نقطہ نظر/سدرہ

صحافی کی زندگی سے بڑھ کر خبر اہم کیوں ؟

تحریر: سدرہ

صحافی بڑا ہو یا چھوٹا چاہے اس کا تعلق کسی اخبار سے ہو یا چینل سے، اچھی اور بڑی خبر کے حصول میں گرمی ، سردی، حالات کی سختی ، خطرات سے لاعلم اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سرگرداں رہتا ہے ۔ مگر پھر بھی صحافی کی خبر کی تلاش کی بھوک کبھی نہیں مٹتی اور یہ ایک ایسی بھوک ہے جو کئی بریکنگ نیوز دینے کے باوجود کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جاتی ہے ۔ ہر ادارے کے صحافی کو بریکنگ نیوز دینے کے لئے تو نوکری شروع ہوتے ہی کہنا شروع کر دیا جاتا ہے مگر انہیں یہ تک تربیت نہیں دی جاتی کہ خبر کو حالات اور لاحق خطرات کے پیش نظر کس طرح، کب اور کیسے نشر کیا جائے۔

ملک بھر کی طرح ملتان کے صحافیوں کو بھی ایڈیٹرز اور بیوروچیفس اور ادارے کے اعلیٰ افسران کی جاب سے خبر کو سب سے پہلے اور مثتند خبر نشر کرنے کے لئے تو زور دیا جاتا ہے مگر ان کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جاتے نہ ہی ادارے کی جانب سے صحافیوں کی سپورٹ کے لئے کوئی پالیسی بنائی جاتی ہے ایسے ہی ایک واقع کی مثال ایک مقامی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین اکرام شاہین اور رپورٹر جام بابر کی ہے جن کی گاڑی کا خبر کی تلاش میں تیز رفتاری کے باعث حادثہ ہو گیا مگر ادارے کی جانب سے زخمی صحافیوں کو سپورٹ کرنے کی بجائے نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔

کیمرہ مین اکرام شاہین کے مطابق سال ۲۰۱۳ میں اچانک خبر کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر دفتر سے خبر کی تلاش کے لئے شروع ہونے والا سفر کیسے اختتام پزیر ہو گا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ملتان کے نواحی علاقہ مظفر گڑھ میں ایک گھر میں گھریلوناچاقی پر شوہر کی جانب سے بیوی اور دو بچوں کے قتل پر سردیوں کی رات کو ۱۱ بجے کے قریب ملتان سے مظفر گڑھ بریکنگ نیوز کے چکر میں گاڑی کی ۱۲۰ کی سپیڈ میں جاتے ہوئے اچانک مقامی ٹی وی چینل کی گاڑی تیزرفتاری کے باعث پل چناب پر حادثے کا شکار ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں ڈرائیور اور رپورٹر معمولی زخمی جبکہ کیمرہ میں اکرم شاہین دونوں ٹانگوں سے معدزوری کے ساتھ ساتھ شدید زخمی ہو گیا ۔ جس پر ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے عارضی طور پر تو سپورٹ کیا گیا مگر بعد ازاں جسمانی معذوری کے باعث ادارے نے بے یار و مدگار چھوڑ کر نوکری سے بھی برطرف کر دیا گیا۔

جب اس حوالے سے ادارے کی انتظامیہ سے موقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی بھی قسم کا موقف دینے سے انکار کر دیا ۔رپورٹر جام بابر کا کہنا تھا کہ حادثہ اور کیمرہ مین کی انتہائی تشویشناک حالت دیکھ کر دل میں خوف پیدا ہو گیا تھا اس خوف سے نکلنے کے لئے کئی مہینے لگ گئے تھے۔ میڈیا انڈسٹری میں تمام الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا دونوں کو ویسے تو تمام ملازمین کو خاص کر رپورٹرز، اینکرز پرسنز، پروڈیوسرز، کیمرہ مین اور انجینرز کو کسی بھی وقوعہ کی کوریج کرنے سے پہلے جانی تحفظ کے لئے تربیت ضرور دیا جائے تاکہ دوران کوریج تمام صحافی کسی بھی ناگہانی واقع سے محفوظ رہ سکیں۔

ملتان یونین آف جرنلسٹ جنرل سیکرٹری انجم خان پتافی کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے جانی و مالی تحفط کے لئے تربیت کے فقدان کے باعث صحافیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہونے والے تشدد، ہراسمنٹ اور دیگر حادثات جیسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان واقعات کی روک تھام کے لئے یوننیز بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کررہی ہیں۔

صحافی ملک یوسف عابد سے جب صحافیوں کے تحفظ کے لئے تربیت کے فقدان کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صحافیو میڈیا انڈسٹری میں ملازمین کو نوکری پر رکھنے کے پہلے ہی دن سے صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ریسکیو، پولیس ، ٹریفک وارڈنز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح تربیت دی جائے تو دوران ڈیوٹی صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔

صدر ملتان پریس کلب شکیل انجم کا کہنا تھا کہ پریس کلب انتظامیہ صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظرصحافیوں کے تحفظ کے لئے دیگر پرائیویٹ اداروں کے ساتھ مل کر تربیت دینے کا انتظام کر رہی ہے جس میں فنڈز کی کمی کے باعث چند صحافیوں کو تربیت دی جائے گی، ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے تمام ایڈیٹرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ہر خبر سب سے پہلے اور مستند نشر کریں جس کے باعث ایڈیٹرز رپورٹر کو کسی بھی واقعہ کی کوریج کے لئے مزید آگے جانے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن ایسی صورتحال میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر صحافی کو مدد کی کوئی پالیسی نہیں بتائی جاتی کیونکہ ادارے کو صرف اور صرف لالچ ہوتی ہے تو بریکنگ کی یہی وجہ ہے کہ ہر ادارہ اپنے رپورٹرز کو بریکنگ کی دوڑ میں سب سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں۔

صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف ) کے اکھٹے کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ ۱۸برس میں اب تک ۷۳ صحافی اپنی جان کی بازی ہار گئے جن میں سے ۴۸ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ۲۵ صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران ابدی نیند میں سلا دیا جبکہ ۱۸۵ صحافی زخمی ہوئے، ۸۸ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، ۲۲ صحافیوں کو اغوا، جبکہ ۴۲ صحافیوں کو حراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا گیا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح صحافتی قواعد و ضوابط کے ساتھ صحافتی ادارے ایک صحافی کے تحفظ کے لئے اصلاحات کرے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خبر سے زیادہ بطور انسان ایک صحافی کی جان زیادہ اہم ہے تاکہ دنیا بھر سمیت پاکستان میں صحافیوں کے عدم تحفظ کے واقعات کی بجائے ان کی ذہنی صلاحیتوں کو تقویت ملے اور ذمہ دارانہ اور تحقیقاتی صحافت کو پنپنے کا موقع مل سکے کیونکہ ایک صحافی اس وقت ہی بہترین کام کر سکتا ہے جب وہ معاشی، سماجی، اور جانی تحفظ کے حوالے سے مطمن ہو نہ کہ سسک سسک کر اپنی زندگیاں بسر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں