پاکستان کا بیانیہ کمزور،کشمیر میں بھارتی جارحیت اسرائیل مودی گٹھ جوڑ،امریکہ کوٹریپ کیا گیا،فیصل محمد

برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی مصالحت کا ر فیصل محمد نے انکشاف کیا کہ بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں آئینی ترمیم اورآرٹیکل 370پر وار کے پیچھے امریکہ کا کوئی ہاتھ نہیں اس کے پس پردہ اسرائیل اورنئی دہلی کا گٹھ جوڑ ہے ۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ عمران خان کے دورامریکہ کے موقع پر ٹرمپ کا ثالثی کا بیان آتے ہی بھارت اورتل ابیب میں ہلچل مچ گئی تھی جس پر دہلی نے اسرائیل اورپھرواشنگٹن سے رابطہ کرکے مزید معاملات پر بات نہ کرنے کی درخواست کی . اسرائیل نے بھی واشنگٹن کو شٹ اپ کی کال دی کہ وہ اس معاملے پر مزید بات نہ کرے . کیونکہ کشمیر ایشو پر اسرائیل نے بھارت کواسرائل فلسطینی فارمولا اپنانے کا مشورہ دیا تھاجبکہ امریکہ اس سے لاعلم تھا جس پر بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔

فیصل محمد کا مزید کہنا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اورایل او سی پر بڑھتا ہوا دبائو کے نتیجہ میں پاکستان کو ہارڈ کورٹ فیصلے لینے چاہئیں تاکہ دنیا کو بھرپور مسیج جائے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کےلئے تیار ہے . پاکستان فوری طور پر بھارتی سفارتخانہ مکمل بند کرکے اپنا سفارتی محاذ مضبوط کرے ،ملکی فضائی حدود بند کی جائے اور عالمی برادری کو اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے سخت اقدام اٹھانے کا حق رکھنے کا پیغام دیا جائے یروشلم اور نیودہلی دونوں پاکستان کے نرم اقدام اٹھا نے پر مطمئن ہیں۔۔

امریکی ثالثی کیا تھی ؟
عالمی مصالحت کار فیصل محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امریکی ثالثی کا اصل مقصد کیا تھا ؟ امریکہ چاہتا ہے کہ جو لداخ کا علاقہ بھارت کے سپرد کیا جائے۔ گلگت بلتستان پاکستان کے سپرد، آزادکشمیر اورسری نگر کو ایک سٹیٹ بنا دی جائے اوراس ریاست کے اوپر پاکستان اوربھارت ضامن بنیں گے اور اقوام متحدہ اور ویٹو ممالک ان کے گارنٹر بنیں گے ۔

ٹرمپ کے قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے سامنے دنیا کے تین بڑے ایشوز ہیں جن میں افغان امن کا پرامن حل تاکہ اسے نکلنے کا راستہ مل سکے. ، دوسرا بیت القدس کا معاملہ لیکن اس پر اسرائیل کسی ملک کی مداخلت پسند نہیں کرتا نہ ہی امریکہ کی اس ایشو پرمداخلت پسند ہے اورتیسرا مسئلہ کشمیر ۔ ٹرمپ چاہتا ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں کامیابی کےلئے کچھ ایسا کام کرجائے تاکہ اس کی کامیابی ممکن ہو اوراسے عالمی نوبل انعام کےلئے بھی حقدار ٹھہرے۔

فیصل محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کےخلاف انتہائی کمزور موقف اپنا یا۔ پاکستان کوسفارتخانے کا درجہ کم کرنے کے بجائے ہارٹ کورٹ ڈپلومیسی اپنا نا چاہیے تھی ۔ سفارتخانہ بند کرکے بھارت کو موثر جواب دینا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر عالمی برادری سے رجوع اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے آگاہ کرے کہ بھارت نے فروری میں جو اقدام اُٹھایااس پر پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو فوری واپس بھیجا ۔

اب بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے اورایل او سی پر جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے ۔ اس کےلئے پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے اپنا کیس مضبوط کرنا چاہیے اورباور کروانا چاہیے کہ وہ اب اس کو مزید برداشت نہیں کرسکتا۔اگر عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے ورنہ پاکستان جواب دینے کا حق رکھتا ہے اور کب کہاں اور کس طرح ریٹی لیٹ کریں گے یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے ۔

فیصل محمد کا کہنا ہے کہ اب بیانات سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت نے انتہائی ناقص پالیسی پیش کی ۔ پاکستان کو امریکہ پر واضع کردینا چاہیے کہ افغان امن عمل میں کچھ عرصہ کےلئے معطل کرتے ہیں تاکہ امریکہ پر بھی دبائو بڑھے اورپاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

فیصل محمد کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بھارتی اقدام کا کچھ علم نہیں ۔۔پاکستان امریکہ کو اس مسئلے میں انوالونہ کرے بلکہ اسرائیل اوربھارت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے ۔ امریکہ خود پریشان ہے اور امریکہ کو بھی بھارت نے ٹریپ کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان کوچاہیے کہ وہ افغان امن عمل سے کچھ عرصے کےلئے معطلی کا اعلان کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں