لندن میں مقیم کشمیریوں کا بھارتی جارحیت کےخلاف مظاہرے کا اعلان

لوٹن (رپورٹ شیراز خان ) بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے .پالیسی اپنانا ہوگی.

بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا جس کا نشانہ ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے عوام رہے ہیں اس سلسلے میں مرکزی جامع مسجد میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف مساجد کے علمائے کرام اور کشمیری جماعتوں کے نمایندگان، مقامی کونسلروں اور دیگر نے بڑے پیمانے پر شرکت کی

جبکہ اجلاس مسجد کے چیئرمین چوہدری شفاعت پوٹھی نے بلایا تھا اجلاس میں طے پایا کہ مل جل کر کشمیر کے معاملے پر برطانیہ اور یورپ میں آباد کشمیری اور پاکستانی ممبران آف پارلیمنٹ سے رابطہ کرے گئے اور انہیں کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اعتماد میں لیں گے اور نوجوانوں اور عورتوں کو بھی ائندہ ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے کے لئے قائل کیا جائے گا

جمعہ 9 اگست کو بعد از نماز جمعہ دن ڈھائی بجے سنٹرل مسجد سے ٹاون ہال تک ریلی بھارتی اقدامات کے خلاف ریلی نکالی جائے گی اور تمام مساجد اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا جائے گا…

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ لندن میں ایک 15 اگست کو بھارت کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا جس میں عورتوں اور بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے کیمونٹی رہنما ریحانہ فیصل نے اس سلسلے میں انگریز اور دیگر کمیونٹیز کو مسئلے پر جانکاری دینے کے لئے پمفلٹس دینے کی تجویز دی

اجلاس کے دوران مختلف رہنماؤں نے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان شملہ معاہدہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ یہ اعادہ بھی کیا گیا کہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے تازہ اقدامات کو کسی صورت بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں