منطق / عتیق احمد سدوزئی
منطق / عتیق احمد سدوزئی

کشمیر۔ جنوبی ایشیاء کا نیا وار زون

بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر اب تک ہزاروں افراد بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ حقیقی صورتحال اور حقائق کا علم کسی کو بھی نہیں ہے سب اپنے اندازوں کے مطابق تجزئے اور تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمران خان امریکہ میں کشمیر کا سودہ کر آیا ہے۔ کچھ کے نزدیک مودی نے انتخابی نعرہ پورا کرنے کے لئے عالمی قوانین اور معاہدوں کی دھجیاں بکھیری ہیں اور کچھ احباب یہ بھی رائے دے رہے ہیں کہ امریکی ثالثی میں ادھر ہم ادھر تم کی بنیاد پر بٹوارہ ہو گیا ہے

ایل او سی مسقتل سرحد بن جائے گی اور پاک چین راہداری میں حائل رکاوٹ ختم ہو جائے گی۔ تمام رائے دہندگان کی رائے کا بصد احترام کرتے ہوئے اپنا قدرے مختلف نکتہ نظر بطور ایک کشمیری آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو کہ یقینی طور پر حقائق سے آگہی کئے بغیر ہے لہذا جیسے دیگر تحاریر کا مطالعہ کیا گیا ہے ویسے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم بھی گھپ اندھیرے میں روشنی کا تیر چھوڑیں۔

ایل او سی کا مکین ہونے کے ناطے بچپن سے اب تک کئی نشیب و فراز دیکھ چکا ہوں۔ بھارتی دردندہ صفت فورسز کے ہاتھوں رات کی تاریکی میں پورا خاندان زبح ہوتے بھی دیکھا ہے اور خاندان کے ہر گھر میں اٹھتے جنازے، شہادتوں اور معذوریوں کی لازوال داستانیں بھی دیکھی ہیں۔ وہ وقت بھی دیکھا ہے جب تحریک آزادی کشمیر کے مجاہدین آزادی سے آر پار چلے جاتے تھے، مشرف کی منظوری سے باڑ لگتے بھی دیکھی ہے اس لئے کچھ باتیں تجربے سے بھی سامنے آ جاتی ہیں۔

امریکہ کے خطہ میں اپنے مفادات ہیں، پاکستان امریکہ اور چین کے بھی اپنے مفادات ہیں۔ افغان جہاد میں امریکہ کو کامیابی ملی اور روس ٹوٹ گیا تاہم ضرورت تھی کہ جہادیوں کا محور افغانستان سے کسی اور طرف شفٹ کیا جائے لہذا کشمیر جہاد کا مرکز بن گیا مگر افغانستان بھی جہادی فورسز کے قبضہ میں چلا گیا۔

افغانستان پر امریکی حملے کی باری آئی تو سب سے پہلے ایل او سی پر جہادیوں کی نقل و حرکت کم کرنے کے لئے بارڈر سکیورٹی سخت کی گئی اور باڑ لگا کر آمدرفت ختم کر دی گئی جس کے بعد جہادی فورسز نے افغانستان اور پاکستان کو میدان جنگ بنا دیا اور دونوں ملکوں میں عام عوام کا خون پانی کی طرح بہا۔ 

گزشتہ ایک سال سے افغان طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات جاری تھے اور شنید ہے کہ اب مذاکرات فیصلہ کن موڑ پر ہیں اور جلد ہی معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد افغانستان سے امریکی فورسز نے انخلاء کرنا ہے.مگر کیا امریکہ افغانستان کو جہادی فورسز کے سپرد کر کے چلا جائے گا؟کیا امریکہ افغانستان کو پھر سے نوے کی دھائی والا ملک بنانے پر رضاء مند ہو جائے گا؟

یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان میں مذہبی شدت پسندی بڑھے اور ملک پھر سے جہادی فورسز کے ہاتھوں میں چلا جائے لہذا امریکہ افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ تو کر سکتا ہے مگر جہادی فورسز کو افغان کے اقتدار سے دور رکھنے کے لئے وہ کوشش بھی کرے گا کہ طالبان جمہوری عمل کا حصہ بنیں جبکہ مجاہدین غیرمسلح ہو جائیں یا افغان نظام سے دور رہیں۔

امکان ہے کہ کشمیر نیا عالمی وار زون بننے والا ہے۔ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم جب پاکستان، کشمیر، افغانستان سمیت دیگر ممالک میں موجود جہادی تنظیموں کے پاس پہنچیں گے تو تمام مجاہدین جذبہ شہادت سے سرشار کشمیر کی طرف رخ کر لیں گے۔ ٹویٹر پر آج کا ٹاپ ٹرینڈ #لبیکغزوہہند ہے جو غمازی کرتا ہے کہ بھارت نے دنیا بھر کے مجاہدین کو متوجہ کر لیا ہے اور کشمیر بھارت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا جسے نہ وہ نگل پائے گا نہ تھوک پائے گا۔

ایک اور تھیوری بھی ہے جو اس پہلی تھیوری سے ہی منسلک ہے۔ بھارت کے افغانستان سے پاوں اکھڑ چکے ہیں۔ امریکہ افغان طالبان مذاکرات کے بعد بھارت کا عمل دخل افغان ایوان اقتدار سے کٹتا نظر آ رہا ہے۔ افغانستان میں امن کی بحالی کے بعد جہادی فورسز نے بلاشبہ کشمیر کا رخ کرنا ہے۔ بھارت نے ممکن ہے اس صورتحال کے تناظر میں کشمیر کو جلد بازی میں آئنی حیثیت ختم کرتے ہوئے بھارت میں ضم کر دیا ہے مگر کشمیری عوام کو اپنا بدترین دشمن بھی بنا لیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو اور لاکھوں افواج کا اضافہ بھارتی خوف کا عکاس ہے۔ جموں و کشمیر عملی طور پر فوجی چھاونی بن چکا ہے ہر گھر کے باہر فوجی کھڑے ہیں مگر اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کم کر سکے ہیں نہ بھارت مخالف مظاہرے رکوا سکے ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے ایک طرح سے اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے۔

امریکہ کی مرضی سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تب بھی بھارت نے اپنا نقصان اور امریکہ کا فائدہ کیا ہے اور اگر محض خطرات محسوس کر کے ایسا اقدام اٹھایا ہے تو بھی بھارت نے خود کو اپنی توقعات سے زیادہ بڑے خطرات میں گھیر لیا ہے۔ 

پاکستان نے ان حالات میں کشمیری عوام کی امیدوں سے کم اقدامات اٹھائے ہیں مگر مستقبل جنگ کے خطرات میں گھر گیا ہے۔ وزیراعظم جموں و کشمیر کی سربراہی میں آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ کشمیر کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاست جموں و کشمیر کے اندر اور ایل او سی پر حالات خطرناک حد تک خراب ہونے کا امکان ہے۔ پاک بھارت جھڑپیں اور آزادی کے متوالے حریت پسندوں کے حملوں کا قوی امکان ہے۔ وادی میں ہونے والے مظاہروں پر بھارت طاقت کا استعمال کرے گا اور اس کے ردعمل میں بھارت مخالف جہاد کے فلسفے کو تقویت ملے گی۔

ابھی تک ٹویٹر پر غزوہ ہند کی باتیں چل رہی ہیں لیکن دنوں اور مہینوں میں غزوہ ہند کے نام سے کشمیر میں آگ و خون کا ایسا بازار گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت سرکار کو اپنی ہی افواج کی سکیورٹی کے لئے افواج بھیجنی پڑیں گی کیونکہ جو شہید ہونے کی تمنا لیکر آپ کے سامنے لڑنے کے لئے کھڑا ہو جائے اسے آپ کسی صورت شکست نہیں دے سکتے۔۔۔۔

میرے مطابق ہمیں صورتحال کا باریک بینی سے اور کچھ وقت لگا کر مشاہدہ کرنا چاہیے۔ چند دنوں میں ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔ اب تو بھارت کے پاس یہ چیخ و پکار کرنے کا بہانا بھی نہیں بچا کہ پاکستان دراندازی کروا رہا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی معاہدوں کی یکطرفہ نفی کر کے بھارت واویلہ کرنے کا موقع بھی کھو چکا ہے۔ انتظار کیجئے کشمیری غلامی پسند کبھی نہیں تھے انہیں جب جب جبر و استبدلال سے غلام بنانے اور کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی کوشش ہوئی تحریک آزادی کشمیر مزید مستحکم ہو کر ابھری ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت بھارت کے ساتھ الحاق کیا کیا گیا تھا اس معاہدہ کو بھارتی آئین آرٹیکل 370 کے تحت مکمل ضمانت دیتا ہے۔ اسی طرح کا ایک اور معاہدہ بھارتی ریاست ناگالینڈ کا ہے جسے آرٹیکل 370a کہا جاتا ہے۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو ضمانت دیتا ہے کہ بھارت ریاست جموں و کشمیر کے دفاع، خارجہ اور مواصلات کے معاملات بھارت کے پاس رہیں گے

جبکہ باقی جملہ معاملات میں ریاست خودمختار ہے۔ بھارتی آئین یہ بھی ضمانت دیتا ہے کہ اس آرٹیکل یا معاہدہ کو بھارت کی پارلیمان بھی تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ انڈین صدر اس معاہدہ پر صدارتی آرڈیننس جاری کر سکتا ہے۔ دفاع، خارجہ اور مواصلات کے موضوعات سے ہٹ کر کوئی بھی نوٹیفکیشن یا کوئی بھی قانون تب تک نہیں بنایا جا سکتا جب تک ریاستی اسمبلی سے منظوری نہیں لی جاتی۔

بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمہ اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے اور آرٹیکل 35A باشندہ ریاست قانون ختم کرنے کے خلاف انڈین کانگریس کے رہنماء تحسین پوناوالا کی جانب سے معروف قانون دان ایم ایل شرما نے انڈین سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے جسے سپریم کورٹ کے جج این وی رمنا کی سربراہی میں بنچ سماعت کرے گا۔ قوی امکان ہے کہ سپریم کورٹ سے بھارتی حکومت کا کشمیریوں کے خلاف یہ قاتلانہ اقدام کالعدم ہو کر اپنی موت آپ مر جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں