خیبرپختونخوا حکومت کا کابینہ میں توسیع کا فیصلہ

پشاور(سٹیٹ ویوز) خیبر پختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں انتخابات کے بعد کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے قبائلی اضلاع سے ارکان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ نئے وزراء کے ناموں کا اعلان وزیراعلی محمود خان کریں گے۔

آزاد ارکان کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی لیکن شرائط رکھنے والوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے نہ کوئی شرط مانی اور نہ شرط رکھی قبائلی انتخابات پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے لیے پارٹی سے رابطہ کرلیا ہے۔

شوکت یوسفزئی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ، ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف مہم کے باوجود پی ٹی آئی نے دیگر سیاسی جماعتوں سے زیادہ نشستیں اور ووٹ حاصل کیے لیکن اپنے ہی پارٹی کارکنوں کی جانب سے مخالف امیدوار کھڑے ہونے پر پارٹی کو نقصان پہنچا اس لیے پارٹی فیصلے کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کے لیے پارٹی سے رابطہ کرلیا ہے۔

صوبائی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید ارکان کی ضرورت نہیں تھی لیکن اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے آزاد امیدواروں کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیر قانون اور میں نے ملاقاتیں کیں اگر وہ بغیر کسی شرائط کے پی ٹی آئی میں شمولیت کرنا چاہتے ہیں تو انھیں خوش آمدید کہا جائے گا لیکن شرائط رکھنے والوں سے ہم نے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہم نے غیر مشروط طور پر آنے والوں کو قبول کیا بلوچستان جمہوری پارٹی میں شامل ہونے والے آزاد ارکان نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہوگا۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ قبائلی اضلاع انتخابات کے بعد کابینہ میں توسیع کی جارہی ہے عید کے بعد نئے ارکان حلف اٹھائیں گے۔

قبائلی اضلاع سے دو وزراء کو شامل کیا جارہا ہے تاہم وزراء کے ناموں کا حتمی فیصلہ وزیراعلی کریں گے مہنگائی کا ہمیں بھی احساس ہے لیکن عوام کو ٹیکس دینا ہوگا ٹیکسوں کے بغیر ملک نہیں چلتا امریکا میں لوگ 60 فیصد ٹیکس دیتے ہیں اور انگلینڈ میں 40 فیصد اور جب لوگوں کی آمدنی بڑھتی ہے وہاں بھی شرح 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

یہاں لوگ 17 فیصد ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں اس کی وجہ لوگوں کا اعتماد ہے۔ گزشتہ حکومتوں پر لوگ اعتماد نہیں کرتے تھے لیکن ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں ان کے ٹیکسوں کا پیسہ لوگوں کی تعلیم صحت پر خرچ ہوگا۔ ٹیکسوں کی ادائیگی کے طریقے کار کو آسان بنارہے ہیں اور ون ونڈو آپریشن شروع کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں