تاریخِ بشارت شہید روڈ

آزاد کشمیر کا انتخابی حلقہ ایل اے 13 جو کہ بہت تاریخی اور دفاعی اہمیت کا انتخابی حلقہ ہے، مری پنجاب ،ہزارہ ،کے پی کے اور آزادکشمیر سے گذرنے والے دریا جہلم کے سنگم سے ارجہ باغ اور مظفرآباد کی سرحد تک ملتا ہے،جس میں عباسی ’’ڈھونڈ‘‘ راجپوت ،گجر ،سادات اور دیگر قبائل آباد ہیں۔23 اگست 1947 ؁ء کو تحریک آزادی کشمیر کا آغاز نیلا بٹ کے تاریخی مقام سے کیا گیا اس مقام کو ایل اے 13 میں مرکزی حیثیت حاصل ہے،ہر سال یہاں ’’یوم نیلا بٹ‘‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے،ڈوگرہ راج کے خلاف جب مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان نے تحریک کا آغاز کیا تو 23 اگست 1947 ؁ء کو نیلا بٹ کے مقام پر قرآن پاک پر حلف لیا گیا کہ اپنے خطے کی آزادی تک کوئی شخص اپنے گھر نہیں جائے گا۔

نیلا بٹ ،سیسر،سالیاں،چیڑالہ اور کھپدر کے راستے دریائے جہلم پاسباں کے مقام سے کراس کر کے بیروٹ کے مقام پر مجاہد یعقوب خان عباسی کشمیری حریت پسندوں کی مدد کرتے تھے،عملاََ جہادِ کشمیر میں شریک تھے۔اسی خاندان کے ساجد عباس قریش آج بھی موجود ہیں جو کہ یعقوب خان عباسی کے خاندان کے فرد ہیں۔مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے جانثار تو سارے آزاد کشمیر میں تھے۔مندری ،سالیاں اور سیسر سے ایک ’’سرسٹ کمپنی‘‘ کے نام سے چند سرفروش لوگ تھے جو کہ سردار خان ،مجاہد کالا خان ،افسر خان اور دیگر لوگ تھے۔

سیسر سے سردارالطاف خان عباسی جن کو ’’بابوالطاف‘‘ کے نام سے بھی لوگ جانتے ہیں جو کہ 1947 ؁ء سے قبل مری راولپنڈی اور واہ کینٹ میں اپنے ذاتی کاروبار سے وابسطہ تھے،سردار الطاف صاحب کے والد اپنے زمانے کے بڑے کاروباری شخص تھے،پاکستان بننے سے قبل آریہ محلہ لیاقت باغ کے قریب ذاتی مکان اور جائیداد کے مالک تھے،آج بھی ان کا ’’آریہ محلہ ‘‘میں آبائی گھر موجود ہے۔مجائد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کے جانثار ،وفادار اور محبان میں سردار الطاف خان آف سیسر اور ان کے خاندان کے لوگوں کا نمایاں کردار تھا اور آج تک ہے ،سردار الطاف خان آج بھی مجاہد اول سردار عبدالقیوم کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔

یہ تعلق کسی لالچ،اقتدار،اختیار اور حکومت یا پھر اپوزیشن کی وجہ سے نہ تھا،بلکہ قلبی،نظریاتی اور سیاسی تعلق تھا اور ہے۔سردار الطاف خان عباسی متحرک سیاسی سماجی راہنما ہیں اور اپنے علاقے اور برادری ،عوام الناس کے لئے بے لوث خدمت سر انجام دی۔آج بشارت شہید روڈ کے لئے احتجاج ،دھرنے اور سیاسی شعبدہ بازی کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ آتی ہیں مگر بشارت شہید روڈ کی تعمیر اور آغاز سے آج تک اس میں بے شمار گمنام راہنمائوں کا نام ہے۔اس میں سیسر سے سردار الطاف خان عباسی کا بنیادی کردار ہے،ان کے خاندان اور شریک سفر تاریخی لوگوں نے ہر دور میں اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے جدو جہد کی ،1969 ؁ء میں بشارت شہید روڈ کے حوالے سے تاریخی احتجاج ہوا تھا،جس کی قیادت سردار الطاف خان ،سردار افسر خان،سردار آزاد خان،سردار صندل خان آف چیڑالہ،مجاہد کالا خان لطیف خان آف سالیاں ،اس وقت اس تاریخی احتجاج کے تین بنیادی مطالبات تھے-

غازی آباد سے مناسہ روڈ،سول سپلائی ڈپوچیڑالہ بنانا،بوائز ہائی اسکول چیڑالہ کا مطالبہ تھا جو کہ 1970؁ء میں مجاہد اول سردار عبدالقیوم کی حکومت میں مکمل ہوئے۔ایسے مخلص ،محب وطن ،نظریاتی ،سیاسی و سماجی راہنما ہمیشہ سے مسلم کانفرنس اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے قیمتی اثاثے رہے۔آج جب کہ سیاست اور علاقائی تعمیر و ترقی کو مخالفت برائے مخالفت کے نام تباہ کیا جا رہا ہے،انتخابی سیاست ،برادری ازم ،کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ نے حلقہ غربی باغ کے انتہائی اہم ترین علاقے کو تباہی کا شکار کر دیا ہے۔آج اگر جنازہ،مریض کو ہسپتال لے کر جانا ہو تو بشارت شہید کے قرب و جوار میں رہائشی افراد مسائل اور مصائب کا شکار ہیں۔

چند کلو میٹر کی تعمیر اور علاقے کی بہتری کے لئے اگر کچھ نہیں کر سکتے تو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کیا کریں گے؟۔آج اگر مسلم کانفرنس اقتدار میں نہیں مگر علاقے کی پسماندگی سے سرفِ نظر نہیں کر سکتی مگر گذشتہ تین سالوں سے آزاد کشمیر میں پی ایم ایل این اقتدار میں ہے،جماعت اسلامی کے پاس پبلک اکائونٹ کمیٹی کی چیئر مین شپ ہے مگر ہزاروں دعووں اور وعدوں کے باوجود عملاََ کوئی حکومتی توجہ نہ ہونے سے دھرنہ دیا جا رہا ہے۔علاقائی سیاست اور برادری ازم کی وجہ سے ’’کانڈی‘‘ بیلٹ کو نظر انداز کیا گیا، اس میں یقینا صاحب اقتدار کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پہرے داری کریں۔

مجاہد اول کے سیاسی حانوارے سردار عتیق احمد انتہائی با صلاحیت ہیں،مگر ان کی ترجیح بھی حلقے کی سیاست سے بڑھ کر ملکی اور بین الاقوامی سیاست سے ہے۔سردار عتیق یا پھر کوئی اور راہنما صرف اپنے ووٹ بنک کو دیکھتے ہیں،کانڈی بیلٹ میں چونکہ نظر انداز لوگ ہیں ،پسماندہ اور غریب لوگ ہیں،ان کی آواز شاید اتنی توانا نہیں کہ ارباب اختیار توجہ دیں،مسلم لیگ کانفرنس اور سردار عتیق احمد کو کریڈٹ جاتا ہے کہ کوہالہ سے دھیر کوٹ انتہائی کشادہ اور بہترین روڈ بنائی جس سے صرف 30 منٹ میں کوہالہ سے دھیر کوٹ اور نیلا بٹ تک آسان رسائی مل گئی ،جس سے آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے۔

اس طرح اگر لوئر ٹوپہ سے کوہالہ روڈ کو کشادہ کر کے کارپٹ کیا جا رہا ہے،پی ٹی آئی کی حکومت نے 50 کروڑ کے فنڈز جاری کئے ،اُمید ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں آمدورفت جاری ہو جائے گی۔اس طرح سیسر سے کھپدر پل سے پھگواڑی صرف چند کلو میٹر ہے،کھپدر پل بننے سے بہت فائدہ ہو گا۔پاکستان کے معروف اور تاریخی ہل اسٹیشن سے براستہ لوئر ٹوپہ موٹروے کوہالہ روڈ سے کھپدر سے صرف ایک گھنٹے کے مختصر ٹائم میں نیلا بٹ ،دھیر کوٹ جیسے صحت افزاء مقام پر آ سکتے ہیں۔آج کل بھی کوہالہ پل کے پاس ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں،مگر کوئی محفوظ اور باقاعدہ پکنک پوائنٹ نہیں ہے-

اس حوالے سے بشارت شہید روڈ کی بہت اہمیت ہے جہاں دفاعی نقطئہ نگاہ سے بہت اہم ہے ،وہاں آمدورفت اور سیاحت کے فروغ کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔بشارت شہید روڈ کے ساتھ سالیاں ،مندی،سیسر ،چیڑالہ ،ناڑہ کوٹ،ریالہ اور غازی آباد تک تاریخی اہمیت کے علاقے ہیں،جہاں سے تحریک آزادی کشمیر کے سرفروش مجاہد ،غازی اور شہید بڑی تعداد میں پیدا ہوئے،دور جدید کی تحریک آزادی کشمیر کے لئے جن سیکٹروں میں نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا اس میں بشارت شہید اور ان کے بھائی عابد شہید بھی شامل ہیں۔ان شہداء بھائیوں کا تعلق بھی سیسر کے گائوں سے ہے،’’بشارت شہید روڈ‘‘ بھی ان شہداء کے نام سے منسوب ہے۔

آزادی کشمیر کی سیاست میں جو بہت اچھا پہلو ہے،وہاں رواداری ہے،اخلاق اور حسن سلوک ہے،خوشی غمی میں سیاسی اختلاف کے باوجود شرکت کرتے ہیں،مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو ہمیشہ عزت دی،راجہ ممتاز حسین راٹھور(مرحوم)وزیراعظم تھے،مجاہد اول کو دل کی تکلیف ہوئی تو بچوں کی طرح راجہ ممتاز راٹھور روئے۔آج بھی صرف بشارت شہید روڈ کی تاریخ اور اس میں شامل سیز بزرگ سیاسی و سماجی راہنمائوں کی جدوجہد کا ثمر یہی ہے کہ تمام سیاسی و سماجی مذہبی جماعتیں بلا امتیاز اس میں بھر پور شریک ہوں تا کہ طویل عرصہ تک زیر التواء منصوبے کو مکمل کیا جائے۔پی ایم ایل این ،مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی اپنا بھرپور کردار ادا کریں،’’بشارت شہید روڈ توجہ چاہتی ہے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں