نقطہ نظر/سدرہ

صحافی کا حقائق سے پردہ اٹھانا جرم کیوں بن جاتا ہے؟

تحریر: سدرہ

حقائق سے پردہ اٹھانے والوں کو اکثر تشدد کا نشانہ بنا کر یا کسی بھی حربے کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ نیوز کی فوٹیج بنانے پر صحافیوں کو سخت رویہ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایک صحافی پر ہونے والے تشدد کی انکوائری کمیٹی تو بنا دی جاتی ہے مگر تفتیش سے پہلے ہی تاخیری و دیگر حربے استعمال کر کے یا پھر صلح کے لئے دباؤ ڈال کر واقعے کو وہیں ختم کر دیا جاتا ہے۔ انتظامی اداروں کی اس عدم توجہی کے باعث صحافیوں پر مختلف طبقات کی جانب سے تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ دکھائی دے رہا ہے جس پر حکومتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ پریس کلب انتظامیہ اور یوننز نمائندگان بھی چپ سادھ کر خاموش تماشائی کا کردار باخوبی نبھا رہے ہیں ۔

ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے جس کی ایک مثال دنیا ٹی وی چینل کے رپورٹر وسیم ناصر کی ہے، ویسم ناصر نے ابدالی روڈ پر ڈیوٹی دیتے ڈولفن فورس کے اہلکاروں کو ایک راہ گیر پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا تو وہیں رک کر موبائل نکال کر خبر کی غرض سے فوٹیج بنانا شروع کی تو ڈولفن فورس کے اہلکاروں نے راہ گیر کو چھوڑ کر اسے ویڈیو بنانے پر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے وسیم ناصر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابدالی روڈ پر دوران کوریج جب ٹریفک وارڈنز عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے تو میں نے موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی کوشش کی اس دوران ڈولفن فورس کے چار اہلکار بھی آگئے جنہوں نے پوچھا آپ ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں انہیں بتایا کہ دنیا ٹی وی سے میرا تعلق ہے اور انہوں نے کہا کارڈ دکھاؤ جب کارڈ دکھایا تو ایک وارڈن والے نے کارڈ کھینچ لیا جبکہ دوسرے ڈولفن والے نے موبائل فون کھنچ لیا ، اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور زبردستی رکشے میں بٹھا کر تھانے لے جانے کی کوشش کی ، اطلاع پر دیگر میڈیا کے کولیگ بھی موقع پر پہنچے اور پولیس گردی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔

دنیا ٹی وی چینل ملتان کے بیورو چیف نعمان خان بابر کا کہنا تھا کہ رپورٹر وسیم ناصر پر اہلکاروں کی جانب سے کئے گئے تشدد کی اطلاع ملتے ہی سی پی او ملتان موقع پر پہنچ گئے تھے اور صحافیوں کی گرم جوشی کے باعث اہلکاروں کونوکری سے برطرف کرنے کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے موقع پر ہی فیصلہ سنا کر۲ وارڈنز اور 4 ڈولفن اہلکاروں کو معطل کر دیا لیکن پولیس نے بھی سخت کاروائی کی بجائے انہیں چند روز بعد ہی بحال کر دیا تھا یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد کے واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں۔

صحافی جام بابر کا کہنا تھا کہ پریس کلب انتظامیہ، یوننینز عہیداروں اور صحافیوں میں گروپ بازیوں کے باعث ملتان میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جب تک صحافیوں میں اتفاق نہیں ہو گا اسی طرح تشدد کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ صحافیوں پر ہونے والے تشدد کا یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے بلکہ ۲۰ سے ۲۵ صحافی اب تک تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ادارہ پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف ) کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۱۸ برس میں ملک بھر میں ۱۰ صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ۲ کو صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور حملوں میں قتل کیا گیا اور ۹۸ صحافی زخمی ہوئے اس طرح ۵ کو حراست اور ۹ کو حنس بے جا میں رکھا گیا جبکہ ۲۶ صحافیوں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ ۱۶ کو اغوا کیا گیا اور ۳ صحافیوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں بھی کیا گیا اور ان پر تشدد اور جان لینے کی کوشش کی گئ اور ان میں سے کئی واقعات کو عالمی طور پر بھی پذایرائی تو ملی تاہم بیشتر واقعات میں صحافیوں پر حملہ کرنے والے ملزموں کے بارے میں علم نہیں ہو سکا اور پولیس جیسے متعلقہ ادارے اپنے آئینی و قانونی فرائض کو بھی پورا کرنے میں ناکام رہے۔

ملتان یونینزآف جرنلسٹ کے صدر ملک شہادت حسین کا کہنا تھا کہ قانون کے محافظوں کی طرف سے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید مذمت کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے جنوبی پنجاب کے صحافیوں کو ہمیشہ ہر حکومت کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ان واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آزادی صحافت اور آزادی رائے کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا ۔ صحافت اور آزادی رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ایسی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

آئینی و قانونی ماہر شیخ محمد فہیم نے کہا ہے کہ صحافیوں کو اپنا کام کرنے میں سب سے پہلے یہ مشکلات درپیش ہوتی ہیں کہ مشکل وقت آنے پر ان کے ادارے بھی انہیں تحفظ فراہم نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی تنخوہواں ، انشورنس اور دیگر ملازمتی سہولیات سے متعلق جس طرح اپنے ادارے کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتے اسی طرح اپنے تحفظ کے لئے درج کرائے گئے مقدمات کی پیروی بھی نہیں کر سکتے جبکہ پولیس کی جانب سے قانونی موشگافیوں کے باعث کوئی بھی مقدمہ داخل دفتر کر دینا یا خارج کر دینا نہایت آسان ہوتا ہے اور بہت سے کیسوں میں اس کے خلاف عدالتوں سے بھی ریلیف نہیں ملتا ہے۔

سی پی او ملتان کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر دوران کوریج تشدد انہتائی شرمناک عمل ہے اس کے خاتمے کے لئے اقدمات کئے جا رہے ہیں جبکہ وسیم ناصر کے کیس پر ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان صلح طے پاجانے کے باعث انکوئری ختم کی گئی۔ صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات ایک تشویشناک عمل ہے ان واقعات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات کے ساتھ ساتھ واقعات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے ۔ نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں