چین نے امریکہ کو پچھاڑ دیا

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی جانب سے اپنی کرنسی کی ویلیو 11 سال کی کم ترین سطح تک گرادی گئی ہے، اس کرنسی ڈی ویلیو ایشن کے بعد ایک امریکی ڈالر 7 چینی ’رین منبی‘ کے برابر ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ چینی کرنسی کا آفیشل نام ’رین منبی‘ ہے اور یو آن اس کا ہی حصہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے کرنسی کی ویلیو میں کمی حالیہ تجارتی جنگ کے باعث کی گئی ہے۔

بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ کرنسی ڈی ویلیو ایشن امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے عائد کیے جانے والے ٹیکسز کا جوابی حملہ ہے۔ ہانگ کانگ میں اوینٹ کیپٹل کے ایم ڈی اینڈریو کولائیر کا کہنا ہے کہ اس کرنسی ڈی ویلیو ایشن سے یہ لگتا ہے کہ سنٹرل بینک آف چائنہ حالیہ تجارتی جنگ کے دوران کرنسی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔امریکہ کے نیشنل ریپبلک ریڈیو کے مطابق ایک کمزور ’رین منبی‘ کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں چینی مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجائیں گی اور یہ امریکی مصنوعات کی سب سے بڑی مقابل کے طور پر سامنے آئیں گی۔

دنیا بھر کی طرح جب چینی مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوں گی تو اس سے امریکہ کے اندر بھی چینی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ ہوگا جس کے باعث امریکہ کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوجائے گا جو پہلے ہی جون کے مہینے میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ڈریساڈ بن نے کہاہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد دیگا ۔

جیونیو ز کےمطابق اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماریہ ڈریساڈ بن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالناہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد دیگا ۔ماریہ ڈریساڈ بن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد پاکستان کے ٹیکس کے نظام اور محصولات میں بہتری بھی ہے ۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ کم ہورہاہے ۔واضح رہے کہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام چھ جولائی کو منظور کیا اور اس کے تحت ایک بلین ڈالر کی رقم فوری طور پر پاکستان کو فراہم کر دی گئی تھی-

جبکہ بقیہ رقم قسطوں میں دی جائے گی جس کے لیے طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر اس کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس کے لیے پاکستان کو آئندہ تین برس تک سخت مالیاتی پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا۔پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے اس پیکج کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کے بعد بین الاقوامی پارٹنر کی طرف پاکستان کو اضافی 38 بلین ڈالرز کی امداد کی فراہمی کی راہ ہموار ہو جائے گی جو آئی ایم ایف کے اس پروگرام کے دورانیے میں دی جا سکے گی۔

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی جانب سے اپنی کرنسی کی ویلیو 11 سال کی کم ترین سطح تک گرادی گئی ہے، اس کرنسی ڈی ویلیو ایشن کے بعد ایک امریکی ڈالر 7 چینی ’رین منبی‘ کے برابر ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ چینی کرنسی کا آفیشل نام ’رین منبی‘ ہے اور یو آن اس کا ہی حصہ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے کرنسی کی ویلیو میں کمی حالیہ تجارتی جنگ کے باعث کی گئی ہے۔ بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ کرنسی ڈی ویلیو ایشن امریکہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے عائد کیے جانے والے ٹیکسز کا جوابی حملہ ہے۔

ہانگ کانگ میں اوینٹ کیپٹل کے ایم ڈی اینڈریو کولائیر کا کہنا ہے کہ اس کرنسی ڈی ویلیو ایشن سے یہ لگتا ہے کہ سنٹرل بینک آف چائنہ حالیہ تجارتی جنگ کے دوران کرنسی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔امریکہ کے نیشنل ریپبلک ریڈیو کے مطابق ایک کمزور ’رین منبی‘ کا مطلب یہ ہے کہ پوری دنیا میں چینی مصنوعات کی قیمتیں کم ہوجائیں گی اور یہ امریکی مصنوعات کی سب سے بڑی مقابل کے طور پر سامنے آئیں گی۔ دنیا بھر کی طرح جب چینی مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوں گی تو اس سے امریکہ کے اندر بھی چینی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ ہوگا-

جس کے باعث امریکہ کے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوجائے گا جو پہلے ہی جون کے مہینے میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف کی نمائندہ ماریہ ڈریساڈ بن نے کہاہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد دیگا ۔جیونیو ز کےمطابق اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماریہ ڈریساڈ بن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالناہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد دیگا ۔

ماریہ ڈریساڈ بن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد پاکستان کے ٹیکس کے نظام اور محصولات میں بہتری بھی ہے ۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ کم ہورہاہے ۔واضح رہے کہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام چھ جولائی کو منظور کیا اور اس کے تحت ایک بلین ڈالر کی رقم فوری طور پر پاکستان کو فراہم کر دی گئی تھی جبکہ بقیہ رقم قسطوں میں دی جائے گی جس کے لیے طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر اس کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کے مطابق اس کے لیے پاکستان کو آئندہ تین برس تک سخت مالیاتی پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا۔پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے اس پیکج کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کے بعد بین الاقوامی پارٹنر کی طرف پاکستان کو اضافی 38 بلین ڈالرز کی امداد کی فراہمی کی راہ ہموار ہو جائے گی جو آئی ایم ایف کے اس پروگرام کے دورانیے میں دی جا سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں