نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

فتح کے کئی باپ ہوتے ہیں

ایک بال دو رنز۔۔۔۔۔بہترین کھلاڑی آمنے سامنے۔۔۔۔سنسنی،سسپنس۔۔۔۔۔۔۔دھک،،،دھک،،،دھک،،،،،اربوں لوگ ٹیلی ویژن ،کمپیوٹر یا فون سکرین پہ ٹکٹکی باندھے ہوئےتھے۔کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ ایک بال کی دوری پہ تھا۔50 اوورز کا کھیل برابر ہوا تو بات سپر اوور پہ آئی۔آخری بال دو رنز۔
باؤلر نے بال ڈالی، بیٹسمین نے شارٹ کھیلی ،ایک رنز مکمل کرنے پہ دوسرے کے لئے دوڑا۔فیلڈر نے بال وکٹ کیپر کو پھینکا۔بال وکٹ سے دور تھا لیکن وکٹ کیپر نے نفاست سے پکڑ کے رنز آؤٹ کر دیااور انگلینڈ 2019 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیت گیا۔جینٹلمین کھیل کو جینٹلمین ہی ہار گئے۔جی ہاں نیوزی لینڈ ایک بار پھر ورلڈ کپ فائنل نا جیت سکی۔

آئی سی سی ورلڈ کپ 2019 کا رنگا رنگ میلہ کچھ غیر یقینی اور کچھ دلچسپ نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔کروڑوں شائقین کرکٹ کو اپنے ممالک کے ہارنے سے تکلیف ملی جبکہ کروڑوں کو اپنے ملک کے منتخب کھلاڑیوں کی کارکردگی سےجیت کی صورت یا کچھ کو ہار کی صورت بھی طمانیت ملی۔کھیل اندھا ہوتا ہے۔یہ قومیت یا جذباتیت کے تابع نہیں بلکہ آخری پل تک ہار نا ماننے والوں کا یار ہوتا ہے۔کرکٹ کے اس حالیہ میلے پرسوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پہ بے شمار لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔کچھ نے بارش کے باعث اضافی دن مانگا تو کسی نے ایمپائرنگ اور سپر اوور کے قانون کو مذاق کہہ ڈالا۔

لیکن جو جیت گئے اُنکو کسی قانون یا کسی فیصلے سے اختلاف نہیں۔وہ بس جی بھر کے اس جیت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہیکہ اس ایونٹ سے جن ممالک میں زیادہ ردعمل دیکھنے میں آیا وہ ایشین ممالک ہی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی جیت جاتا تو سالوں تک بس ورلڈ کپ نظر آتا رہتا جیسا کہ 92 کا ورلڈ کپ اب خواب میں بھی آ جاتا ہے۔ایسے معاملات میں نقائص دنیا بھول جاتی ہے۔ یاد رہتا ہے تو صرف حاصل شدہ ہدف۔

بہرحال آئی سی سی کے 2019 کے اس ایونٹ میں برطانیہ فاتح قرار پایا۔سیمی فائنل سے ہارنے والی ٹیموں کے لئے 16 لاکھ ڈالرز یعنی فی کس 8 لاکھ ڈالرز کا انعام تھا،فائنل کی رنر اپ ٹیم کے لئے 2 ملین ڈالرز جبکہ فاتح ٹیم کو جیت کی خوشی اور چمپئن کے ٹائٹل کے ساتھ 4 ملین ڈالرز انعام دیا گیا۔جو پاکستانی کرنسی میں موجودہ 63 کروڑ 80 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ٹوٹل 10 ملین ڈالر کے انعامات بانٹے گئے جس میں پہلے سٹیج سے نکلنے والوں کو دیے گئے انعامات بھی شامل ہیں۔
ایک سروے کے مطابق 2.6 ارب لوگوں نے اس ایونٹ کو براہ راست دیکھا۔

ویسے تو کھیل کے میدان میں اگر پروفیشنل کھیل میسر ہو تو اس میں دیکھنے اور کھیلنے والوں کے لئے بےشمار سبق ہوتے ہیں۔لیکن میرے لئے اس ورلڈ کپ کا فائنل بہت دلچسپ ثابت ہوا کیونکہ عرصے بعد کھیل کے کسی میدان سے اتنے سارے سبق اکھٹے سیکھنے کو ملے ۔اپنی اپنی ناراضگیاں سائیڈ پہ رکھ کر تھوڑا غور فرما تے ہیں۔50 اوورز کے کھیل میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف 241 رنز بنائے۔انگلینڈ کی بیٹنگ لائن فارم میں ہونے کے باعث یہ ہدف بہت معمولی لگ رہا تھا۔لیکن نیوزی لینڈ کی مایہ ناز باؤلنگ اور کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ کے پریشر میں یہ ہدف بھی آسمان نظر آنے لگا۔لگاتار گرتی وکٹوں کے پیش نظر یہ میچ نیوزی لینڈ کی گرفت میں نظر آ رہا تھا۔

لیکن پھر ‘بن سٹوکس’ اور بٹلر کی پارٹنرشپ سے مقابلہ دلچسپ ہوتا نظر آیا۔بٹلر بھی میدان چھوڑ گئے اور ان کے بعد آنے والے بھی یہ جا اور وہ جا ہوئے۔لیکن ‘سٹوکس’ دیوار بن گیا۔جی ہاں یہ وہی ‘سٹوکس’ تھا جس نے 2016 میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کے آخری اوور میں لگاتار چار چھکے کھا کے جیتا ہوا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کو دے دیا تھا۔اس وقت مجھ سمیت بے شمار لوگوں نے یہ کہا کہ اسکا تو کیرئیر ختم ہو گیا۔لیکن نہیں،ایسا نا ہو سکا۔لگاتار محنت اور لگن سے کھیلتے کھیلتے آج وہی ‘اسٹوکس’ نیوزی لینڈ کے خوابوں کی راہ میں چٹان بن گیا۔کیونکہ اس کو خراب کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹیلنٹ کی بنیاد پہ کھیلنے کا موقع دیا گیا۔

جیسے تیسے کر کے اس نے میچ برابر کروا ہی لیا اور سپر اوور بھی برابر ہوا تو زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پہ انگلینڈ فاتح قرار پایا-یہ وہی سٹوکس ہے جسکے بارے میں 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ہارنے پہ برطانیہ کے ایک اخبار نے لکھا کہ،”اگر سٹوکس کہیں زندہ ہے تو وہ یہ جان لے کہ اسکی وجہ سے انگلینڈ یہ ورلڈ کپ ہار گیا ہے”۔ایسا الزام تو ملک سے غداری کے مترادف ہے یا اس کو خودکشی پہ مائل کرنے کا ایک حربہ بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ وہی سٹوکس ہے جسکو 2019 میں کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں مین آف دی میچ دیا گیا۔

سب کچھ بدل گیا۔جو جو اسکے خلاف بولے تھے سب اس کے حق میں بولنے لگے-یہی زندگی ہے۔بالکل ایسے ہی ایک عام آدمی کی زندگی بھی ہے جسکی ہار کو کوئی نہیں اپناتا اور اسی کی جیت میں سب کریڈٹ لینے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہیکہ ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کیلئے صرف اور صرف کامیاب ہونے والے شخص کی محنت،لگن اور یقین کا کردار ہوتا ہے۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ شکست یتیم ہوتی ہے اور فتح کے کئی باپ ہوتے ہیں۔اس کہاوت کی اصلیت کوئی سٹوکس سے پوچھے۔

دوسرا دلچسپ مرحلہ وہ آخری لمحہ تھا جب فیلڈر نے بال وکٹ کیپر سے تھوڑا دور بھی پھینکا لیکن کیپر نے نہایت نفاست سے اس پریشر کے لمحے میں جس طرح بال پکڑ کے رنز آؤٹ کیا وہ لمحہ ہر شخص کی زندگی میں آتا ہے۔ذرہ سی لغزش ذرہ سا دھیان کا ہٹ جانا اسکو چمپئن سے زیرو بنا دیتا۔میچ کا اختتام اعصابی جنگ میں آخری لمحے تک لڑنے والے کے یقین سے ہوا۔بہرحال ہار جیت ہر کھیل کا حصہ ہوتا ہے۔

اس میں ہمارے  لئے سمجھنے کے لئے یہ ہیکہ ناکامی کتنی بھی بڑی کیوں نا ہو زندگی کا اختتام نہیں ہوتی۔صرف ایک موقع اور اس میں لگن سے کی گئی کوشش وقت بدل دیتی ہے۔وہ موقع اگر آپکو زمانہ نا دے تو اسکو خود بناؤ لیکن مایوسی اس لئے موت کے مترادف ہے کیونکہ یہ کفر ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ کامیاب لوگوں کی لوگ دعوتیں کرتے ہیں اور انکے آگے پیچھے گھومتے ہیں کہ نظر کرم پڑتی رہےاور اکثر پیٹھ پیچھے بولتے بھی ہیں کہ فلاں کامیاب شخص کی کامیابی میں فلاں فلاں کارنامے میرے ہیں۔

کیا کبھی آپ نے دیکھا کہ کسی ناکام شخص کی ناکامی پہ کسی نے دعوت کی ہو؟یا کسی نے تسلیم کیا ہو کہ اسکی ہار میں اُسکا بھی حصہ ہے ؟نہیں دیکھا ہوگا اور شاید دیکھ بھی نا سکیں کیونکہ ہم لوگ اب بغیر فائدے والا کوئی کام نہیں کرتے۔جبکہ انسانیت کا تقاضہ یہ ہیکہ ناکام لوگوں کی دعوت کرنی چاہئے اور انکی مایوسی کو امید میں بدلنے کی کوئی تو کوشش کرنی چاہئے۔نہیں تو ہمیشہ کی طرح شکست یتیم اور فتح کے کئی باپ اپنی نسلیں بڑھاتے رہیں گے۔

                           

اپنا تبصرہ بھیجیں