پاکستان کب آزاد ہو گا؟

تحریر :خواجہ تنزیل
کیا پاکستان ابھی بھی کسی کا غلام ہے؟ اب بھی کسی بیرونی طاقت کا انتظار ہے کہ وہ اشارہ کرے تو اپنا فیصلہ کرنا ہے یا کسی اور کا کیا ہوا فیصلہ تسلیم کرناپڑتا ہے؟ آخر ایسا پاکستان کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا ہماری موجودہ و سابقہ حکومتیں پاکستان کو مُستحکم نہیں کر سکیں؟ کیا قائداعظم نے پاکستان کو اِسی لئیے آزاد کرایا تھا؟ کیا علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرانے کے لئیے دیکھا تھا؟ اگر ایسا نہیں تھا تو ایسا کیوں کر ہو رہا ہے پاکستانی قوم جواب چاہتی ہے۔

آج بھارت جو چاہے کر سکتا ہے اُسے کوئی روکنے والا نہیں مگر پاکستان کچھ کرنا بھی چاہے تو عالمی طاقتیں پاکستان کو روکنے کے لئیے آجاتی ہیں کیا اس کی وجہ معلوم ہو سکتی ہے؟ کیا پاکستان کو اپنا دِفاع کرنے کی بھی اجازت لینا پڑتی ہے؟ آج تک مُلک پاکستان کی بَہتّر سالہ تاریخ میں کس کام کےلیے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کوئی بتا سکتا ہے 1965ء کی جنگ کے وقت پاکستان پر دباؤ ڈالا گیا پھر 1971 ء میں بھی یہی کچھ ہوا۔

کارگل میں بھی امریکہ نے پاکستان کو پیچھے ہٹنے کا کہا اور پاکستان کے انمول سپاہی شہید کرائے۔ پھر ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا دو لوگوں کا قاتل پاکستان کی جمہوریت کے منہ پر تماچہ مارکر پاکستان سے چلا گیا پھر بھارت جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑا گیا اُس پر پاکستان کی فوجی عدالتوں کا فیصلہ ایک سفید کاغذ کا ٹُکڑا سمجھ کر رَدّی میں پھینک دیا گیا اور معاملہ عالمی عدالت میں لے گئے اور اُن کا فیصلہ ماننا پڑا پھر یوں ہوا کہ ابھی نندن بھارت پائلٹ پکڑا گیا اور وزیراعظم پاکستان نے جزبہ خیر سگالی کے تحت جلد بازی میں اُسے بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کردیا۔

اب بھارت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور کشمیر کو دنیا کی سب بڑی جیل بنا ڈالا اور اب اُسے دنیا کی سب سے بڑی مقتل گاہ بنانے جا رہا ہے۔ اب بھی عالمی طاقتیں پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ خاموش رہا جائےآخر ہر دفعہ پاکستان ہی کیوں خاموش ہو جاتا ہے اگر انگریزوں کا غلام اور ہندوؤں کے دباؤ میں ہی رہنا تھا تو 1947 ء میں بیش بہا مسلمانوں کا قتل عام کیوں کیا گیا؟ کیوں مسلمانوں کو ازل سے ہی دباؤ کا شکار کیا جاتا ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی عالمی طاقتوں نے کسی معاملے پر بھی بھارت کو چُپ کیوں نہیں کروایا کیونکہ یہ ہندو، یہودی اور انگریز سب اندرون خانہ ایک ہی ہیں ان کا مقصد صرف مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان و کشمیر کو دنیا میں ذلیل و رسوا کرنا ہے مگر ہمیں بھروسہ ہے کہ دنیا و آخرت کی سُپر پاور اللہ تبارک و تعالیٰ ہے مگر پاکستانی حکمران شاید امریکہ کو سُپر پاور مان کر اُس کے سامنے گُٹھنے ٹکا دیتے ہیں۔

اگر امریکہ ایٹمی طاقت ہے تو اللہ پاک نے پاکستان کو بھی ایٹمی طاقت سے نوازہ ہے اگر بھارت ایٹمی طاقت ہے تو پاکستان بھی کم نہیں اگر بھارت جنگ لڑنا چاہتا ہے تو پاکستان غزوہ بدر کو یاد کرے جب صحابیوں کی تعداد 313 تھی اور کفار 1000سے بھی زائد تھے اب تو پاکستانی قوم بھی 22کروڑ ہے اگر بھارت کا غرور خاک میں ملانے کے لئے جنگ لڑنا لازم ہے تو دیر کس بات کی ہے ہم مُسلمان ہیں اور ہم پر جہاد فرض ہے شہادت ہر مسلمان کی خواہش ہے۔ ہمیں بھروسہ ہے پاکستان صرف جنگ کی تیاری کرلے بھارتی جنگی جنون خاک میں مل جائے گا اور صف بندی کرنے پر عالمی طاقتیں بھارت کے پیچھے اور پاکستان کی مخالفت میں کھڑی ہوں گی کیوں کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ یہودونصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔

تو نعوز باللہ پاکستانی حکومتیں اِس حدیث کو کیوں غلط ثابت کرنا چاہتی ہیں؟ آج عالم اسلام سے مدد کی اپیل کی گئی ہے مگر افسوس اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کرنے کےلیے یہود و نصاریٰ کے اشارے کا منتظر ہے۔ یاد رہے سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ اگر مدد نہ کی گئی تو اللہ پاک کے حضورسب مسلمان جوابدہ ہوں گے اور بحیثیت مسلمان ہمارا بھروسہ ہے کہ سید زادے کی زبان سچ ہو گی اور ہم اللہ کی عدالت میں اِس معاملے میں جوابدہ ہوں گے اور اُس وقت ہم لوگوں کی آنکھیں اِن حکمرانوں کی وجہ سے شرمندگی اور ندامت سے جھُکی ہوں گی یہ حکومتی عناصر یاد رکھیں کہ اِن کو بھی اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے جن کے پاس اختیارات ہیں مگر ناجائز استعمال کر رہےہیں اللہ کو جوابدہ ہوں گے اور آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہےکہ یااللہ اے میرے کریم رب تجھے تیری کریمی کا واسطہ میرے مالک محمد مُصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کالی کملی کا واسطہ،میرے مالک بی بی فاطمہ الزہرہ کے دُوپٹے کی شان کا واسطہ میرے مالک امام حسین رضی اللہ تعالٰی کی شہادت کا واسطہ اِسی سال مقبوضہ کشمیر کو آزادی عطاء فرما۔

میرے مالک میری مائیں میری بہنیں اور میرے بھائی مسلسل تکلیف میں ہیں میرے مالک اُن کو حج بیت اللہ کے واسطے آزادی عطاء فرما۔ میرے مالک جن لوگوں کے پاس اختیارات ہیں اور کُچھ نہیں کر رہے میرے مالک اُن کو بھی عبرت کا نشان بنا دے میرے مالک آج ہماری دُعا کو رد نہ کرنا میرے مالک تُجھے تیرے رحیم ہونے کا واسطہ میرے مالک آپ کےحبیب اور ہمارے نبی کا فرمان ہے کہ آپ اپنی اُمت سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں تو میرے مالک اُسی پیار کا واسطہ ہماری دُعا کو قبول و منظور فرما
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں