قلم تلوار/عنصر شہزاد عباسی

مجاہد اول کی چوتھی برسی کی تقریب

بطل حریت،بطل جلیل ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما، تحریک آزادی کشمیر کے بانی مجاہد،درجنوں کتابوں کےمصنف،استادالاساتذہ، عظیم روحانی شخصیت،ریاست کی شان ریاست کی پہچان سابق صدر و وزیر اعظم آذاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سابق چئیر مین قومی کشمیر کمیٹی مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان رحمتہ اللہ علیہکی چوتھی برسی غازی آباد میں مزار قائد کے احاطہ میں منعقد کی گئی-

اس کے علاوہ ریاست بھر میں سرکاری سطح پر مجاہداول کی برسی کی تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں عظیم کشمیری رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
برستی کی تقریب میں تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کی مرکزی قیادت جن میں سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر ،پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر ، جماعت اسلامی کے سابق امیر ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی،جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنما ممبر اسمبلی سردار اسد ابراہیم،مسلم کانفرنس کے صدر مرزا شفیق جرال، وزیر حکومت سردار میراکبر خان،ممبران اسمبلی صاحبزادہ پیر علی رضا بخاری،ملک ممحد نواز ،سردار سغیر چغتائی مذہبی اکابرین سماجی تنظیموں وکلاء ،تاجروں غرض ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ریاست کے عظیم رہنما مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان کے مزار پہ حاضری دی –

دعائیہ محفل میں شامل ہوئے اور عظیم مجاہد رہنما کی مذہبی جہادی سیاسی و ملی خدمات پہ ان کو خراج عقیدت کیا اس موقع پر قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان اور سردار میجر نصراللہ خان سٹیج سے کلمات طیبہ کا ورد کرواتے اور باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے مخصوص جگہوں پر بیٹھنے کی ہدایات اور خوش آمدید کہتے رہے جبکہ سردار عثمان علی خان،سردار عفان علی،راجہ ثاقب مجید، سردار افتخار رشید سمیت مقامی رہنما مین گیٹ پر آنے والوں کا استقبال کرتے رہے-

مجاہداول کے ایصال ثواب کے لیے پورا سال ریاست بھر اور پاکستان میں دینی مدارس میں علماء کرام، قرآن پاک کی تلاوت کرواتے ہیں درود شریف اور کلمات طیبہ کا انفرادی اور اجتماعی سلسلہ پورا سال جاری رہتا ہےاور سال کے بعد برسی کے موقع پر سردار عتیق احمد خان صاحب کے تعین کردہ افراد کے پاس ان کی تفصیل درج کروا کر اختتامی دعا میں شامل کروائے جاتے ہیں میرے ناقص خیال کے مطابق دنیا بھر میں شاید ہی اتنی بڑی تعداد میں کسی فرد کے لیے ایصال ثواب کیا جاتا ہو اس کا تمام تر سہرا یقیناً سردار عتیق احمد خان کو جاتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے-

“ہونہار بروا کے چیکنے چیکنے پات”
یہ بات وہاں موجود ہر اک فرد کے علاوہ مختلف پیر خانوں کے گدی نشین حضرات اور علماء کرام کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی کہ ایک اندازے اور شمار کے مطابق 1 لاکھ 25 ہزار سے زائد قرآن مجید لوگوں اور مختلف مدارس اور خانقاون کی جانب سے ایصال ثواب کے لیے مِل کیے گئے لاکھوں کی تعداد میں سورہ یاسین اور کروڑوں کی تعداد میں دور پاک اور کلمات طیبہ مجاہداول کے ایصال ثواب کیا گیا –

اس موقع پر پیچھے سالوں سے تعداد میں کئی گنا اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ۔یقیناً یہ برسی کے نام سے منسوب تقریب پوری طرح عرس مبارک اور روحانی اعتبار سے ایک منفرد پُرنور مجلس ہوتی ہے۔سلسلہ دیوبند کے معروف رحانی شخصیت پیر چراغ الدین شاہ صاحب نے گذشتہ سال دعا کے دوران گفتگو کرتے کہا تھا کہ مجھے بات کرتے ہوئے خطرہ ہے کہ کل مولوی حضرات مجھ پہ فتوی بازی کریں کہ لیکن اللہ کو حاضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجاہد اول کے وصال کے میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایک بہت بڑے محل میں ہیں جو بلندی پر واقع ہے-

جہاں چاروں اطراف فیوض و برکات کی نہریں بہتی ہیں اسی طرح اس مرتبہ پیر سید غلام یاسین شاہ صاحب نے بھی ایک خواب سنایا جو مجاہداول کے وصال والے دن کا ہے جب شاہ جی مدینہ منورہ مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھےگذشتہ سال رولاکوٹ یا کسی اور علاقہ کے مجاہد اول کے مزار پہ تعینات پولیس اہکار کی زبانی مزار کے پاس ہونے والے واقعات بھی سب کو معلوم ہیں ان سطور پہ ان باتوں کا نہ چاہتے ہوئے بھی ذکر ہو گیا-

لیکن اس بار ریاست بھر میں تمام جماعتوں اور حکومت آذادکشمیر کی جانب سے سرکاری سطح پر مجاہداول برسی کی تقاریب منعقد کی گئیں ۔اس سے ثابت ہوا ہے کہ مجاہداول ریاست کے اندر قائداعظم کی طرح عزت وتکریم کامقام رکھتے ہیں وہاں ریاستی اخبارات سوشل میڈیا پر بھی عظیم قائد کو خراج عقیدت کا سلسلہ جاری رہا-

اپنا تبصرہ بھیجیں