سردارعلی شاہنواز خان

عمران خان کےدورہ امریکہ سےقبل کیا فیصلے ہوئے؟

وزراعظم عمران خان امریکہ روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کے جانے سے قبل کچھ بنیادی نوعیت کے فیصلے کیے گئے جن کا کوئی پہلے تصور بھی نہیں کرسکتا تھا-
دوسال قبل پاکستان کے اخبار ڈان کے صحافی سیرل المینڈا کی خبر ڈان لیکس کے نام مشہور ہوئی تھی۔

اس میں بھی یہی بات سامنے آئی تھی کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے۔ تاہم یہ آسان کام نہیں کہ ایسے عناصر جن کی ایک عرصے تک ریاست پشت پناہی کرتی رہی یو۔ ان کے کارروائی کر نا آسان کام نہیں۔

حافظ محمد سعید کی جماعت فلاحی کاموں کی وجہ سے عوامی سطح پر کافی مقبول ہے۔ عوامی ہمدردیوں کے برخلاف ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں آسان کام نہیں لیکن اگر ہم بہتری کی جانب جانا چاہتے ہیں تو ایسے عناصر کی پشت پناہی ختم کر کے ریاست کو عوام کیلئے فلاحی کام کرنے ہونگے اور اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی۔

کوئی بھی مہذب یا جمہوری ملک ریاست کےاندر ریاست یا مسلح گروہ قائم
کرنے یا پالنے کی جازت نہیں دیتاہے۔

اب جب کہ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے امریکی دورے سے قبل یہ گرفتاری ایک ٹھوس مقدمے کی بنیاد پر کی ہے تو اس کارروائی کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے تاکہ دہشتگردی کے اس لیبل سے پاکستان کو مکمل نجات مل سکے۔

نوٹ:سردارعلی شاہنواز خان سکینڈینیوین کونسل ناروے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔تنازعہ کشمیر پر جاندار کردارکےباعث انہیں کشمیریوں کا بین الاقوامی سفیر بھی کہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں