بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر آپریشن کا فیصلہ کرلیا،فیصل محمد

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)فیصل محمد کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے گزشتہ سال امریکہ کے دورے کے بعد اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی وہی پالیسی اپنائے جو پالیسی اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی مسلمانوں کےخلاف اپنا رکھی ہے ۔

اس حوالے سے نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی بھارت کا دورہ کیا تھا جس میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اسرائیل نے پوری پالیسی مرتب کرکے بھارتی حکام کے سپرد کی تھی ۔فیصل محمد نے انکشاف کیا کہ بھارتی مشیرسلامتی امور اجیت دوول نے اسرائیلی مشیرقومی سلامتی اسرائیل جوزف کوہین سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کا سارا نقشہ پیش کیا۔

فیصل محمد نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے عمران خان کی ملاقات اور مودی کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کے بعدکی صورتحال پر مودی کے ہوش اُڑ گئے تھے کہ امریکی صدر نے اس کے حوالے سے انکشاف کرکے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر کردیا ۔

جس کے بعد اسرائیل اوربھارت کے درمیان بیک ڈور رابطے ہوئے جس میں بھارت نے اسرائیل سے مدد طلب کی کہ وہ ٹرمپ کو اس اہم مسئلے کو اُٹھانے سے روکے ۔ جس پر اسرائیل نے بھارت سے کہا کہ وہ جیسے ممکن ہو اسرائیلی پالیسی کو اپنائے ۔امریکی صدر کہیں نہیں جارہا ہے۔

فیصل محمد کا کہنا ہے کہ بھارت صدر کو ہنگامی طور پر یورپ کے دورے سے واپس بلایا گیا جبکہ انہوںنے یورپ کے دورے کے بعد افریقی ممالک کا دورہ کرنا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی صدرہنگامی طور پر واپس آئے جبکہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے بھارت پہنچے۔

اورایک آرڈیننس کے ذریعے کشمیر کی حیثیت ختم کردی ۔ اس حوالے سے پاکستانی حکام اورحکومت کو چاہیے کہ وہ فور ی طور پر ایکشن لیتے ہوئے اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر میں بھارتی جارحیت کےخلاف رجوع کریں

عالمی مصالحت کار فیصل محمد کا کہنا ہے کہ بھارت نے یہ فیصلہ آج نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ دوسال سے کام جاری ہے جس پرپاکستانی حکومت توجہ نہیں دے سکی ۔ فیصل محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اندرونی صورتحال اتنی خراب کردی گئی ہے کہ پاکستان بیرونی معاملات سے دور ہوگیا ۔

اس حوالے سے ہارٹ کورٹ ڈپلومیسی کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہیں ہوسکا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ایک طرف بارڈر پر بھارتی دبائو دوسری جانب افغان بارڈر پر دبائو ۔

اندرونی سیاسی کشمکش اوردہشتگردوں کے وقتاً فوقتاً بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں حملے اس بات کی غمازی ہیں کہ پاکستان اندرنی معاملات میں الجھا رہے اورامریکہ چاروں طرف سے پاکستان پر دبائوڈال کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا رہے ۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پرگلیسٹربم معاملے سمیت وادی کے اندر بگڑتے ہوئے حالات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اُٹھائے تاکہ بھارت مزید کسی جارحیت سے باز رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں