چوہدری نثار کی تحریک انصاف میں شمولیت

لاہور (ویب ڈیسک) چوہدری نثار سے زیادہ ملاقات نہیں ہے مگر اُن کے لئے میرا خیال بہت اچھا ہے۔ وہ جرأت اور استقامت کا پیکر ہیں۔ دو چار دن پہلے انہیں سینے میں درد ہوا اور انہیں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں منتقل کیا گیا۔ میں دل و جان سے اُن کے لئے دعا گو ہوں۔نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ وفا اور حیا والے آدمی ہیں۔ ایسے لوگ ہماری سیاست میں کم کم ہیں۔ کئی بار نواز شریف سے ان کے سیاسی مسائل پیدا ہوئے۔ آج کل بھی وہ کہیں نہیں ہیں۔

وہ سات آٹھ سے زیادہ بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ کہیں کسی حلقے سے دوسری بار بھی منتخب ہونا بھی بہت دشوار ہوتا ہے۔ اُن کی ذاتی دوستی عمران خان سے ہے۔ وہ غالباً ایچی سن کالج میں کلاس فیلو تھے۔ بالآخر انہیں تحریک انصاف میں آنا پڑے گا۔ یہاں انہیں عمران خان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران خان ڈکٹیٹر لگتے ہیں مگر ہیں نہیں۔ نواز شریف ڈکٹیٹر ہیں مگر لگتے نہیں ہیں۔ عمران خان میانوالی ہو کر آ گئے ہیں۔ یہ بھی کافی ہے۔ یہ عمران کا بڑی دیر سے ارادہ تھا اور وعدہ تھا۔ وعدہ نجانے کس کے ساتھ تھا۔

شیخ رشید وزیر ریلوے کی کوشش بھی تھی میانوالی سے ایک لگائو تو عمران خان کو ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو بھی ہو گا مگر مجھے معلوم نہیں نمل یونیورسٹی تو وزیراعظم سے پہلے کی بات بھی ہے۔ یوں بھی جو کام عمران خان نے ملک و قوم کے لیے کئے ہیں وہ بھی وزیراعظم بننے سے پہلے کی بات ہے۔ ورلڈ کپ‘ شوکت خانم ہسپتال وغیرہ مگر عمران خان کو وزیراعظم بنانے والے مایوس نہیں ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی پاکستانی ججوں کو بدنام کر رہے ہیں یہ سیاسی طریقہ نہیں۔ خاقان عباسی آج کل سیاست تو کر نہیں رہے ہیں کہتے ہیں ایک جج پکڑا گیا-

باقی بھی کئی پکڑے جائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ ججوں کو پکڑوانے کے لیے عباسی صاحب کی کوشش جاری رہے گی۔ آج کل خاص طور پر وہ اسلامی دور کی سلطنت عباسیہ کا مطالعہ بڑے ذوق و شوق سے کر رہے ہیں۔ مگر ان بادشاہوں میں ابھی تک اُن کے جیسا وزیراعظم یعنی حکمران یعنی ’’بادشاہ‘‘ خاقان عباسی صاحب کو نظر نہیں آیا۔ نواز شریف کے بعد ان کی نظر نہیں ٹھہرتی۔

آج کل مریم نواز کی وجہ سے وہ کچھ اطمینان میں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ سب جھوٹے ہیں۔ اس ضمن میں وہ حکومت اور اپوزیشن میں کچھ فرق نہیں سمجھتے ہیں۔ وہ ’’سچ‘‘ بولتے ہیں مگر آج کل وہ سچ کو بھی جھوٹ سمجھتے ہیں۔ سیاست میں تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ وہ یہ بتائیں کہ چودھری نثار کی موجودگی میں نواز شریف کا سیاسی سچ یہ تھا کہ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا۔مریم اورنگ زیب اور شاہد خاقان عباسی صرف عمران خان کے خلاف بیان بازی کے لیے نامزد ہیں بلکہ مقرر ہیں۔ ان باتوں میں حق ناحق کا کوئی فرق نہیں۔

مریم اورنگ زیب کو مریم نواز لے کے آئی اور شاہد خاقان عباسی کو نواز نے سیاست میں بھجوایا ہے۔ مریم اورنگ زیب کوشش کر رہی ہے کہ مریم نواز سے آگے نکل جائے مگر اس کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔ البتہ مریم اورنگ زیب کے بیانات تعداد میں مریم نواز سے بہت زیادہ ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف کا اعتماد قائم رکھیں جس میں وہ کامیاب ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں