کوئٹہ دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

کوئٹہ (نیوزڈیسک) کوئٹہ بم دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکہ میں 5 سے 6 کلو بارود استعمال کیا گیا جو کہ موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکہ ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ کوئٹہ کے مشہور باچا خان چوک میں سٹی تھانے کے قریب ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں کئی گاڑیوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ دھماکے کے باعث افسوسناک حد تک جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ واقعے میں 4 افراد جاں بحق اور 25 افراد زخمی بھی ہوئی ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 2پولیس اہلکار اور دو شہری شامل ہیں۔ دھماکے کے باعث جانینقصان میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واقعے کے فوری بعد ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاروائیوں کا آغاز کیا، جبکہ سیکورٹی فورسز نے فوری حرکت میں آتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک بم دھماکہ تھا جس میں پولیس موبائل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی دہشتگرد بلوچستان کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ اب سی پیک کا منصوبہ شروع ہونے کے بعدسے بلوچستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اس لیے اس صوبے کا امن خراب کرنے کی دوبارہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سے پہلے بھی صوبے کے حالات خراب تھے لیکن پاک فوج نے آپریشن کر کے تمام شر پسند عناصر کو یہاں سے ختم کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں