طیاروں کی رفتار سے بھی تیز ٹرین تیار کرنے کا منصوبہ

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے طیاروں کی رفتار سے بھی تیز ٹرین تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد دور دراز شہروں کے راستوں کو مختصر وقت میں طے کرنا ہے،نئی ٹرینوں کی رفتار 600 سے 800 کلو میٹر ( 373 سے 497 میل ) فی گھنٹہ رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ترکی کی سرکاری ویب سائٹ ٹی آر ٹی نیوز کے مطابق چین نے طیاروں کی رفتار سے بھی تیز ٹرین تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے-

جس کی رفتار 600 سے 800 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور اس سے دور دراز علاقوں کا سفر مختصر وقت میں طے کیا جاسکے گا۔ٹی آر ٹی کے مطابق تیز ترین ٹرین بنانے کا فیصلہ چین کے صوبہ سچوان میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا ، یہ چین کے مغربی شہروں چنگڈو اور چانگنگ کے درمیان چلائی جائے گی جن کی آبادی 50 ملین (5 کروڑ) کے لگ بھگ ہے۔

چینی انجینئرز کا کہنا ہے کہ ٹرین 2020ء میں مکمل کرلی جائے گی اور اس کا پہلا تجربہ 2021ء میں کیا جائے گا۔انتظامیہ کی جانب سے اس ٹرین کو ’اڑنے والی ٹرین‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی لاگت ایک ارب پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں چین نے تیز رفتار ٹرین چلانے کا دعویٰ کیا تھا جو 373 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔چائنا ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن کی مدد سے تیار کی جانے والے ٹرین کی مکمل پروڈکشن 2021ء میں شروع ہوگی جبکہ اسے آزمائشی مراحل سے گزارا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں