دھیرکوٹ تشدد کیس کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، کاشف میر) آزادکشمیر کے دھیرکوٹ شہر کے نواحی علاقے ہل سرنگ میں ایک جونیئر معلم کو کچھ افراد کی طرف سے نیم برہنہ کر کے تشدد کرنے کا واقعہ گزشتہ ماہ 8 جون کو پیش آیا، سدھیر عباسی کو بطور معلم کام کرتے ہوئے 19 سال ہو چکے ہیں اور شادی شدہ ہونے کیساتھ اسکی ایک بیٹی بھی ہے۔ذرائع کے مطابق گاوں سرنگ دھاوی میں دو بھائیوں صبور احمد عباسی اور ریاسف عباسی نے سرکاری سکول میں تعینات سدھیر عباسی کو ایک خاتون کے گھر پر نیم برہنہ کر کے تشدد کیا، اس کے سر اور چہرے پر موجود بال اور بھنویں کاٹ ڈالیں، ویڈیو میں سدھیرعباسی پر الزام عائدکیا جارہا تھا کہ اس نےانکی رشتہ دار ایک خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کررکھے ہیں، تشدد کے باوجود نیم برہنہ شخص اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا۔

واقعے کےبعد ہل سرنگ سےتعلق رکھنے والے علاقے کے معززین نےجرگہ کر کےاس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے فریقین سے ان کا موقف سنا اور تمام ثبوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ تحریر کیا وہ سٹیٹ ویوز نے حاصل کرلیا ہے۔دوسری طرف اس طرز کے جرگے کو دپٹی کمشنر باغ نے غیر قانونی قرار دیا ہے.جرگے کےفیصلے میں لکھا گیا ہےکہ 11 جون کودونوں فریقین نے جرگے میں پیش ہو کر دادرسی اور انصاف کی درخواست کی۔جرگہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ فریق اول غلام مصطفیٰ عباسی نے موقف اختیار کیا کہ اس کا چچازاد بھائی محمد شعیب گزشتہ 9 ماہ سے سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار تعینات ہے۔اس کی اہلیہ دھاوی کے علاقے میں اپنے 4 بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہے۔ غلام مصطفیٰ کے مطابق 8 جون کو سدھیر عباسی اپنی بیوہ بہن کےگھر دھاوی میں آیا تھا، رات 11 بجے انکی رشتہ دار سدرہ بی بی کےگھر میں سدھیر عباسی داخل ہوا تومیرےچچازاد بھائیوں صبوراحمد عباسی اورریاسف عباسی نے اس کو خاتون کے گھر میں نازیبہ حالت میں پایا جس پر دونوں بھائیوں نے اس کو پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ غلام مصطفیٰ عباسی نے جرگے سے درخواست کی کہ وہ سدھیر عباسی کے خلاف کاروائی کرے۔

جرگےکوبیان قلمبند کراتے ہوئے صبورعباسی اور ریاسف عباسی نے بتایا کہ مجھے کچھ رشتہ دار خواتین نے بتایا تھا کہ سدھیرعباسی اور سدرہ بی بی کے درمیان ناجائز تعلقات ہیں۔عید کے چوتھے دن جب سدھیر عباسی اپنی بیوہ بہن کے گھر آیا تو ہمیں اس کا علم ہوگیا، ہم نےرات کوسدرہ بی بی کےگھرکےباہرجھاڑیوں میں شپ کرسدھیرعباسی کا انتظار کیا،11 بجےکےبعد ہم نے سدرہ بی بی کے کمرے کے باہر پہنچ کر آوازیں سنی تو ہم نے مرد کی آواز سنتے ہی کمرہ کھول دیا، اس وقت خاتون اور سدھیر عباسی برہنہ حالت میں تھے، ہم نے خاتون کو کپڑے پہنائے جبکہ سدھیر عباسی کو باندھ کراسے لاتیں اورمکے مارے۔ ہم نےسدھیر عباسی کے بال اور بھنویں موندھ ڈالیں اورویڈیو بنائی۔ خاتون کے بچوں نے شور مچایا تو ہم سدھیر عباسی کو باہر کھیت میں لے گئے۔ہم نے اپنے بھائی شاہزیب عباسی کو بھی فون کر کے بلا لیا جو دیگررشتہ داروں جندی نثار، مزمل نثار اوراویس نسیم کو ہمراہ لائے، سدھیر کو کپڑے پہنائے چھوڑ دیا۔

جرگےکےسامنے بیانات قلمبند کراتے ہوئےسدھیر عباسی نے بتایا کہ میں ہل کا سکونتی ہوں ، عید کے چوتھے دن اپنی بہن سے ملنے اس کے گھر دھاوی میں گیا۔کھانے اور نماز عشا کے بعد میں الگ کمرے میں لیٹ گیا تو ساڑھے نو بجے مجھے صبور عباسی اور ریاسف عباسی نے ایک نا معلوم نمبر سے کال کی اور میرے والد اور سدرہ بی بی کی والدہ کے درمیان ہونے والے پرانے لین دین بارے پوچھا، اور کہا کہ سدرہ بی بی صبح گجرانوالہ جارہی ہےلہزا ابھی آ کر اپنی رقم لے جائیں۔

میں کال کے کچھ دیر بعد ہی قریب واقعہ سدرہ بی بی کے گھر پہنچا جہاں صبور احمد اور ریاسف عباسی پہلے سے موجود تھے۔ریاسف نے میراموبائل چھین لیا۔ دونوں بھائی مجھے پکڑ کر اندر ایک کمرے میں لے گئے۔ سدرہ بی بی بھی اس وقت وہاں موجود تھی۔ کمرےمیں صبوراورریاسف کے علاوہ ایک تیسرا نقاب پوش شخص بھی موجود تھا۔تینوں اشخاص نے مجھے ڈندوں اور لاتوں سے مارا۔ ۔مار پیٹ کے دوران سدرہ بی بی ان افراد کو منع کرتی رہی کہ اس کو میرے گھر پر مت ماریں۔ میں نے اپنے بھانجے کے کپڑے پہنے ہوئےتھےجو دوران مار پیٹ پھاڑ دیئےگئے۔مجھے برہنہ کرکے رسی سےباندھ دیا گیا۔2 بجےصبور احمدنےکال کرکے اپنے بھائی شاہزیب اور دیگر افراد کو بلایا۔ مجھے برہنہ حالت میں اپنی ہمشیرہ کے گھر لایا گیا جہاں میں نے کپڑےپہنے۔شاہزیب نے مجھے دیکھ کر کہا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن جو کچھ ہوا اس کی تشہیر نہیں کرنی۔

سدرہ بی بی نےجرگےکو اپنا بیان قلمبند کرتے ہوئے صبور عباسی اور ریاسف عباسی کے الزامات کی تردید کی۔ سدھیر عباسی جب رات کو میرے گھر آیا تو اس نے مجھ سے پیسوں کے بارے میں پوچھا۔مجھے علم نہیں تھا کہ کسی نے سدھیر عباسی کو کال کر کے میرے گھر بلایا ہے۔ابھی سدھیر عباسی کمرے میں بیٹھا ہی تھا کہ صبور عباسی اور ریاسف عباسی کمرے میں پہنچ گئے اور سدھیر عباسی کو مارنا شروع کردیا۔سدھیر عباسی نے میرے ساتھ کوئی غلطکاری نہیں کی اور نہ ہی میں اس کے ساتھ برہنہ حالت میں تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ ویڈیو یا تصاویر ضرور بناتے۔ سدھیر کی ویڈیو بنائی گئی ۔

تمام فریقین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد جرگے نے تحریری فیصلہ سامنے لایا جس میں لکھا گیا تھا کہ محمد سدھیر عباسی اور سدرہ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی نسبت شرعی اور قانونی تقاضوں پر اراکین جرگہ نے تفصیلی سماعت کی۔ گواہان کے بیانات، پیش کردہ ویڈیو کلپس کی روشنی میں فائل اورمفعول کوفعل کرتےہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی اس نسبت کوئی نا قابل تردیدثبوت شہادت میسر آیا۔ اور نہ ہی خاتون اور سدھیر عباسی کے ایک وقت میں برہنہ ہونے کا کوئی ثبوت ملا ہے۔حالات اور واقعات کے تناظر میں محمد سدھیر عباسی اور سدرہ بی بی کو برے فعل کامرتکب قرار نہیں دیاگیا۔تاہم رات کےاس وقت دونوں کا ایک کمرے میں موجودہونا انکی نیت اور ارادے کی بھرپورعکاسی کرتا ہے۔ جرگہ اراکین نے سدھیر عباسی کو پڑھا لکھا اور تدریسی شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ رات کےاس وقت اس کا خاتون کےگھر میں اس کےکمرے میں موجودہونا اخلاقی یا قانونی جوازیت نہیں رکھتا اس لیےمعاشرتی بہتری کیئے سدھیر عباسی کو یہ سزا سنائی گئی کہ اہل علاقہ ہل سرنگ،دھاوی، ڈھیر، بلند کوٹ ایک سال تک اس کا مکمل سوشل بائیکاٹ کریں گے۔سدھیر عباسی کو مبلغ 2 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کیا گیا اور محمد سدھیر عباسی اس یونین کونسل میں عرصہ دو سال تک تدریسی خدمات نہیں دے سکے گا۔پنچایئت نے سدرہ بی بی کو سزا سناتے ہوئے تحریر کیا کہ عرصہ چھ ماہ تک سدرہ بی بی بھی اپنے علاقے کی کسی خوشی غمی میں شریک نہیں ہو سکیں گی اور سدرہ بی بی کا اب سدھیر عباسی سے کبھی بھی رابطہ نہیں کریں گی۔

پنچایئت کے فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ صبور احمد اور ریاسف عباسی واقعہ کے رد عمل میں سدھیر خان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا منہ کالا کرنے سمیت بال اور بھنویں موند ڈالیں، یہ عمل قانون کی نظر میں جرم کی حد تک پہنچتا ہے۔اگر صبور اور ریاسف اس حد تک نہ جاتے تو جرگہ اراکین، سدھیر اور سدرہ بارے مزید سخت فیصلہ کرتے۔فیصلے میں صبور ،ریاسف اور دیگر کو پابند کیا گیا کہ وہ ویڈیو کلپس کی کہیں بھی تشہیر نہیں کریں گے۔

سکول ٹیچر سدھیر عباسی نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتےہوئےبتایا کہ مجھےجان بوجھ کر پھنسایا گیا۔قرض کی رقم واپسی کیلئےمجھے خاتون کے گھر بلایا گیا اوروہاں مجھے برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سدھیر عباسی نے کہا کہ میں نے ابتدا میں خاموشی اس لیے اختیار کی تھی کہ صبور اورریاسف عباسی نے تشدد کرتے وقت میری ویڈیو بنا لی تھی۔ مجھ پر لگایا گیا الزام بے بنیاد ہے۔ جرگے کے سامنے بھی اسی لیے پیش ہوا تھا کہ مزید بدنامی نہ پائے لیکن ان لوگوں نے میری ویڈیو سوشل مڈیا پر وائرل کر دی۔ اس لیے اب میرے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں رہا۔ سدھیرنےبتایا کہ جرگے کےفیصلےسےمیں مطمئین نہیں تھا کیونکہ جرم بھی ثابت نہیں ہوا اورانہوں نےمالی جرمانے سمیت دیگر پابندیاں عائد کر دیں جبکہ بلاجواز تشدد کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی لیکن علاقے کےمعززین کے سامنے انکار نہیں کرسکتا تھا لیکن جب دوسرے فریق نے فیصلے کی خلاف ورزی کی تو میں اب پورا حق رکھتا ہوں کہ انصاف کیلئے پولیس اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاوں۔ سٹیٹ ویوز نے کیس بارے صبور عباسی اور ریاسف عباسی سے بھی رابطہ کر کے موقف جاننے کی کوشش کی ہے لیکن تاحال رابطہ نہیں ہو سکا ہے.

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ اس کیس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزادکشمیر میں جو چاہے اپنی عدالت لگا دے اور من مانے فیصلے کرے۔ جرگہ لگانے والوں کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے اور اس واقعے کی شفاف تحقیقات بھی ہونی چاہیے۔ ماہرین نے کہا کہ جہاں ہمارےمعاشرےمیں اجنبی مردوخواتین کےتعلقات کودرست طورپربراسمجھاجاتا ہےوہاں کسی کی چاردیواری پھلانگنا بھی قانون کی نظرمیں جرم ہوتا ہے۔ اب پولیس کیس رجسڑرڈ کرے اور عدالت اس کیس سمیت جرگے کی قانونی حیثیت اور چاردیواری کی خلاف ورزی بارے اپنا فیصلہ دے۔

ڈپٹی کمشنر باغ سردار وحید سے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس کے بارے میں اتنطامیہ آگاہ ہے اور انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر دھیرکوٹ اور پولیس کو اس واقعہ بارے پیش رفت کی ہدایت دے رکھی ہے۔سردار وحید خان نے بتایا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو سرکاری معلم سدھیر عباسی نے اس تنازعے کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی حامی بھری جبکہ کیس پولیس کے پاس رجسٹرڈ نہیں کرایا گیا۔ ہماری معلومات کے مطابق مقامی معززین نے اس مسلے کو حل کرادیا تھا لیکن اب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدسکول ٹیچرسدھیر عباسی تھانے میں رپورٹ درج کر کے قانونی کاروائی کرنا چاہتا ہے جس کا اسے پورا حق حاصل ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر آج درج ہوجائے گی اور پولیس تفتیش کرے گی جبکہ عدالت نے فریقین کی شماعت اور شواہد کے بعد فیصلہ کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر باغ نے جرگے کی قانونی حیثیت بارے سوال کے جواب میں کہا کہ جرگے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہےاور نہ ہم انتظامیہ جرگوں کی اجازت دیتی ہے۔ اب یہ کیس عدالت میں جائے گا تو عدالت تمام پہلووں کو مد نظر رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں