تقسیم کشمیر نامنظور،پاکستان سے شملہ معاہدے سے دستبرداری کا مطالبہ

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)آزادجموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت کل جماعتی کشمیر کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے دفعہ 370 ختم کرنے کے ذریعے کشمیری تشخص ختم کرنے کی کوشش کی ہے ،بھارت نے ایک بڑا آئینی بحران پیدا کر دیا ہے ، ہم بھارت کے ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ دنیا بھر سے منقطع کر دیا گیا ہے اور جموں کشمیر کے متنازعہ علاقے بارے بھارت کا حالیہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے ، بھارت کشمیریوں کو پے در پے شہید کر رہا ہے ، وادی میں کرفیو کی وجہ سے کشمیری محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔

مشترکہ اعلامیہ میں مزیدکہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر انسانی المیے کا شکار ہے ،کشمیریوں کو قتل کرنے کے ساتھ ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے ، ایسے اقدامات کر کے بھارت ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے اس لیے یہ کانفرنس قومی پارلیمان اور قانون ساز اسمبلی کی قرادادوں کی حمایت کرتی ہے ۔پاکستان شملہ معاہدے سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے

جبکہ اقوام متحدہ سمیت موثر بین الاقوامی اداروں کو متحرک کرنے کیلیے جارحانہ سفارتی مہم شروع کی جائے ،مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ او آئی سی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے

مشترکہ اعلامیہ میں لندن ،برسلز ،نیویارک اور واشنگٹن میں بھارتی اقدامات کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا جائے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائے ۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی وفود میں آزادکشمیر اور حریت قائدین کی نمائندگی ہونی چاہیے ، 14 اگست کو پاکستان و آزادکشمیر پر ہر گھر پر پاکستان اور آزادکشمیر کا جھنڈا لہرایا جائے اور پاکستان کے سیاسی و سماجی اکابرین چاروں صوبوں کے وزراء اعلی عید الالضحی آزادکشمیر میں ادا کریں ۔

کانفرنس ریاست کی بندر بانٹ کے کسی بھی فارمولے کو مسترد کرتی ہے ، شہداء کشمیر کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ،مشترکہ اعلامیہ منزل کے حصول تک بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں