پوائنٹ آف آرڈر/ارشد وحید چوہدری

مودی کا جنگی جنون اور عالمی طاقتوں کی خاموشی

کشمیر جسے معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ نے 75لاکھ نانک شاہی میں انگریزوں سے خریدا جبکہ اس جنت کے عوض سالانہ محض ایک گھوڑا، بارہ بکریاں اور تین کشمیری شالیں بھی دینا ٹھہرا۔ اس سودے میں کشمیر اور لداخ کے علاقے شامل تھے جبکہ ملحقہ علاقوں پہ اس نے بزور طاقت قبضہ کیا، ان علاقوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ڈوگرا راج میں یہاں مقامی لوگوں پر بدترین ظلم ڈھائے گئے، یہی سبب تھا کہ قیام پاکستان کے وقت یہاں کے مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہشمند تھے۔۔

اس وقت مجاہدین نے کشمیر کا ایک حصہ تو آزاد کروا لیا لیکن باقی حصے پر ڈوگرا حکمران کی درخواست پر بھارتی فوجوں نے قبضہ کر لیا۔ بھارتی فوجیں اس وعدے پہ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئی تھیں کہ امن قائم ہونےکے بعد وہ واپس چلی جائیں گی لیکن بھارت کی نیت میں فتور آ چکا تھا۔ اس نے اس خوف کے پیش نظر کہ کہیں حریت پسند دوبارہ اس حصے پہ بھی قبضہ نہ کر لیں۔۔ 13اگست 1948کو اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا جہاں اس علاقے کو متنازع قرار دے کرکشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دے کر فیصلہ کرنے کی قرارداد منظور کی گئی اور پھر قراردادوں پہ قراردادیں منظور ہوتی رہیں لیکن بھارت نے عمل کرنے کے لئے دنیا کو پلو نہ پکڑایا۔ بعد میں بھارت نے ذوالفقار علی بھٹو کے شملہ معاہدے کی آڑ میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کو بھی ہمیشہ اسے اندرونی معاملہ قرار دے کر ٹھکرانا شروع کر دیا۔

1962ء میں پاکستان کو چین بھارت جنگ کے دوران کشمیر پر پیش قدمی کا موقع ملا لیکن ایوب خان نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور اس طرح بھارتی ظلم و جبر کشمیریوں کی قسمت میں مستقل لکھ دیا گیا۔ دنیا میں مفاد سے بڑا کوئی رشتہ نہیں ہوتا، انسانیت کا بھی نہیں، دنیا کی اسی بے حسی کو دیکھ کر 80کی دہائی میں کشمیری حریت پسندوں نے باقاعدہ صف بندی کی اور بھارت سے آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے اور وہ جدوجہد تاریخ کی بے مثال قربانیوں کے باوجود آج بھی جاری ہے۔

پاکستان اور بھارت چونکہ دو ایٹمی قوتیں ہیں اور کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے چنانچہ کوئی بھی واقعہ دونوں ملکوں کی افواج کو آمنے سامنے لے آتا ہے، عالمی برادری دونوں کو شانت رہنے کا مشورہ دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کے بہت سے عیب، کمزوریاں اور ظلم اس کی مضبوط جمہوریت کے پردے میں چھپ جاتے ہیں جبکہ پاکستان کا جائز مؤقف، کشمیریوں کی قربانیاں، اس کی کمزور حکومتوں، غیر موثر سفارتکاری اور معاشی بد حالی کی وجہ سے قابلِ توجہ نہیں گردانی جاتیں۔۔۔

بھارت کی ڈیڑھ ارب کی آبادی کی بڑی مارکیٹ اور کامیاب سفارت کاری اس کے جھوٹ اور دھوکے پہ بھی پردہ ڈال دیتی ہے جیسا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اس کے سرا سر غیرآئینی اقدام کے ضمن میں دیکھنے کو ملا ہے، اگست 2018ء میں حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو بارہا مذکرات کی پیش کش کی لیکن مودی مذاکرات تو درکنار فون اٹھانے کا بھی روادار نہ ہوا جس کی وجہ بھارت میں ہونے والے انتخابات تھے.

مودی نے بی جے پی کی جیت کے لئے وہاں باقاعدہ جنگی جنون پیدا کیا، مودی نے اپنی الیکشن مہم میں کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے بعد بھی اس نے کسی طرح مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کی، وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورئہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا جواب مودی سرکار نے آرٹیکل 370اور 35اے کا خاتمہ کر کے دیا۔ جہاں یہ بھارتی جنون بہتر برسوں سے جاری کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔۔۔

وہیں پاکستان کے عوام یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دورئہ امریکہ کو ورلڈکپ کی جیت سے تعبیر کرنے والے وزیراعظم عمران خان کیا واقعی مودی کے عزائم سے بے خبر تھے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق تو پاکستان کو کافی عرصے سے انتہا پسند مودی کے مذموم ارادوں کی بھنک پڑ چکی تھی اور اس نے اقوام متحدہ کو بروقت آگاہ کر کے کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کر دی تھی۔ پاکستانی عوام ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں اور وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ بہتر برسوں کی کشمیر پالیسی چند دنوں میں اتنی بڑی ناکامی سے کیسے دوچار ہوگئی۔

بھارتی ہائی کمشنر کو واپس بھیجنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے سمیت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے یقیناً حوصلہ افزا اور بالخصوص کشمیریوں کیلئے امید کی کرن ہیں لیکن پاکستان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بد ترین مظالم ڈھائے جانے اور سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا کا ضمیر نہیں جاگا۔ پاکستان کو عالمی دنیا بالخصوص چین اور روس کو اپنے موقف کا ہمنوا بنانے کے لئے تمام تر چینلز کو تندہی سے بروئے کار لانا چاہئے اور ٹرمپ کو بھی باور کرانا چاہئے کہ پاکستان کے پاس افغانستان کی صورت میں ٹرمپ کارڈ اب بھی موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں