تحریک انصاف کشمیر کی نئی تنظیم سازی نے پارٹی میں بھونچال پیدا کردیا

اسلام آباد(کاشف میر۔ سٹیٹ ویوز)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے صوبوں اور گلگت بلتستان سمیت آزادکشمیر کیلیے تنظیم کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی تنظیم سازی پر جہاں صوبوں میں پارٹی رہنماوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں وہیں آزادکشمیر میں قایم نئی تنظیم بھی خوب زیر بحث ہے۔

گزشتہ روز چیف آرگنائزر کی طرف سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق سابق وزیراعظم آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو ایک مرتبہ پھر پارٹی صدارت سونپ دی گئی ہے۔ قبل ازیں جب پارٹی کی تنظیمیں تحلیل کی گئیں تو تب سے یہ ہبریں گردش کر رہی تھیں کہ بیرسٹر سلطان کی جگہ کسی اور امیدوار کو پارٹی صدارت سونپی جائے گی تاہم بیرسٹر سلطان اپنی پارٹی صدارت بچانے میں تو کامیاب رہے لیکن مرضی کی تنظیم بنوانے میں ان سے مشاورت تک نہیں کی گئی۔

تنظیم کے حوالے سے آزادکشمیر میں پارٹی دو حصوں میں واضح تقسیم نظر آئی۔ سابق چیف آرگنائزر مصدق خان نے پارٹی لیڈرشپ پر دباو رکھا کہ بیرسٹر سے پارٹی صدارت لیکر ان کو دی جائے جبکہ مصدق خان کو پارٹی کے چ دیگر غیر معروف سیاسی رہنماوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔

تاہم جب نئی تنظیم سازی سامنے آئی تو مصدق خان نے اپنی مرضی کے افراد کو عہدیدار تو بنوا دیا لیکن بیرسٹر سے پارٹی صدارت نہ چھین سکے۔ دوسری جانب نئی تنظیم سازی میں پارٹی کے سینئر بانی رہنماء راجہ مصدق کو بیرسٹر سلطان کے ساتھ سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

تنظیم سازی کے دوران خواتین کو اس اہم سیٹ اپ میں مکمل نظر انداز کیا گیا جبکہ پارٹی کے سینئر رہنماء جن کے پاس ایک بڑا ووٹ بنک بھی ہے ان کو مکمل نظر انداز کردیا گیا جن میں سابق وزیر و سابق سینئر نایب صدر خواجہ فاروق کو کشمیر کے سیٹ اپ سے نکال کر مرکزی سیٹ اپ میں ایک غیر اہم عہدہ دیا گیا جبکہ پارٹی کے دونوں منتخب ارکان اسمبلی ماجد خان اور غلام محی الدین دیوان کو بھی پارٹی عہدوں سے دور رکھا گیا ہے اور سابق وزیر گل خنداں۔ سابق وزیر قیوم نیازی۔ سابق وزیر حنیف لالا۔ سابق وزیر سید مرتضی گیلانی سمیت پارٹی کے سینئر و متحرک رہنماوں سردار امتیاز خان۔ راجہ شجاعت۔سردار ندیم آزاد ۔ سردار سوار خان۔ سردار نئیر ایوب۔ راجہ آصف علی۔ خورشیدعباسی و دیگر کو بھی پارٹی کے کشمیر چیپٹر میں ذمہ داری نہیں دی گئیں۔

اطلاعات کے مطابق پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن کے چند متحرک پارٹی کارکنان نے ہنگامی اجلاس کرتے ہوئے نئی تنظیم سازی کو مسترد کر دیا ہے۔

تنظیم ساز ڈی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ میرپور شہر سے ہی پارٹی کا صدر۔ سینئر نایب صدر۔ جنرل سیکرٹری۔ نایب صدر اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری لیے گئے ہیں جبکہ پونچھ ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن سے صرف دو ۔دو عہدیداران لیے گئے ہیں۔ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف کالم نویس و تجزیہ کار کو پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات اور دھیرکوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری شخصیت ذولفقار عباسی کو سیکرٹری مالیات مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن بھی کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیامیں بیرسٹر سلطان کے حامیوں کا موقف ہے کہ سیف اللہ نیازی نے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر عہدوں کی بندر بانٹ کی ہے جس سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ صارفین کے مطابق چند ایسے افراد کو پارٹی میں عہدے دئیے گئے جن کا انتخابات کے حوالے نہ کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی ان کے حلقہ انتخاب میں وارڈ الیکشن جیتنے کی صلاحیت ہے۔ دوسری طرف مصدق خان گروپ نے نئی تنظیم سازی کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے اسے بنیادی کارکنان کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کارکنان کا کہنا ہے کہ نئے عہدیداران کو اب موقع ملا ہے تو وہ انتخابات بھی لڑ لیں گے اور پارٹی کو مضبوط بھی کریں گے۔

ادھر سال 2019ء کے درمیان میں آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔ اس وقت پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی ہیں۔ مسلم کانفرنس سے چند سینئر رہنماء پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ابھی تک اپنے رہنماوں پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ماہرین کی رائے کے مطابق پاکستان میں جس سیاسی جماعت کی حکومت رہتی ہے وہ با آسانی آزادکشمیر میں حکومت بنا لیتی ہے لیکن تحریک انصاف کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت بنانا قدرے مشکل نظر آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں