اندرون ملک 10 ہزار ڈالر سے زائد لے جانے پر اسٹیٹ بینک کی اجازت لازمی

اسلام آباد(نیوزڈیسک) قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے خزانہ نے شرح مبادلہ ضابطہ جات (ترمیمی بل) 2019ء اور انسدادمنی لانڈرنگ بل 2019ء بعض ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی سے منظوری کی سفارش کی ہے جس کے بعدحکومت ،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے ستمبرمیں حتمی فیصلے میں درکارضروریات پوری کرنے کے ایک قدم اورنزدیک ہوگئی ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئرمین اسدعمرکی زیرصدارت ہوا جس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹرجنرل نے اس بل کے تحت جرمانوں اور طریقہ کاربارے بریفنگ دی۔سٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں غیرملکی کرنسی کی ملک میں ترسیل کے ضمن میںترمیم زیر غورہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 ہزار ڈالر یا مساوی مالیت کی غیرملکی کرنسی کی ملکی نقل وحمل / ترسیل کی اجازت ہوگی۔

کمیٹی نے بل کاجائزہ لینے کے بعد قومی اسمبلی سے بعض ترامیم کے ساتھ بل منظوری کی سفارش کی۔ اگراس نے منظوری دی تو اسٹیٹ بینک کی اجازت لازمی ہوگی جس پراجلاس میں شریک بعض ارکان نے خدشے کااظہارکیا کہ مرکزی بینک کو صوابدیدی اختیارات سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

اجلاس میں انسدادمنی لانڈرنگ بل 2019ء کا بھی جائزہ لیا گیا اورقومی اسمبلی سے بعض ترامیم کے ساتھ بل منظوری کی سفارش کی۔اجلاس میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں نجی قرضوں پرسود کی ممانعت کے ضمن میں بل مجریہ 2019ء کا جائزہ لیا گیا اورفیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں غیرسرکاری تنظیم اخوت اورمائیکروفنانس اداروں کے نمائندوں کو بلا کر جائزہ لیا جائیگا۔

اجلاس میں زرعی پیداوارکے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا ایجنڈا موخر کردیا گیا ۔اجلاس میں مسابقتی کمیشن کی جانب سے سیمنٹ، گندم، چینی، اندرون ملک فضائی کرایوں اورآٹو انڈسٹری کی قیمتوں میں اضافے پربریفنگ بھی موخر کردی گئی۔

خبر ایجنسی کے مطابق کمیٹی نے اینٹی منی لانڈرنگ بل منظورکرتے ہوئے منی لانڈرنگ کی سزائیں اور جرمانے بڑھا دئیے ، ملزمان کو 10سال تک قیدبامشقت ، 50 لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبطی کی سفارشات جبکہ ریمانڈ 90 روز سے بڑھا کر 180 روز کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی ۔ اس وقت منی لانڈرنگ کی سزا ایک سے 10سال تک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں