آگہی/عمرفاروق

تقسیم کشمیرکامنصوبہ ۔۔؟

تقسیم کشمیرکاسفرسابق آمرپرویزمشرف کے دورمیں شروع ہواتھا ،نائن الیون کے بعد جب عالمی طاقتیں نیٹوکی چھتری تلے افغانستان پرحملہ آورہوئیں تووہ صرف افغانستان پرحملہ آورنہیں ہوئی تھیںبلکہ ان کے پیش نظریہ خطہ تھا اوراس خطے کاسب سے اہم اورپرانامسئلہ مسئلہ کشمیرتھا امریکہ سمیت دیگرطاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ جب تک مسئلہ کشمیرآرپارنہیں ہوگا اس وقت انہیں اس خطے میںانہیں تسلط حاصل نہیں ہوگا چہ جائیکہ یہ تسلط مود ی کی صورت میں ہویاکسی اورشکل میں ہو،عالمی طاقتوں کے نزدیک کشمیرکے مسئلے کاحل اس کی تقسیم ہی ہے ،اگرانہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ مسئلہ حل کرناہوتاتوسترسال سے کشمیریوں پرہونے والے مظالم پریوں آنکھیں نہ بندکرتے ۔

اب امریکہ افغانستان سے رسواکن شکست کے بعد واپس جارہاہے توبرطانوی حکومت کی طرح وہ کشمیرکے حوالے سے ایک نیازخم لگاکے جاناچاہتاہے جس کے تحت کشمیری مزیدظلم کی چکی میں پستے رہیں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں نے مسئلہ کشمیرکویہاں تک پہنچایاتھا اب ایک ناپائیدارحل کرکے ان قربانیوں کوضائع کرناچاہتاہے ،تقسیم کشمیرکا منصوبہ چین کو قابو میں رکھنے کی ایک کنجی ہے ۔اس لیے پاکستان کوعرب ممالک کی مدد سے یکدم چین ، روس کے علاقائی اتحاد سے نکال کر امریکی بلاک کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بھارت کی طرف سے حالیہ اقدام حیران کن اس لیے بھی نہیں کہ یہ مشرف فارمولا سے ملتا جلتا انجام ہے جو کشمیریوں کو دیکھنا پڑا۔ مشرف فارمولا بھی کئی بار ابھرا اور دب گیا۔ مشرف کے وزیرِ خارجہ بھی کشمیر کے حل کے قریب پہنچنے کے دعوے کرتے رہے اور مشرف کے جانے کے بعد بھی ٹی وی پروگراموں میں فخر سے کہتے تھے کہ ہم کشمیر کے حل کے قریب تھے۔پرویزمشرف عالمی طاقتوں کے مہرے کے طورپرسامنے آئے تھے اورانہوں نے جہاں دیگرمعاملات میں ان قوتوں کی نمائندگی کی وہاں انہوں نے کشمیرپربھی ان کے ایجنڈے کوآگے بڑھایا۔

پرویزمشرف نے اکتوبر 2004 میںتقسیم کشمیرکے متعلق اپنے فارمولہ واضح کیاتھا جس کے تحت مشرف یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر 7 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پھر دونوں ممالک یہ طے کرلیں کونسے حصے ان کے پاس ہوں گے اور کونسے حصوں کو خودمختاری دی جاسکتی ہے۔پرویز مشرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو 2 حصے قرار دیتے تھے، ایک آزاد کشمیر اور دوسرا شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان)۔ جبکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وہ 5 حصے کرنے کے حق میں تھے۔مشرف نے نیویارک میں بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے کہا تھا کہ استصوابِ رائے اور کنٹرول لائن کو سرحد بنانے کی باتیں چھوڑیں اور دیگر تجاویز پر غور کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک اس حوالے سے کام بھی کررہے ہیں۔

تقسیمِ کشمیر پر بھارت نے عمل کردیا اور یہی مشرف کا فارمولا تھا۔ مشرف نے مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کی بات کی تھی، مودی حکومت جموں و کشمیر کو 3 حصوں میں بانٹ رہی تھی لیکن عین وقت پر جموں و کشمیر کو اکٹھا رکھ کر لداخ کو الگ کیا گیا۔ سب سے اہم نکتہ دراصل مجوزہ تقسیم کے پیچھے چھپا ارادہ ہے۔ اس اسکیم کے تحت لداخ الگ ہوجائے گا اور بغیر کسی منتخب اسمبلی کے یونین ٹیریٹری کا حصہ بن جائے گا، جیسے چندی گڑھ ہے۔ یوں مودی کو کارگل کی مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اور لداخ کے بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم کے حصول میں رکاوٹ پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔لداخ سے الگ نئے سرے سے وضح کردہ زمینی حدود کے حامل جموں و کشمیر کے پاس اپنی منتخب اسمبلی ہوگی، یعنی ایک کٹھ پتلی سی حکومت ہوگی۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ یہ اسمبلی کشمیر کا پہلا ہندو وزیرِاعلی بھی سامنے لاسکتی ہے۔

ہندو اکثریت والے جموں میں انتخابات کا آپشن رکھنے کی کم از کم ایک واضح وجہ یہی ہے۔ہوسکتا ہے مودی حکومت اگلے مرحلے میں کشمیر کے 7 حصے کردے ۔ یوں مسئلہ کشمیر کا مشرف فارمولا مکمل ہوجائے لیکن یہ فارمولا اس وقت بھی کشمیریوں کو منظور نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔مگرکشمیریوں کے مستردکرنے سے کیاہوتاہے عالمی طاقتوں نے اپنے مہروں کے ذریعے یہ گھنائوناکھیل توکھیلناہے.

بھارت میں ایک ایسے شخص کودوسری باروزیراعظم بنایاگیاہے جوکل تک دہشت گرد اورانتہاپسندتھا مگرآج وہ ان طاقتوں کی آنکھ کاتارہ ہے ،روس کے صدر ویلادی میر پیوٹن انہیں سب سے بڑا سویلین اعزاز دے چکے ہیں۔ ژی جنپنگ چین کے عالمی تجارتی منصوبوں میں حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ان سے قریبی تعلقات بنائے ہوئے ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ان کی سرگوشیاں مشہورہیں ۔انہی سرگوشیوں کانتیجہ ہے کہ ٹرمپ نے اچانک مسئلہ کشمیرپرثالثی کااعلان کردیا اوراس پرہم فتح کاشادیانے بجاتے رہے

،اب ٹرمپ کی ثالثی کیاگل کھلاتی ہیں یہ آنے والاوقت ہی بتائے گا ۔مشرق وسطی میں مودی کے قریب ترین اتحادی بینجمن نیتن یاہو اگلے ماہ دہلی کے ایک روزہ دورے پر آنے والے ہیں، اور اس دورے کے موقعے پرمودی ان سے فلسطینیوں کوکنٹرول کرنے اوران کی زمینوں پر قبضہ حاصل کرنے کے طریقے سیکھ کرکشمیریوں پراپلائی کریں گے ،متحدہ عرب امارات ،ایران ،سعودی عرب سے بھی مودی کی قربتیں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان طاقتوں اورممالک کی طرف سے مودی کے حالیہ اقدام پرکسی سخت ردعمل کاسامنانہیں کرناپڑاہے ۔

یہ عالمی طاقتوں کے کھیل کاہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان نے کنٹرول لائن پرخاردارتار لگا کرتقسیم کشمیرکے منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کی بنیادمشرف دورمیں رکھی گئی مگرہماری طرف سے بھارت کے اس اقدام کے خلاف کوئی سخت ردعمل سامنے نہیں آیاحالانکہ ایل اوسی پرخاردارتاریں لگانابین الاقوامی قوانین انسانی حقوق کی شدیدخلاف ورزی تھی بھارت نے کنٹرول لائن پرطویل باڑھ لگاکرکشمیرپراپناقبضہ مستحکم کیا، یوں محسوس ہوتاہے کہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہماری قیادت بھی تقسیم کشمیرکے اس منصوبے پرراضی ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ مودی کے حالیہ اقدام کے بعد ہمارے وزیراعظم کی طرف سے یہ ردعمل سامنے آیاکہ اگربھارت نے آزادکشمیرپرحملہ کیا توہم بھرپورجواب دیں گے ۔

بھارت نے یہ سب کچھ اچانک نہیں کردیا ہمیں یادرکھناہوگا کہ 2014 اور 2016 میںجب مودی حکومت اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے لیے پر تول رہی تھی، لیکن کشمیری قیادت نے بھرپورحتجاج کے ذریعے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا تھا۔ اسی لیے محبوبہ مفتی حکومت کے ساتھ بی جے پی نے اتحاد توڑا اور پھر حکومت کی تشکیل نہ ہونے دی اور گورنر راج لگا دیا۔مودی نے اپنی ایک حامی این جی اوکے ذریعے مقبوضہ کشمیرکے تعلق آئین کے آرٹیکل 370کوسپریم کورٹ میں چیلنج بھی کروارکھا تھا مگراس دوران ہماری طرف سے کوئی تیاری نہیں کی گئی ہمیں علم تھا کہ بھارت کشمیرپروارکرنے جارہاہے اورہم خواب خرگوش مزے لیتے رہے ۔

اب دیکھنایہ ہے کہ کشمیرکے حوالے سے مودی کے حالیہ اقدامات کے بعدعالمی دنیاسے ہمیں کیاتعاون ملتاہے ؟اورعالمی طاقتیں ہمارے ساتھ کہاں تک کھڑی ہوں گی ؟پاکستان اگرسلامتی کونسل میں جاتاہے توسلامتی کونسل کارویہ بھی دیکھناہوگا کہ آیاوہ بھارت کواپنے فیصلے واپس لینے پرراضی کرسکتاہے یانہیں ؟بدقسمتی سے موجودہ حکومت بھی ایک عالمی ایجنڈے کے تحت ہی آئی ہے اوریہ حکمران بھی عالمی ایجنڈے کی تکمیل میں پرویزمشرف کاپاٹ ٹوہیں ہمارے وزیراعظم کی طرف سے متعددبارہندوستان اورمود ی کے حوالے سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ جس سے یہ تاثرمزیدمضبوط ہواہے کہ بھارتی اقدامات کے جواب میں ہمارارویہ معذرت خواہانہ ہے ۔ہم نے بھارت اورعالمی طاقتوں کوراضی کرنے کے لیے جہادی قیادت کوپابندسلاسل کیا ۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے جموں وکشمیراخبارکو ماضی میں دیے گئے ایک انٹرویو کی بازگشت گزشتہ روز قومی اسمبلی اورسینٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی سنی گئی جس میں انہوں نے کہاتھا کہ کشمیرکابہترین حل تین حصوں میں تقسیم ہے گلگت بلتستان پاکستان کودے دیاجائے لداخ بھار ت لے لے اوروادی وآزادکشمیرکوخودمختاربنادیاجائے اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اس بیان کی تردیدکررہی ہے مگرجس اخبارمیں یہ انٹرویوشائع ہواتھا وہ اپنے انٹرویوپرآج بھی قائم ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں