آل پاکستان اورآزادکشمیرانجمن تاجران کاٹیکسزکے نفاذکیخلاف مزاحمت کااعلان

راولاکوٹ(سٹیٹ ویوز)مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ ، مرکزی صدر آل آزادکشمیر انجمن تاجران سردار افتخار فیروز اور دیگر قائدین نے مشترکہ طور پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2019ءکو مکمل طور پر مسترد کر تے ہوئے تاجروں کےلئے مشاورت کے ذریعے فکسڈ ٹیکس کے علاوہ کسی قسم کے ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے، آزادکشمیر میں ایف بی آر کے ٹیکسز کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے،وہ راولاکوٹ میں آل آزادکشمیر انجمن تاجران کے زیر اہتمام منعقدہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے حوالے سے تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

تقریب سے دونوں صدور کے علاوہ ترججمان آل پاکستان انجمن تاجران ارشد عباسی، افتخار زمان، چوہدری محمد نعیم، تنویر خالق، گوہر کشمیری ، مبارک اعوان، عامر زرگر، حاجی اعجاز حنیف، سردار طاہر فاروق، عرفان اشتیاق، مسعود بیگ، عبدالقیوم چغتائی، سردار خورشید اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، جبکہ مرکزی سیکرٹری جنرل انجمن تاجران آزادکشمیر شوکت نواز میر نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس آرڈیننس میں تاجروں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق بریفنگ بھی دی۔

تقریب کے اختتام پر تاجروں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35Aکی تنسیخ اور بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی کا انعقاد بھی کیا۔ قبل ازیں آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ اور انکے ساتھیوں کا راولاکوٹ میں بھرپور استقبال کیا گیا، مرکزی صدر آل آزادکشمیر انجمن تاجران افتخار فیروز نے دیگر اضلاع سے آئے ہوئے اپنے عہدیداران اور تاجر رہنماؤں کا بھی استقبال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اجمل بلوچ نے کہا کہ دکانداروں کے ساتھ حکومت نے بہت بڑا ظلم کیا ہے اور مالیاتی اداروں کے دباؤ پر یہ اقدام کیا گیا ہے جس کے ذریعے سے تاجروں کا معاشی قتل کیا جانا مقصود ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس کے ذریعے پابندی عائد کی گئی ہے کہ جی ایس ٹی، ود ہولڈنگ سمیت دیگر ٹیکسز کا حساب کتاب بھی تاجران خود اپنا ملازم رکھ کر کرنے کے پابند ہونگے اور ایف بی آر کے ساتھ آن لائن رہیں گے، چھوٹے تاجران کسی صورت یہ کام نہیں کر سکتے، اس طرح وہ کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوجائینگے، اگر تاجروں سے ٹیکس وصول کرنا ہے تو فکسڈ ٹیکس کا نظام وضع کیا جائے اور تاجروں کے خلاف حکومتی سطح سے کیا جانے والا پروپیگنڈہ بند کیا جائے بصورت دیگر ہم پور ے پاکستان میں نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ تاجروں کے حقوق کےلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار افتخار فیروز اور دیگر کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر متنازعہ خطہ ہے یہاں ایف بی آر کی رسائی کو کسی صورت نہیں ہونے دیا جائے گا، پاکستان کے تاجروں کے ساتھ پورے آزادکشمیر سے بھرپور یکجہتی کی جائے گی اور جو بھی کال آل پاکستان انجمن تاجران کی طرف سے دی جائے گی پورے آزادکشمیر میں اس پر بھرپور لبیک کہا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ٹیکس تاجر پہلے بھی دے رہے ہیں، مزید ٹیکسز اگر یورپ کو دیکھ کر نافذ کئے جا رہے ہیں تو پھر ہمیں یورپ جیسی سہولیات پہلے دی جائیں پھر ہم بخوشی یورپ سے زیادہ ٹیکسز دینگے، عام آدمی پہلے ہی بلواسطہ ٹیکسز کی صورت میں دنیا بھر میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ٹیکسز دے رہا ہے، دہرے اور تہرے ٹیکسز کا نفاذ کر کے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کرنے کی پالیسی پر کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔

مقررین نے کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف سے اگر بھارتی جارحیت اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے ڈیمو گرافی تبدیل کرنے سمیت بھارتی سرمایہ داروں کے ہاتھوں کشمیر کے وسائل کی لوٹ مار کا منصوبے کے خلاف سخت جواب نہ دیا گیا تو ہم آزادکشمیر بھر سے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرنے سے بھی گریز نہیں کرینگے، کشمیریوں نے جو قربانیاں دی ہیں اور جو دے رہے ہیں ان کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دینگے، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اس مسئلہ کے حل سے کم کسی صورت قبول نہیں کرینگے، تقریب کے آخر میں مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے اظہار یکجہتی اور وریاست کی وحدت کی بحالی کےلئے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت دونوں مرکزی صدور اور دیگر عہدیداران نے کی، تاجران نے بھارتی جارحیت کے خلاف اور آزادی کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں