تلاش/سیدخالدگردیزی

پاکستان اور آزاد کشمیر کے ایک ساتھ لہراتے جھنڈے

یوم پاکستان کےموقع پرمملکت کیطرف سے کشمیری عوام کےساتھ اظہاریکجہتی کیلئے پاکستانی پرچم کےساتھ “آزاد کشمیر”کاپرچم ہرجگہ نظرآرہاہے۔

ان دو جھنڈوں کی ایک ساتھ موجودگی کا مطلب پاکستان کیجانب سےاس امرکاکھل کراظہارہےکہ انڈیانےاقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے زیر انتظام علاقے پر 5 اگست 2019کوقبضہ کردیاتھاجب کہ پاکستان نےاپنے زیرانتظام علاقے پر قبضہ نہیں کیابلکہ اس علاقےکا نام “آزادکشمیر”ہےجہاں آزادحکومت قائم ہےجسکا اپنا ترانہ۔جھنڈا۔سپریم کورٹ اوروزیر اعظم ہے۔13ویں ترمیم کے بعد اس خطے کا اپنا عبوری آئین بھی ہے۔

موجودہ صورت حال میں پاکستان کے حکمرانوں نے تنازعہ کشمیر پر کشمیریوں کو حلیف ترین فریق کا احساس دلاتے ہوئےسیاسی طورپریہ بھی باور کرایا کہ آزادی کی جنگ آپ نےخود لڑنی ہےاوریہ اعتمادبھی دلایاکہ ہم آپکےساتھ ہیں۔

تنازعہ کشمیرکوانڈیانے5 اگست 2019کوایسی جگہ پہنچا دیاتھا جہاں ایسالگتا تھاکہ پاکستان سخت عسکری ردعمل دیگا۔اگرپاکستان ایساکرتاتوگیند سیدھی انڈیاکےکورٹ میں جالگتی اورلائن آف کنٹرول خدانخواسطہ سرحد بن جاتی مگرجب انڈیانے5 اگست کواپنےآئین کاآرٹیکل 370 ختم کر کےگیندپاکستان کیطرف اچھالی توایسامحسوس ہورہاہےکہ پاکستان نےگیندکشمیریوں کیطرف اچھال کربین الاقوامی تناظرمیں ایساچھکا ماردیاہےکہ انڈیاکولینےکےدینےپڑسکتے ہیں۔

اگریہ تناظردرست ہےتو آزادکشمیرکےحکمرانوں کوکشمیرکے اندر اور دنیا بھر میں یہ اعصابی اور سیاسی جنگ کھل کر کھیلنےکاموقع ہاتھ آگیاہے۔اس موقع پرآزادکشمیر کی قیادت کا سانس پھولنا نہیں چاہے اورنہ کسی کے پیچھے چھپنا چاہیےبلکہ اب جب مقبوضہ کشمیر میں ساری قیادت پابند سلاسل ہےتوآزادخطے کے سیاستدانوں کو ثابت کرناچاہیےکہ وہ مقبوضہ کشمیرکی نہ صرف نمائندگی کی اہلیت رکھتے ہیں بلکہ ان شہیدوں اور غازیوں کی اولادیں ہیں جنھوں نے یہ خطہ ڈوگرہ تسلط سےآزادکرایاتھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں