Faisal Bashir Kashmiri
فیصل بشیر کشمیری /نقطہ نظر

لیڈر کی تعریف اور خصوصیات!.

● لیڈر یا سربراہ وہ ہوتا ہے، جو ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہ جو اس کی ریاست، جماعت، ادارے، خاندان، گھر یا محلے و برادری پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔ کرسی اقتدار کی خاطر لوگوں کو علاقائی اور خاندانی تعصب کی ترغیب دینے والا کوئی بھی شخص لیڈر نہیں ہوتا۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ورلڈ بینک کی ملے پانی کے ٹینک یا سڑک کے ٹکڑے پر اپنے نام کی تختی لگوا کر عوام کو بیوقوف بنائے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے اداروں میں قانون سازی کرتا ہے اور مطعقہ اداروں سے کام کرواتا ہے۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو بازار کا چوک بند کر کے مخالفین کو ماں بہن کی ننگی گالیاں بکے، بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مخالفین کے اعتراضات و سوالات کا تحمل مزاجی سے جواب دے، دوسروں کو گالیاں بکنے والا لیڈر نہیں بلکہ ہماری دیسی زبان میں کنکترا اور دمکترا کہلاتا ہے۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ووٹ لینے کے بعد چار سال کے لیے اپنے حلقے سے گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہو جائے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی عوام کے درمیاں رہتے ہوئے ان کے مسائل حل کرے۔

● لیڈر وہ نہیں ہوتا تھا جو کسی جلسہ گاہ کے اسٹیج پر چرس کے نشے میں دھت پڑا دکھائی دیتا ہوں، بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے اٹھنے بیٹھنے کے انداز سے عوام کے دل میں اس کے لئے خود بخود احترام پیدا ہو۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو خود منرل واٹر پیتا ہو اور اس کی رعایا بوند بوند کو ترسے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے بیچ رہے، انہی جیسا رہن سہن ہو، ان کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھے۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو جلسہ گاہ میں کھڑا ہو کر عوام کو بتائے کہ میں آپ کا نوکر ہوں اور جلسہ ختم ہوتے ہی نوکر دو کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر نکل جائے اور پیچھے کارکن دھوتی جھاڑ کر خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوں کہ آج اپنے قائد کو قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہو گیا۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کو مذہب و مسلک کی جنگ میں جھونک دے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مختلف مکتب الفکر یا مذاہب کے افراد کی ایک مشترکہ ٹیم بناتا ہے اور جس کا مقصد ریاست کی فلاح و بہبود ہوتا ہے۔

● لیڈر وہ نہیں ہوتا جو پالشیوں، مالشیوں اور چغل خوروں کی باتوں پہ توجہ دے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے کام کے متعلق حقائق سے باخبر رہے اور اسے پتہ ہو کہ کون سے کارکن کو کون سا عہدہ دینا ہے۔

● لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہر وقت اپنے ماتحتوں کے سر پر سوار رہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جسے اپنے کام کی تفصیلات کا علم ہوتا ہے اور جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا وقت نہیں برباد کرتا۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو اپنے ماتحتوں کو عدم اعتماد میں مبتلا کرے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو ماتحتوں کی ذمہ داریوں سے ضرور باخبر رہے کہ دوسرے کیا کام کر رہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس مت دلایئے کہ آپ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ اس عمل سے کسی لیڈر کے ماتحت عملہ اس پر اعتماد نہیں کرتا اور ٹیم کے لوگ جلد ہی ایسے شخص سے کترا کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

●لیڈر وہ نہیں ہوتا جو منہ پہ کچھ ہو اور پیٹھ پیچھے کچھ بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے وعدے پورے کرے تاکہ لوگ اس پر اعتماد کریں، بار بار یو ٹرن لینے والے لیڈر پر کارکن اعتماد نہیں کرتے۔

نظم و ضبط یعنی ڈسپلن، مثبت سوچ، مثبت عمل، بصیرت، اپنے آپ پر اعتماد، علم، انصاف پسندی، راست بازی، جانچ اور پرکھ، وفاداری، بے غرضی، ہمت و حوصلہ، بھروسہ مندی، قوتِ فیصلہ و برداشت، جوش و ولولہ اور اصول و ضوابط کسی بھی لیڈر کی پہچان ہوتے ہیں چاہے وہ لیڈر گھر کا سربراہ ہو یا کسی شعبہ، ادارے یا ملک و قوم کا۔

اگر آپ لیڈر ہیں تو اچھی طرح، خوب سوچ سمجھ کر خود سے سوال کیجئے۔ ”کیا میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں؟‘‘ اگر جواب نفی میں ملے تو آپ کو علم ہو جائے گا کہ آپ کی کمزوریاں کہاں پوشیدہ ہیں اور کہاں بہتری کی ضرورت ہے اوراگر آپ عام کارکن ہیں تو سوچئے گا کہ کیا میرے لیڈر میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں یا میں ایویں ای عبدللہ دیوانہ ہوں۔

اور ہاں میرے جو عزیز و اقارب، بزرگ و بہن بھائی اکثر پوچھتے رہتے ہیں کہ “فیصل بھائی آپ کا لیڈر کون ہے”، امید ہے انہیں جواب مل گیا ہو گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں