نقطہ نظر /حماد اخلاق

راولاکوٹ وائرل آڈیو کیس

گذشتہ کچھ ایام سے راولاکوٹ کی ایک آڈیو وائرل ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو اس وقت مسلسل تین روز سے زیر بحث ہے۔ سنجیدہ اور پڑھے لکھے لوگ بھی مسلسل اس آڈیو پر تبصرے کر رہے ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑا کہ اس آڈیو پرنوے سے زائد فیصد تبصرے مزاحیہ ہیں۔ حالانکہ آڈیو کو اگر سنا جائے تو یہ آڈیو مزاح سے کئی زیادہ مزاحمت کی حق دار ہے مگر مزاحیہ انداز ہمارے ایک نئی سوچ جو دبے جذبات کے ساتھ موجود تو تھی مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ہر صاحب عقل مزاحیہ تبصروں کے ذریعے اسے پروموٹ کر رہا ہے۔

راولاکوٹ والوں یاد رکھنا ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ایک خوبصورت ترین لڑکی کے حسن کے مسائل ایک خوبصورت ترین لڑکے کے حسن سے بہت کم ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جس قدر گندی نگاہ سے لڑکوں کو دیکھنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اگر سنجیدہ لوگوں کی سنجیدگی کا بھی اگر یہی عالم رہا تو وہ وقت دور نہیں جب یہ ہوا عام ہو جائے گئی۔ زمانہ جہالیت کی طرح جب لڑکیوں کوفضول سمجھ کرزندہ درگور کیا جاتا تھا۔ اب مائیں خوبصورت بیٹا پیدا کرتے خوف کھائیں گی۔

غلط چیز بلکل غلط ہوتی ہے۔ مذاق کی جگہ اور مذاق کرنے والوں کے درمیان ایک لیول ہوتا ہے اور مذاق بھی وہ اچھی رہتی ہے جو ناگوار نہ گزرے۔
گزشتہ کچھ روز سے جو آڈیو وائرل ہوئی اس میں‌ایک نوجوان بلکل ناسجیدہ گفتگو کر رہا ہے۔ ایک لڑکا دوسرے لڑکے کے حسن وہونٹ کے نقشے کھینچ رہا ہے اور ہم سب کہیں نا کہیں‌ اسکے یہ جذبات پروموٹ کر رہے ہیں۔

واٹس ایپ اور فیس بک پر ہمارے اپنے کئی عزیزو رشتے دار بچے موجود ہیں۔ مختلف گروپوں کی صورت میں یہ وائرل مواد ہر دوسرے آدمی تک باآسانی رسائی رکھتا ہے اور جب ہم اس طرح کے غیر آخلاقی کاموں پر مزاحیہ تبصرے کریں‌ گے اور ہمارے بچے جو اس وقت ہمیں فیس بک واٹس ایپ پر ہمارے حرکات وسکنات دیکھ رہے ہیں ان کے اندر بھی یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے۔

کل معاشرے میں وہ پھراسی طرح کے کردار کے مالک ہوگے۔ ہمارے لیے تو فقط مذاق مگردرحقیقت یہ چیز انکی تربیت کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔اسکے علاوہ وائرل آڈیو کو مختلف ایپ میں ایڈٹ کرکے کم عمر خوبصورت لڑکوں کی ویڈیو کے ساتھ منسلک کرکے بھی کئی ویڈیوز اس وقت تک وائرل ہو چکی ہیں۔کوئی التجا یا درخواست نہیں ہے بس فقط جس لیول میں آپ سوچ رہے ہیں اب یہ بھی سوچیں کہ کل اسطرح کی آڈیوز ویڈیوز آپکے بھائی ، بھانجے ، بھتیجے کی بھی ہوسکتی ہے اور تب بھی ایک تماشہ ہوگا اور اس تماشے کا آپ حصہ نہیں ہونگے-

کیونکہ تب گھر کی بات ہوگی۔ بے شک یہ چہرے راز ہیں صرف آوازیں ہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارےاس طرح کے نیچ مزاحیہ انداز ان چیزوں کو پروموٹ کریں گے تو یہ گھر گھر کا مسلہ بن جائے گا۔ لہذا کہنا یہی ہے کہ غلط چیز غلط ہے۔ اسے مت اتنا پرمووٹ کرو کہ کل کوئی ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کرے۔
یہ معاشرہ ہم سے ہے۔

ہم بہترین معاشرے کی تشکیل دے سکتے ہیں لیکم اس کے لیے بس سوچ و فکر اور اپنے گریبان میں‌جھانکنا ہو گا۔ ہمارے اپنے معاشرے پر ہمارا سب سے بڑا احسان یہی ہوگا کہ ہمیں معاشرے کے بہترین آدمی بن جائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلین ہمین رول ماڈل کے طور پر دیکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں