حرف مقدم /منیر احمد زاہد

حکومت پاکستان اور مقتدر حلقوں کے لیے کچھ تجاویز

1:-14اگست یوم یکجہتی کے دن تک تمام سرکاری غیر سرکاری دفاتر پر پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ جموں وکشمیر کا جھنڈابھی لہرایا جائے۔ تاکہ کشمیری عوام اپنی چھینی گئی شناخت کو باوقار اور شاندار دیکھ سکیں۔

2:-قومی ادارے اور حریت سابقہ بھارت نواز قائدین کو جو یقیناً دل سے پچھتا رہے ہیں کو مجموعی ریاستی شناخت کی تحریک میں اتمام حجت کے لیے شمولیت کے لیے اپنے دل اور ظرف کو کشادہ کریں۔ ان کی عوامی حیثیت کے مطابق انہیں کھلے دل سے ریاست کی خودمختار حیثیت پر مجتمع کریں۔

3:- ریاستی عوام سوائے محدود چند پاکستان سے مذہب تہذیب ثقافت زبانوں کی نسبت سے فطری محبت کرتے ہیں اور وہ آزاد حیثیت میں بھی اپنا جھکاؤ پاکستان ہی کی جانب رکھیں گے۔ لہذاپاکستان بھارت کے خلاف بڑا داؤ کھیلتے ہوئے اقوام متحدہ کی نئی قرارداد منظور کراتے ہوئے ریاست کی خودمختار حیثیت کا راستہ کھول کر خودمختاری کی آڑ میں بھارت کی لگائی گئی پنیری کا راستہ روکے ۔

یاد رہے کہ ریاست کی خودمختار حیثیت عالمی طاقتوں اور اداروں کے لیے نسبتاً زیادہ قابل قبول ہو گی۔یوں بھارت کے آپشنز کے آگے ایک ایسی دیوار کھڑی ہوجائے گی جس پر ریاست کے عوام زیادہ متحد ہو کر آزادی کی تحریک میں شامل ہوں گے۔پاکستان ان تجاویز کو ایک محبت کرنے والے کشمیری باشندے اور دل سے اول وآخر پاکستانی کی رائے کے طور قبول کرے۔

4:-سابقہ بھارت نواز قائدین کی نئی تحریک میں شمولیت کے لیے حریت کانفرنس اپنے ظرف کو کشادہ کرے اور اپنی شناخت اور جدوجہد کو برقرار رکھتے ہوئے ۔ مشترکہ تحریک کی انجینئر رشید کو سونپے. اس کی قیادت کو ڈاکٹر فاروق سید علی گیلانی ایک نئے تجربے کے طور قبول کر کے ایک صف سے زبردست تحریک کے آغاز کریں اس تحریک میں حتمی فیصلے اقوام متحدہ کی نگرانی میں
جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان بھارت چین کے اتفاق رائے سے طے پائیں۔

جن کی گارنٹی امریکہ روس چین اقوام متحدہ اور اوآئی سی دے۔
جموں کی الگ جغرافیائی و دیگر شناخت کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں نئی تحریک کی قیادت چودھری طالب ایڈوکیٹ کو سونپی جائے جسے ریاست کے چالیس لاکھ گوجری بولنے والوں کی نمائندگی بھی تصور کیا جائے گا۔

جبکہ لداخ کرگل کی قیادت کسی بودھ اور شیعہ مقامی قاید کو سونپی جائے۔
ڈوگروں میں سے مہاراجہ ہری سنگھ کے خاندان کو بھی شناخت کی تحریک میں یہ گارنٹی دی جائے کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد ان کی شناخت اور وقار کے اسی طرح احترام ہوگا جس طرح پاکستان میں سکھوں ہندؤوں عیسایوں کیلاش وغیرہ کو بحیثیت شہری برابر کے حقوق اور تحفظ حاصل ہے ۔

اہل ریاست 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں سردار محمد ابراہیم کے گھر پاس قراداد کو ریاستی عوام کی نمائیدہ آواز تسلیم کرتے ہوئے اسی نقطئہ آغاز سے جدوجہد کو آگے بڑھائیں کیونکہ وہ منتخب اسمبلی کی آواز تھی ۔

بالفرض اگر اقوام متحدہ ریاست میں غیر جانبدار انتخابات برائے عوامی نمائندگی کرائے تو یہ انتخابات گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں بھی ہوں جن سے منتخب قیادت سامنے آئے تو اس رائے سے حریت رہنماؤں کو اختلاف نہیں کرنا چاہیے
تب جاکر اس لاوے سے ریاست کے وقار اور آزادی کا راستہ بحال ہوسکتا ہے۔
اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر یہ خطہ خطرناک ایٹمی جنگ سے کسی طور نہیں بچ سکتا جس کے برے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے!

اپنا تبصرہ بھیجیں