نقطہ نظر/سردارعلی شاہنواز خان

آزاد کشمیر کے وسائل پر کون کتنا اختیار رکھتا ہے ؟

چند روز قبل کوہالہ پراجیکٹ کے حوالے سے ایک خبر نظروں سے گزری جس میں لکھا تا کہ ” چیف سیکرٹری کے ڈنڈے کے سامنے آزاد حکومت بے بس” ۔
یہ سرخی آزاد حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔ ایسے الفاظ حکومتی بے بسی کے ساتھ عوامی بے عزتی کا سبب بھی بنتے ہیں کیونکہ جن کو ووٹ دیکر منتخب کیا جائے ان کو ریاست کا ایک ملازم ڈنڈے کے روز پر سیدھا کرنے کی بات کرے تو عوامی رائے کی توہین ہوتی ہے۔ اس سرخی سے واضح ہوتا ہے کہ آزاد حکومت کتنی با اختیار ہے اور وسائل پر کس قدر حق رکھتی ہے۔

آزاد کشمیر میں وسائل کے اعتبار سے ہائیڈل (پانی ) پہلے نمبر پر ہے جس پر بجلی پیدا ہوتی ہے اور کئی علاقوں میں زراعت کیلئے یہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم بجلی کی حد تک ہی بات کریں تو اس وقت آاد کشمیر2500 میگا واٹ کے قریب بجلی پیدا کر رہا ہے جس میں سے آزاد کشمیر کی ضرورت صرف 427 میگا واٹ ہے۔ اگر حکومت کو اس پر اختیار ہوتا تو اس بجلی سے بہترین زرمبادلہ حاصل کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس میں ریاست پاکستان سمیت آزاد حکومت کی بھی کوتاہی ہے۔ اگر پاکستان اور آزاد حکومت کے درمیان پانی کے معاملے پر معائدے دیکھیں معلوم ہوتا ہے منگلا ڈیم کیلئے ہونے والے معاہدے میں آزاد کشمیر کی نمائندگی چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کر رہے تھے جو آزاد کشمیر میں پاکستان کا نمائندے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اسی طرح نیلم جہلم پراجیکٹ مشرف دور میں شروع ہوا تو آزاد کشمیر کو اسٹیک ہولڈر جانے بغیر یہ منصوبہ مکمل کر لیا گیا۔ اس دوران مظفرآباد سے پانی کی کمی اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے کئی آوازیں بھی سامنے آئیں جن کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ اب کوہالہ پراجیکٹ بننے جا رہا ہے تو چیف سیکرٹری ماحولیاتی اثرات اور دیگر معاملات کو اہمیت دیے بغیر ڈنڈے کے زور پر تعمیر کروانے کی بات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل فاروق حیدر کئی مرتبہ یہ دعوی بھی کر چکے ہیں کہ کوہالہ پراجیکٹ کو معاہدے کے بغیر شروع نہیں ہونے دیں گے۔ اب چیف سیکرٹری کی جانب سے ایسا بیان سامنے آنا جہاں حکومتی اہلیت پر سوال اٹھاتا ہے وہیں بیورو کریسی اور لینٹ افسران کی اجارہ داری کو سامنے لایا ہے کس طرح افسران حکومتی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہیں( بیورو کریسی کی اجارہ داری پر پھر کبھی اظہار خیال کیا جائے گا)۔

ایک اور اہم بات آبی وسائل کے حوالے سے ہے کہ جب ڈیم آزاد کشمیر کی حدود میں بنائے جاتے ہیں اور گرڈ اسٹیشن پاکستان کی حدود میں ہوتا ہے تو اس میں آزاد کشمیر کو صرف واٹر یوز چارجز ہی ملتے ہیں اور رائلٹی اس صوبے کو ملتی ہے جس کی حدود میں گرڈ بنایا جاتا ہے اور آزاد کشمیر میں اب تک بننے والے ڈیمز اور زیر نظر منصوبوں میں سوائے نیلم جہلم کے تمام ڈیمز پنجاب یا خیبر پختونخواہ کی حدود میں ہیں جس سے آزاد کشمیر سالانہ اربوں روپے سے محروم رہے گا۔

وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کو اس معاملے میں سوچنا چاہئیے اور آزاد کشمیر کو اس کے وسائل سے اس طرح سے محروم نہ کیا جائے ۔ اس سے قربت کے بجائے دوریاں پیدا ہوں گے جو کسی طور پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ اگر وسائل پر حق کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو فیصلے کرنے کا اختیار دیا جائے تو یہ بہترین عمل ہو گا اور اس سے آزاد کشمیر میں پایا جانے والا احساس محرومی بھی ختم ہو گا جو پاکستان کے حق بہتر ہوگا ۔اس لئے جہاں تیرہویں ترمیم کے بعد کچھ مالی اختیارات دئے گئے ہیں عمران خان آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں ایک اور ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے آزاد کشمیر کے وسائل پر آزاد کشمیر کے عوام کا حق تسلیم کریں اور سیاسی قیادت کے سروں پر بٹھائے گئے لینٹ افسران کی اجارہ داری ختم کرنے میں کردار ادا کریں۔

نوٹ:سردارعلی شاہنواز خان سکینڈینیوین کونسل ناروے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔تنازعہ کشمیر پر جاندار کردارکےباعث انہیں کشمیریوں کا بین الاقوامی سفیر بھی کہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں