ترک اسپیکر کا کشمیریوں کی حمایت میں پارلیمان میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ترکی کی گریٹ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ سینتوپ نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسد قیصر کو یقین دہانی کروائی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت میں ترک پارلیمان میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔

اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کے یکطرفہ طور پر خاتمے کے بعد پیدا صورتحال سے آگاہ کیا۔

اسدقیصر نے انہیں بتایا کہ دونوں آرٹیکل کے خاتمہ ایک تاریخی دھوکا تھا جو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا۔

دوران گفتگو قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اپنے ترکش ہم منصب کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس اور اس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور وادی میں کرفیو کے نفاذ سمیت بھارتی حکومت کے دیگر اقدامات کے خلاف متفقہ طور پر منظور قرارداد کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اس گھناؤنے جرم کے علاوہ پوری کشمیری حریت قیادت اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی نظربند کردیا اور پوری وادی میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے، انٹرنیٹ سروس سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور آزاد کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ بھارتی مسلح فورسز نے معصوم شہریوں کے خلاف کلسٹر بموں کا استعمال کیا، جس سے گزشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کے اطراف مرد، خاتون اور بچے شہید و زخمی ہوئے۔

اس موقع پر ترکی کی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ‘ترکی کے عوام، ترکش پارلیمان کے اراکین اور سب سے بڑھ کر ترک صدر رجب طیب اردوان کو کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے’۔

مصطفیٰ سنتوپ نے ترکی کی جانب سے پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں