نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

زیرو کاربن کا برطانوی قانون

ایک وقت تھا کہ زمین نامی سیارے پہ جاہل لوگ رہتے تھے۔انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ مہذب و ترقی یافتہ زندگی کیا ہوتی ہے؟پتھر  سے پتھر ٹکراکے آگ جلانے والے وہ لوگ بے شک ترقی یافتہ دنیا کے نہیں تھے لیکن سانس ضرور صاف ہوا میں لیتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ حضرت انسان صاحب علم ہوا۔نا پوچھئے صاحب کہ ترقی یافتہ ہوتے ہوتے غلاظت کے کتنے ڈھیر بھی بناتا گیا۔

حکم خدا وندی ہیکہ کائنات میں جو نظر آئے اسے سمجھو اور پا لو۔پا لینے یااپنانے کا مطلب یہی ہوتا ہیکہ جو آپکی ذات کا آپکی زندگی کا لازمی حصہ بن جائے جبکہ اسکا مطلب یہ لے لیا گیا کہ حاصل کرو، استعمال کرو اور پھینک دو۔نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت انسان نے ترقی کے مراحل میں زمین سے معدنیات و ذخائر دریافت کئے اور خالی نظر آنے والی دنیا کو بھردیا۔

آج آپکو شہروں میں گاؤں میں ہر جگہ جو بھی مکان ،عمارت حتی کہ گاڑیاں غرض جو بھی مادی چیز نظر آتی ہے وہ زمین سے ہی دریافت ہوئی۔کنکریٹ ،سیمنٹ اور اسٹیل سے بنی عمارتیں اور ان کو بنانے میں استعمال ہونے والا ہر مواد زمین سے نکالا گیا ہے۔ثابت یہ ہوا کہ انسان نے ان نعمتوں کا استعمال تو سیکھا لیکن ان اشیاء کے استعمال سے ہونے والےوہ نقصانات جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے وہ نہ ٹھیک کر سکا۔جبکہ ہر کارآمد چیز کو استعمال کے بعد ناکارہ کر کے استعمال کرنے کے بھی کئی طریقے ہیں۔

روزمرہ کے اشیائے خوردونوش کے استعمال کے بعد اُنکو ناکارہ بنانے کا کوئی موثر طریقہ نا ہونے کی وجہ سے یہ اشیاء گل سڑ کے گرین ہاؤس گیسز کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔گرین ہاؤس گیسز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ،میتھین،نائٹرس آکسائیڈ ،گیسولین وغیرہ ہیں جو مضر صحت ہیں۔دیکھا جائے تو یہ سب توانائی بنانے والے بڑے ذرائع سے بنتی ہیں۔اب جس دور میں ہم رہ رہے ہیں ان ذرائع کے استعمال کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ہاں انکے نقصانات جو کہ فضا میں موجود اوزون کی تہہ کو کمزور کرتے ہیں انکو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ گاڑیوں اور صنعتی ضروریات سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ درختوں کی کثرت سے ختم کی جا سکتی ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہیکہ صنعتیں لگانے میں جو درخت کاٹے جاتے ہیں انکو دوبارہ لگانے کا کوئی رواج نہیں ہے۔

اسی طرح انسانوں و جانوروں کے فاضل مواد اور اشیاء خوردونوش کے گلنے سڑنے سے جو میتھین گیس فضا میں تحلیل ہوتی ہے اسکو بائیو گیس کے پراسس سے استعمال کر کے اس سے مزید توانائی بنائی جا سکتی ہے اور اسی طریقہ کار کو دوہرانے سے بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔جیسا کہ اس سے بجلی بنا دی جائے تو بجلی کم ازکم فضا میں آلودگی کا باعث نہیں ہو گی۔اسی طرح اس توانائی کو کوئی بھی برقی و مکینیکل شکل دے دی جائے تو فائدے کے ساتھ نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

ایسے پراجیکٹس چھوٹی سطح پہ بھی چلائے جا سکتے ہیں لیکن بہترین طرز پہ شروع کرنے کے لئے کوئی بھی حکومت وقت عوام کو ایسا کرنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔کہنے کا مقصد صرف اتنا ہیکہ اگر کارآمد چیزیں بنانا ممکن ہے تو ان سے پیدا ہونے والے مضر اثرات جن سے فائدہ لیا جا سکتا ہے اُن کو فضا میں تحلیل کرناسراسر زیادتی ہے۔

صنعتوں کی چمنیوں سے مضر صحت تحلیل ہونے والی گیسیں اگر ری سائیکل کر کے استعمال کی جائیں تو فائدہ مل سکتا ہے۔ہاں اس میں اضافی خرچ آئے گا لیکن اضافی فائدہ بھی تو ہو گا؟بڑی بڑی صنعتوں سے خارج ہونے والی کاربن اگر ذخیرہ کر لی جائے تو اسکے بھی ہزاروں استعمال نکل آئیں گے۔اسی ضمن میں حال ہی میں ایک دلچسپ قانون سازی نظر سے گزری۔

برطانیہ نے باقاعدہ قانون سازی کر کے یہ عہد کر لیا ہیکہ 2050 تک وہ اپنی فضا میں کاربن کو زیرو کر لیں گے۔کتنی بڑی بات ہے نا؟گو کہ ایسا 100 فیصد کرنا انتہائی مشکل ہو گا لیکن ایک ہدف کو پانے کا تہیہ کر لیا گیا ہے۔اس بابت اُنکو 2035 سے 2040 تک تمام گاڑیوں کو پٹرول یا تیل سے الیکٹرانک کرنا پڑے گا اور بجلی و دیگر توانائی پیدا کرنے کے لئے ایسا نظام بنانا پڑے گا جو گرین ہاؤس گیسز کو دوبارہ استعمال کر کے ایسے ناکارہ کرے کہ فضا میں کاربن کی مقدار کم سے کم ہو۔پھر بھی اس صنعتی دور میں کاربن کو  اگر روکا نا جا سکے تو انکو ڈیڑھ سے دو ارب درخت چاہیے ہونگے۔

2008 میں انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 1990 کے مقابلے میں فضا سے 80 فی صد تک کاربن کو ختم کریں گے۔جو اب بڑھا کے 100 فی صد خاتمے کے ساتھ زیرو کاربن کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔دنیا کی ساتویں بڑی معیشت کو اس پراجیکٹ پہ کام کرنے کے لئے کل اخراجات کا دو فیصد سالانہ اس پہ خرچ کرنا پڑے گا۔مزید ہر سال اس میں اضافہ کیا جائے گا۔

ذرا سوچیں جو ہدف انہوں نے 2050 میں حاصل کرنا ہے اسکو مکمل کرنے کے لئے کتنے روزگار کے مواقع نکلیں گے؟یہ ہوتی ہے وہ بصیرت جو عوام اور عام انسان کے فائدے سوچتی ہے جبکہ ہم آج بھی تیس چالیس سال پرانے پلندے حل نہیں کر سکے۔ایک عام سا سوال ہے۔وہ یہ کہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں ایسے کتنے پراجیکٹس ہیں جن میں 2050 یا 2080 تک پلاننگ کر کے ایک بہتر پاکستان کی تصویر اپنے لوگوں کو یا دنیا کو دکھائی جا رہی ہے؟

صرف باتوں کی حد تک نہیں کہ فلاں فلاں معرکے انجام دیں گے،عملی کون کون سے کام ہم شروع کر چکے ہیں جن سے ایک عام آدمی مستفید ہو گا ؟ اگر حکومت کا کام گزشتہ حکومتوں پہ کیچڑ اچھال کے اپنی اگلی حکومت کی راہ ہموار کرنا ہی ہوتا ہے تو پھر ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں