kabeer bukhari
فکر/ عبدالکبیر شاہ بخاری

نیلم کے جنگلات،بے دریغ کٹاو اور بچاؤ کی تدابیر

جنگلات قدرت کا انمول خزانہ ہے ۔ مخلوقات خدا وندی کی زندگیوں میں جنگلات کا اہم رول ہے۔ جنگلات کی ضرورت اور فوائد پر اگر بات کی جائے تو عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے ۔جنگلات زندہ رہنے کے لئے آکسیجن مہیا کرتاہے۔ عام طور ایک جاندار درخت دن میں 2 سے 10 بندوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے ، ہوائی آلودگی کم کرتا ہے ، آواز کی آلودگی کو کم کرنے میں جنگلات کا اہم رول ہے۔ درخت انسانیت کو خوراک مہیا کرتا ہے جیسے فروٹ وغیرہ ۔ جنگلات ہمیں دوائی کے طور پر بھی کام آتے ہیں اور کینسر جیسی مضحر بیماریوں کے علاج میں مدد کرتے ہیں۔

جنگلی حیوانات کی کثیر تعداد جنگلی درختوں کے پھل اور پتے کھا کر زندگی بس کرتے ہیں۔تقریباً 300 ملین لوگ دنیا میں جنگلات پر زندگی گزارتے ہیں جس میں تقریباً 60 ملین لوگ جنگلات کی لکڑ استعمال کرتے ہیں۔سخت دھوپ میں مخلوق خدا درختوں کے سائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ درخت کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ انسانی جسم سے خارج ہونی والی کاربن ڈائی اکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کر کے انسان کو آکسیجن مہیا کرتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کو کنٹرول کرتا ہے۔

CO2 لکڑ، پتوں میں پایا جاتا ہے اورکئی سالوں تک یہ اپنے اندر موجود رکھتا ہے۔ گنے جنگلات بارش برسانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جنگلات کی جڑیں سیلاب کے دوران زمینی کٹاو کو روکنے کے لیے کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔لینڈٖ سلائنڈنگ کو کم کرتے ہیں۔درخت نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ یہ بے زبان تخلیقِ خدا انسان دوست بھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے جس (مسلمان ) نے درخت کا پودا لگا یا اور اس کی دیکھ بھال کر کے پروان چڑھایا ، تو جب تک لوگ ، جانور اور پرندے اس کے سائے تلے بیٹھتے رہیں گے اور اس درخت کا پھل کھاتے رہیں گے یہ درخت اس مسلمان کے لیئے صدقہ جاریہ کا کام دیتا رہے گا۔

جنگلات کے جہاں اور فائدے ہیں وہاں درخت جنگلی جانوروں اور پرندوں کی زندگی کے لئے ضروری ہیں، تیز ہوائوں کی رفتار کو کم کرتے ہیں جس سے فصلوں کو کم نقصان ہوتا ہے۔چرند پرند کی افزائش نسل کے لیے جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ جسطرح پرندے حشرات کو کھاتے ہیں اور دیگر بڑے جنگلی جانور چھوٹے جنگلی جانوروں کا شکار کرتے ہیں گنے جنگلات کی وجہ سے انکی حفاظت ہو سکتی ہے۔ جنگلات اپنی افزائش نسل کو اپنے ہی تیار کردہ بیج سے برقرار رکھتا ہے۔جنگلات سے فرنیچر وغیرہ بھی تیار کرتے ہیں۔

UN کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 ملین لوگوں کو روز گار ملتا ہے۔جنگلات علاقے کی خوبصورتی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔وادی نیلم کشمیر کی ایک خوبصورت ترین وادی ہے۔ٹھنڈی آب و ہوا۔ خوبصورت پہاڑ، بہتے چشمے، سرسبز و شاداب درخت،آلودگی سے پاک و صاف فضاخلق خدا کو تخلیق کائنات کا پیغام دی رہی ہے۔وادی نیلم کا آغاز چلہانہ سے شروع ہوتا ہے اور تاوبٹ گریس تک دریا نیلم کے کنارے کنارے دلکش نظاروں کی وادی ہے۔ وادی نیلم زمینی نوعیت کے اعتبار سے کافی مشکل اور پھیلی ہوئی وادی ہے۔

نیلم کی آبادی 2017 ؁ء میں 191,000 ہے۔یہاں قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ کافی مقدار میں سر سبز و شاداب جنگلات بھی پائے جاتے ہیں۔ٹوریسٹ کے حوالے سے ایک خوبصورت حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ 1947 ؁ء سے لیکر ابھی تک گریس اور وادی نیلم سے کافی مقدار میں قدرتی وسائل(لکڑی،قیمتی جڑی بوٹی،قیمتی پتھر وغیرہ) سے نہ صرف پورا آزاد کشمیر مستفید ہورہاہے بلکہ پاکستان کے تمام صوبے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔عالمی سطح پہ قدرتی حسن اور سرسبزہ نیلم کی پہچان ہے ۔ علاقے کی خوبصورتی کا انحصار سرسبزہ اور جنگلات پر ہے۔

2003 ؁ئ(اعجاز السلام ڈار) کی ایک رپورٹ کے مطابق نیلم لوات میں 52 قسم کے ایسے درخت موجود ہیں جن کو وہاں کے مقامی باشندے دوائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔نیلم کا 40% رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔تقریباً 200 قسم کے درختوں پر لوکل آبادی کا گزر بسر ہے۔نیلم میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن سے کاغذ حاصل کیے جاتے ہیں جسے عام پر پر برج (برُزول ) کا نام دیا جاتا ہے۔ اپر گریس کے پہاڑی علاقے (لوسر، دُرمٹ، گگئی) جیسے علاقوں میں یہ درخت موجود ہیں۔اس کاغذ کو کسی فیکٹری میں لائے بغیر پیکنگ اور لکھائی کا کام لایا جاتا ہے۔

نیلم میں برف بھاری کے لیے جنگلات کا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ سردیوں میں جہاں کئی کئی فٹ برف پڑھتی ہے وہاں بڑے بڑے درختوں کے نیچے جنگلی جانوروں نے اپنے ٹھکانے بنائے ہوتے ہیں۔ نیلم میں گنے جنگلات کی بدولت جب بھاری بر ف باری ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف نیلم مستفید ہوتا ہے بلکہ گلیشروں کے پگھلنے سے پورا پاکستان سیراب ہوتا ہے۔ نیلم میں دیودار جیسے خوبصورت 200 سال پرانے درخت اپنے حسن اور خوشبو کے انمول خزانہ ہیں۔دریاوں کے کنارے بڑے بڑے پتھروں میں دیودار کے لمبے لمبے درخت جب اپنے نیچے بیٹھنے والوں کو سایہ میسر کرتے ہیں تو دور دراز کراچی اسلام آباد سے آئے سیاح حضرات چیخ چیخ کر پکارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کشمیر جنت بے نظیر سے کم نہیں۔

نیلم کے پھل دار درختوں کا پھل جب کسی کو نصیب ہوتا ہے تو وہ اللہ کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ماحولیاتی آلودگی کے لیے نیلم کاجنگلات ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔نیلم میں پائے جانے والے ٹھنڈے شربت نما چشمے، بہتے ندی نالے اور دریا نیلم کی مقدار وہاں کے جنگلات ہی کی بدولت ہیں۔ لیکن صد افسوس آ ج ان اشجار اورجنگلات کا دشمن ہم سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ہمارے ہاتھوں تو اب کسی انسان کی جان ومال محفوظ نہیں حالانکہ فرمان خداوندی ہے کہ جس نے بلا وجہ ایک انسان کو قتل کیا، تو اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا تو ایسی کربہہ صورت حال میں ہم درختوں سے دشمنی پر کمر بستہ ہوںتو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟

1947 ؁ء سے لیکر دور حاضر تک نیلم کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی کیا داستان لکھوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھکیدار بدلتے رہے لیکن واردات ایک ہی رہی۔اپر گریس میں فرم جنگلات کی کٹائی جو 1988 ؁ء میں ہوئی جب ٹھیکدار غائب ہوا تو ہزاروں مکعب فٹ لکڑ زمین بوس ہوئی اس سے نہ صرف جنگلات کا نقصان ہوا بلکہ وہاں کی آنے والی نسلوں کا بھی شب خون مارا گیا۔اے کلاس کے ٹینڈر سالوں سال چلتے رہے اور نیلم کا جنگل کٹتا رہا۔ بے یارو مدد گار نیلم اپنے آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کے مستقبل کو آگ لگتے دیکھتے ہی دیکھتے رہے۔وہ جنگلات جن میں جانے سے دن کو ڈر لگتا تھا وہاں اب دھوپ میں سایہ بھی میسر نہیں ہوتا! ہائے ظلم کی داستان ِ سفر ہائے۔۔۔

آج ہم شہروں سے تو درختوں کا تقریبا ً صفایا کر چکے ہیں ،دیہات میں بھی پہلے کی نسبت کم کم دکھائی دیتے ہیں اور پھر جنگلوں کو بھی درختوں سے محروم کر کے توخود اپنے آپ کو اجاڑرہے ہیں۔مکانوں کی تعمیرات اور ایندھن کے طور پر جنگلات کا کٹاو نیلم جنگلات کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ جنگلات کے کٹاو سے جہاں دیگر نقصانات ہیں وہاں لائن آف کنٹرول کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔حکومت نے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی روک تھام کے لیئے کچھ اقدامات نہیں اٹھائے ۔ بجائے حفاظت کے آئے روز نئے سے نئے لاکھوں فٹ جنگلات کی کٹائی کے ٹینڈر اخباروں سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف وہاں کی خوطوبصورتی پر شب خون ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو اپاہج پیدا کرنے کی ایک سازش ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کو پیدا کرنے کی ایک سازش ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور پیداوار کے سلسلے میں حکومتی اقدامات اشد ضروری ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ مقامی طور پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جائیں۔ بہ قول شاعر ۔پڑی اپنی برائیوں پہ جب نظر ۔۔۔۔۔تو نگہ میں کوئی برانہ رہا۔ جنگلات کے بے دریغ کٹاو سے نہ صرف صحت مند درخت سے محروم ہوتے ہیں بلکہ اسکی نقاصی سے نئے اُگنے والے معصوم پودوں کو بھی مسلہ جاتا ہے ۔ ایک درخت کو تیار ہونے میں کئی کئی سال لگتے ہیں اور اسے گرانے میں چند منٹ درکار ہوتے ہیں۔ پہلے پہل ہاتھوں سے چلائے جانے والے آرا کو جنگلات کے کٹاو کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اب الیکٹرک چینسا سے چند پیسوں کی خاطر جنگلات کی کٹائی کی جاتی ہے۔

ہمیں چایئے کہ ہم دوسرں کو مورد الزام ٹھہرانا کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی جھانک کر دیکھیں۔خواہ وہ حکومت ہو یا ہمارا گلاسڑا نظام۔ ، ہم گھریلو ضروریات میں ؎ لکڑی کے استعمال کو کم کرکے درختوں کی غیر ضرور ی کٹائی سے اجتناب کریں تو مطلوبہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔اس لئیے علاقے کی تعمیر وترقی ہو یا جنگلات کی کٹائی کی روک تھام اور پیداوار، عوام اور حکومت کے باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ، اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیع دیے بغیر ترقی کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی ۔نیلم کے جنگلات کے بچائو کے لئے چند سفارشات گوش گزار کرتا چلوں:۔
٭نیلم کے لوکل ہائیڈل پاور سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی لوگوں کو سبسڈی کی طور پر دی جائے تاکہ ہر سال تقریباً 30 ہزار درخت جو ایندھن کے طور پر کاٹے جاتے ہیں بچ سکیں۔فی گھرانہ ماہانہ بجلی بل 500 سے زیادہ نہ ہو۔
٭تمام کمرشل کٹینگ پر پابندی ہو ۔ نیلم میں موجود ووڈ انڈسٹریز پر پابندی لگائی جائے۔
٭نیلم کے جنگلات کو جوائینٹ فارسٹ مینجمنٹ کے ذریعے مقامی آبادی کے اشتراک سے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
٭بین الاقوامی سطح پر قائم کاربن کریڈیٹ فنڈ کے حصول کے لیے کوششیں کی جائیں۔
٭ سونامی گرین پاکستان پر استعمال ہونے والی رقم کو نیلم میں فری ایندھن پر استعمال کیا جائے جس سے تیار صحت مند درخت بچ سکتا ہے چونکہ ایک نیا پودا تیار ہونے میں کئی سال لگتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ تیار درخت کو بچایا جائے۔
٭ تعمیراتی نقشہ کو تبدیل کیا جائے جس سے کم سے کم جنگلات کا استعمال ہو۔

وقت حاضر میں جہاں الیکڑانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا معاشرے میں اپنا پورا کردار کرتے ہیں۔ وہاں نیلم میں جنگلات کٹائی کی حالت زار کی تصویر کشی کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ ایوانوں تک اس آواز کو پہنچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ریاست کے اسی ستون کی وساطت سے نیلم کے عوام کی یہ آواز کہ ہمارا قصور کیاہے !حال ہی میں نیلم کے جنگلات کٹاو کا جو ٹینڈر ہوا ہے اس کو روکنے کے لئے جن نیلم کے سپوتوں نے عدالتوں کا رخ کیا ہے حکومت وقت انکا ساتھ دے اور اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔ نیلم کے نوجوان اس تحریک میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم عالمی برادری ، حکومت پاکستان ، حکومت آزاد کشمیر سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے حال پر رحم فرماتے ہوئے نیلم کے جنگلات کے تمام ٹینڈر منسوخ کریں ، آئندہ کسی بھی قسم کا ٹینڈر نہ کیا جائے اور عوام علاقہ کی زندگیوں کو آسان بنانے میں مدد کی جائے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں