نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

”مقام گلہ ہی مقام شکر ہے۔۔۔!”

کسی گاؤں میں ایک ضعیف العمر صاحب رہتے تھے۔عمر 80 سال تھی،انتہائی سخت مزاج رکھتے تھے۔ہر وقت چڑچڑاہٹ،غصہ اور ناراضگی انکی شخصیت کا حصہ تھا۔پورا گاؤں ان سے ڈرتا تھا۔لوگ اُنکو بابا کہتے تھے۔وہ ہر وقت شکایت اور بحث و تکرار کرتے رہتے تھے۔رائج نظام اور اردگرد بستے لوگوں کے مزاج اور غیر ذمہ داری سے خائف تھے۔

پھر یوں ہوا کہ ایک دن گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ آج بابا بہت خوش ہیں۔لوگ اکٹھے ہوئے اور ڈرتے ڈرتے اجازت لے کے انکے پاس پہنچے۔خلاف توقع بابا کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔
لوگوں نے پوچھا ،
”اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے” ؟
وہ مسکرائے اور جواب دیا،
”زندگی کے قیمتی 80 سال میں خوشی اور خوش ہونے کی وجوہات ڈھونڈتا رہا لیکن خوش نا ہو سکا۔کیونکہ اگر خوشی کسی وجہ سے ملتی ہے تو اسی وجہ کے ختم ہونے سے بکھر بھی جاتی ہے۔اتنی مدت بعد میں نے یہ راز پایا کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے اس پہ شکر گزار ہونا ہی اصل خوشی ہے۔خوشی کا تعاقب یا انتظار کرنا فضول ہے۔جو میسر ہے اس کا لطف لینا ہی خوشی ہے۔”

اسی طرح ایک شہر میں ایک دانا بزرگ رہتے تھے۔ان سے مل کے بےشمار لوگ اپنی پریشانیاں اور تکلیفیں بیان کرتے تھے۔ایک دن اس دانا شخص نے سب کو اکٹھا کیا اور اُنکو لطیفہ سنایا تو سب زور زور سے ہنسنے لگے۔انھوں نے پھر وہی لطیفہ اسی انداز سے دہرایا اب کی بار کم لوگ ہنسے۔اسی طرح پانچ بار ایک ہی لطیفہ سنایا تو لوگ ہنسنے کے بجائے پریشان ہونے لگے کہ معاملہ کیا ہے؟پوچھنے پر انہوں نے جو جواب دیا وہ صدیوں کی بصیرت پہ محیط تھا۔

”اگر آپ لوگ ایک ہی لطیفے پہ بار بار نہیں ہنس سکتے تو ایک ہی پریشانی میں بار بار خود کو کیوں تکلیف دیتے ہیں؟”
جس جس نے سمجھنا تھا وہ اس راز کو سمجھ گیا۔

زندگی ایک جھیل کے جیسی پرسکون اور دل نشین ہے جس میں اگر کنکر پھینکو تو لہروں کے ارتعاش کے بعد خود ہی پرسکون ہو جاتی ہے۔لیکن ہم نے اس میں مشکلات و پریشانیوں کے اتنے بڑے بڑے پتھر پھینک دیے ہیں کہ اسکو کسی ندی کی طرح بے چین اور دریا کے جیسا مضطرب کر دیا ہے۔

ہر شخص کی زندگی میں درد ہیں۔کچھ درد تو ہر شخص کو سہنے پڑتے ہیں اور سہنے بھی چاہیے۔رشتوں کے دکھ سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔وہ ہر کسی کو سہنے ہیں اور ان کا حق ادا کر کے سرخرو ہونا ہے۔

ان سب حقائق کے باوجود اگر کائنات کے نظام اور ہماری تخلیق کے مراحل کو سمجھا جائے تو کچھ بھی ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ہر چیز بدلتی ہے۔ہر موسم گزر جاتا ہے۔پتھر کے سینے پہ گرنے والی پانی کی بوند واپس نہیں آتی۔پر جب تک گرتی ہے تب تک تو اس سے لطف لیا جا سکتا ہے نا؟خوشبو پھول کے دامن میں مہمان کی طرح آتی ہے۔جب تک ہے تب تک تو اسے روح میں اتارا جا سکتا ہے۔

خوشی اور دکھ دو الگ پہلو ہیں۔دونوں کے وجود سے انکار نہیں۔لیکن شکرگزاری کا ایک لمحہ ان دونوں کی طلب کو فراموش کر دیتا ہے۔

رات بھر طوفان رہتا ہے،کسی پرندے کا گھر اجڑ جاتا ہے لیکن صبح نو کے ساتھ وہ اللہ پاک کی حمد و ثناء بیان کرتا ہے۔شکرگزاری عبادت ہے۔ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا ہی وہ خوشی ہے جسکے لئے جھولی کا بھرا ہونا شرط نہیں ہے۔وہ اطمینان آپکو خالی ہاتھ اور تنہائی کی گہری کھائی میں بھی اکیلا نہیں رہنے دے گا۔

واصف علی واصف لکھتے ہیں،
”شیخ سعدی کا مشعور واقعہ کہ میرے پاس جوتا نہیں ہے۔آگے جا کے دیکھا کہ ایک شخص کی ٹانگیں ہی نہیں ہیں۔۔۔شکر ادا کیا۔جوتے کا گلہ تھا اور جوتے کی عدم موجودگی میں شکرہو گیا۔یہ حسن نظر ہے۔جس بات کا گلہ تھا وہی بات شکر والی تھی۔ آپ یاد رکھنا زندگی میں جہاں گلے شکوے ہیں وہی مقام شکر کا تھا”۔

کسی دانت میں تھوڑا سا درد یا الجھن ہو تو زبان خود بخود اسکی طرف جاتی ہے۔پورا جسم صحت مند ہو تو ایک کانٹے کے درد کی طرف دھیان جاتا ہے۔یہ انسانی فطرت ہے جو ہمیشہ کمیوں کو گننا شروع ہو جاتی ہے جبکہ اسی فطرت کی اصل روح شکرگزاری میں ہے۔ایک محرومی پہ ہزار نعمتیں نظر آنا بھی اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہے۔

تھوڑی دیر کو سوچیں کہ ہماری پاس کیا کیا نعمتیں موجود ہیں۔جو میسر ہے اس پہ اطمینان رکھنے والوں کو بے حساب ملتا بھی ہے۔

جس طرح پریشانی ایک کیفیت ہے اسی طرح خوشی و سرشاری بھی ایک کیفیت ہے۔ان دونوں میں سے کس کو چننا ہے اسکا اختیار انسان کے پاس ہے جسکے سفر کا آغاز ہر لمحہ الحمداللہ کہنے سے شروع ہوتا ہے اور یہیں پہ سفر اختتام ہو تو یہی کامیابی ہے۔

اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں