بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پرپابندی کیخلاف صحافیوں کا شدید احتجاج

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)کشمیر جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، میڈیا پر قدغنوں، بھارتی ظلم و تشدد اور کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

جس سے سینئر اینکر پرسن حامد میر، سیکریٹری نیشنل پریس کلب انور رضا، کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر سردار عابد خورشید، سابق صدر اعجاز عباسی، راجہ بشیر عثمانی، شہزاد احمد راٹھور، اشرف وانی، راجہ شفیق احمد، عبدالطیف ڈار، یونس بیگ، اﷲ داد صدیقی، علی نقوی، سردار زاہد تبسم، نائب صدر پریس کلب راجہ خلیل اور سیکریٹری فورم زاہد عباسی نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام یادداشت بھی پیش کی گئی جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام، مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے کرفیو، کشمیر میں کمیونیکیشن کے ذرائع کی بندش اور صحافیوں پر قدغن کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یادداشت میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے، عالمی برادری بھارت کا سماجی بائیکاٹ کرے۔ احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کو اس کا علم تھا کہ فاشسٹ مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے جا رہا ہے تاہم ہمارے حکمران اس سے بے خبر تھے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس وقت ملک میں قومی اتحاد قائم کرے۔ جو اقدامات اس وقت اٹھائے جا رہے ہیں اس سے قومی اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔


یہاں یہ تاثر نہیں ہونا چاہئے کہ یہاں پر سلیکٹڈ آزادی ہے۔ پاکستان میں ایسی صورتحال قائم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا میڈیا دنیا کو آزاد نظر آئے۔ پاکستان کی ریاست ایک نمایاں نظر آئے۔ پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ جب پاکستان دنیا میں کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرے تو کوئی ہماری آزادیوں پر آواز نہ اٹھا سکے، ہم کشمیریوں کی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔

کشمیر کی مائیں بہنیں اور بزرگ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں ان کی آواز بننا ہے۔ پاکستان کا میڈیا اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں