہ ختم کر کے چھوڑیں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے برصغیر کے مفاد میں ہے۔ جب تک بھارت کشمیر سے اپنا جابرانہ اور فوجی قبضہ ختم نہیں کرتا اس وقت تک جدوجہد آزادی جاری رہے گی ۔

نہتے کشمیری عوام ساڑھے 7لاکھ بھارتی فوج سے نبرد آزما ہیں اوربھارتی فوج نتہے کشمیریوں پربدترین مظالم ڈھا رہی ہے، کشمیریوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہی آج بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت پریشانی میں مبتلا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشن ،سیکورٹی کونسل ،او آئی سی،انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور ہندوستان کے با ضمیر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نہتے کشمیریوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کرے

.بھارت اپنے وعدے کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر کو متنازعہ تسیلم کر کے با مقصد اور نتیجہ خیز سہہ فریقی مذاکرات کرے تو پاکستان اور کشمیری تعاون کے لیے تیار ہیں ہم پہلے بھی کئی مرتبہ سیز فائر آزما چکے ہیں لیکن بھارت مخلص نہیں اور وہ مختلف حربوں کے ذریعے کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقررین نے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان اورا زاد حکومت کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انتخابی حلقہ حویلی کے عوام کا حق ہے۔ انتخابی حلقہ کے حوالے سے حویلی کی  عوام علی رضا بخاری کے ساتھ ہیں اور انکے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تاریخ آزادکشمیر کے لیے دنیا بھر میں پیر سید محمد علی رضا بخاری نے بڑا کام کیا ہے  ختم نبوت بل پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں موجودہ بجٹ سیشن میں پیر سید محمد علی رضا بخاری نے حویلی کے مسائل اجاگر کر کے حقیقی نمائیندگی کا حق ادا کیا ہے۔

حویلی میں بجلی کی حالت بہت ابتر ہے۔ حویلی کے عوام پیر علی رضا بخاری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گرڈسٹیشن کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔حویلی کے مسائل کو اگر دیانت داری سے استعمال کیا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں حریت کانفرنس کی جد وجہد  کو سلام پیش کرتے ہیں۔حویلی کے مسائل پر آواز اٹھانا پاکستان کی بقا اور استحقام کے لیے اور آزادی کشمیر کے لیے پیر علی رضا بخاری کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ عالمی سطح پر آپ نے اس حوالے سے بڑا کام کیا ہے۔

آپ حویلی کا سرمایا ہیں۔حویلی کے لوگ جاگ اٹھے ہیں۔  اور وہ اپنے حقوق اور آزادی کشمیر کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم پاکستان کے بلا تنخواہ سپاہی ہیں۔ جنوبی ایشاء کے اندر قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دیں ہیں جس کی تاریخ میں مثال ملنا مشکل ہے اس موقع پر اتفاق رائے سے بذیل قرارداد بھی پاس کی گئی ۔١۔ یہ کانفرنس شہید برھان مظفر وانی کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی شہادت کو تحریک آزادی میں نئی روح پھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں جاری تحریک تکمیل پاکستان کی کامیابی تک اس کی بھرپور حمایت جاری رکھی جائے گی۔

٢۔ یہ کانفرنس پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو ملک سے دہشتگردی ختم کرنے اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ٣۔ کانفرنس یہ قرار دیتی ہے کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔اس مسئلے کو حل کرکے ہی جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے-یہ کانفرنس مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے مصروف عمل عوام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے اور انہیں آزادکشمیر کے عوام کی طرف سے بھرپور مدد اور حمایت کی یقین دہانی کراتی ہے۔

حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ مولوی عمر فاروق کی طرف سے ہندوستان کو مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ کشمیر کی سیاسی قیادت کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات سے ہی ستر سال پرانے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

کشمیریوں کی نمائندہ تنظیم حریت کانفرنس مسئلہ کے حل کے لئے بھی اقدامات اٹھائے گی اور کشمیر کے عوام ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔یہ اجتماع ہندوستا نی فو ج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی مسلسل شہادتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس ظلم وجبر اور کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کا نوٹس لیں ..

شرکا کانفرنس قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی سے بھی مسئلہ کشمیر کے تمام فریقوں کے ساتھ ملکر عالمی اور علاقائی تناظر میں ایک فعال اور ٹھوس کشمیر پالیسی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔٤۔ کانفرنس ہندووں کی مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے شاردہ مندر کھولنے کا خیر مقدم کرتی ہے  اور مطالبہ کرتی ہے کہ آزادکشمیر کے لوگوں کو درگاہ حضرت بل اور چرار شریف کی زیارت کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔ 

٥۔   یہ اجتماع حکومت پاکستان کے مسئلہ کشمیر پر جرات مندانہ موقف کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اعتراف کو خوش آئند قرار دیتا ہے-٦۔ یہ کانفرنس گزشتہ دنوں سماہنی سیکٹر میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر ان لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتی ہے اور ان جوانوں کی وطن کے دفاع کے لئے پیش کی گئی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ 

٧۔ یہ کانفرنس ایل او سی سے ملحقہ علاقوں میں بسنے والے نہتے شہریوں پر بھارتی فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھارت کو جارحیت سے روکنے میں کردار ادا کرے۔ کانفرنس مرکزی حکومت کی طرف سے متاثرین ایل او سی کے لئے تین ارب روپے مختص کرنے پر شکریہ ادا کرتی ہے۔

 ٨۔ یہ کانفرنس وزیراعظم پاکستان کی طرف سے او آئی سی اجلاس میں مضبوط موقف کیساتھ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور قومی جذبات کی ترجمانی کرنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ ٩۔ یہ کانفرنس ضلع حویلی کی پسماندگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس کے بنیادی مسائل صحت ،تعلیم اور نحیف انفراسٹرکچر کی جانب مبذول کراتے ہوئے ان مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کرتی ہے۔ 

١٠۔ کانفرنس حویلی میں اضافی انتخابی حلقہ کا مطالبہ دہراتے ہوئے حکومت کو یاد دلاتی ہے کہ ضلع حویلی کی آبادی لگ بھگ دو لاکھ کے قریب ہے اور یہ علاقہ تین اطراف سے دشمن کی چوکیوں میں گھرا ہوا ہے،نیا انتخابی حلقہ یہاں کے عوام کا مطالبہ اور حق ہے نئے حلقے کا مطالبہ کرنے والوں میں ضلع کا ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے صاحب رائے شامل ہیں۔ بار سے لے کر تاجر،طلبہ،خواتین دینی و سول سوسائٹی سب نئے حلقے کے مطالبے پر متفق اور متحد ہیں اور وہ اس مطالبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ لہذا  اب وقت آ گیا ہے کہ ضلع حویلی کو بھی آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور نئے انتخابی حلقے سمیت یہاں سیاحت کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

١١۔ یہ کانفرنس امریکہ کی طرف سے بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیم پر پابندی لگانے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ کانفرنس سے دیگر جن مقررین نے خطاب کیا ان میں صاحبزادہ سیدسعید احمد بخاری،  راجہ جمشید کیانی ایڈووکیٹ، انجنئیر چوہدری عامر نذیر ، راجہ نسیم خان راٹھور مشتاق بخاری صدر جمعیت علمائے جموں وکشمیر حویلی ، غفور فاروقی، گلزار راٹھور، عاشق کیانی، سید خادم حسین بخاری، راجہ عادل کیانی ایڈووکیٹ ، پیر سید شبیر احمد بخاری، سید طیب حسن بخاری، جہانگیر کیانی ایڈووکیٹ ، عبد المجیدبٹ، سید زاہد حسین بخاری ، حاجی محمد نصیر کیانی، شفقات بخاری، عظیم راٹھور ، چوہدری جمیل صدر انجمن تاجران، جاوید سرور راٹھور ، چوہدری اعظم، عبدالمجید بٹ ، کے علاوہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائیندگان بھی موجود تھے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں