ڈالر کی قیمت میں 2 روپے کمی،4 ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا

کراچی(سٹیٹ ویوز)ایک ہفتے میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 2.13 روپے کم ہوئی ہے۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 158.45 روپے پر ٹریڈ ہورہا تھا ، اس کی قیمت میں 20 پیسہ کمی ہوئی۔ یہ ڈالر کی قدر میں مسلسل آٹھویں دن کمی ریکارڈ کی گئی۔ آخری بار اس سطح پر ڈالر 11 جولائی کو تھا۔انٹربینک میں کرنسی کا ریٹ بنچ مارک کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ ریٹ اوپن مارکیٹ میں کرنسی کے ریٹ کی شرح متعین کرتا ہے۔ اوپن مارکیٹ کا ریٹ انٹربینک کے ریٹ سے عام طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

سال 2018 کے دوسرے حصے کے بعد ،فارن کرنسی کی مارکیٹ غیر واضح رہی ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔اس سال بھی ایسی ہی صورتحال رہی۔

کچھ وقت کے لیے قیمت میں استحکام رہا تاہم مجموعی طور پر ڈالر کی قیمت مستحکم نہیں رہی۔ آئی ایم ایف کے لون پروگرام سے قبل ، روپے اور ڈالر میں شدید کشیدہ صورتحال رہی اور قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔

جون کے آخری ہفتے میں روپے کی قدر انتہائی کم ہوئی اور ڈالر 164.2 کی بلند ترین سطح پر آگیا۔ یہاں تک کہ صرف 2 دن میں 8 روپے تک کا اضافہ ہوا اور 27 جون کو سال میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

جولائی کی 4 تاریخ کو ڈٓالر کی قیمت میں ایک روپے سے زائد کمی ہوئی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب ڈالر قرض کی اسٹیٹ بینک آف پاکستان منتقلی سے قبل یہ کمی ہوئی۔

تاہم کچھ ہی عرصہ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر دوبارہ 160 روپے تک جا پہنچا۔ آئی ایم ایف کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ڈالر کا ریٹ طلب اور رسد کے مطابق طے کیا جائے۔

اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک یا مرکزی بینک کو یہ قدر متعین کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت میں استحکام رکھا جاتا ہے جیسا سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دور میں ہوا۔

موجودہ حکومت کے آتے ہی تاجروں اور صارفین نے ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو باریکی سے دیکھنا شروع کردیا۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تھی تو ڈالر کی قیمت 124 روپے تھی۔ اس وقت سے اب تک اس کی قدر میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جیسا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہوا ہے، مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا ہے کہ اسٹیٹ بینک نہ ہی ایکسچینج ریٹ متعین کرے گا اور نہ ہی مارکیٹ پر اس ریٹ کو متعین کرنے کے لیے مکمل طور پر چھوڑا جائے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس ریٹ پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر مداخلت کی جائے گی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا تھا کہ ایکسچینج ریٹ کو مستحکم کرنے کے لیے جو اقدامات کرنے تھے، وہ کئے جاچکے ہیں۔ان کے اس بیان کے بعد ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا ہے اور وہ کم ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں