پاکستانی قوم کو 73واں یوم آزادی مبارک

تحریر:سہیل اقبال اعوان
ایک آزاد قوم کو اپنی آزادی کا دن بھر پور طریقے سے منا کر اپنے ذندہ ہونے کا ثبوت دینے کا پورا حق ہے جسے ہر کوٸی تسلیم کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسا دن جب ہر کسی کو سینہ چوڑا کرنے کا حق حاصل ہے یوم آزادی کہلاتا ہے۔

آج 73 واں یوم آزادی قوم ایک ایسی کیفیت میں منا رہی ہے جب مودی سرکار نے خالصتاً ہندو انتہا پسند ایجنڈے کے تحت اسکی شہ رگ پر خونی پنجہ گاڑ رکھا ہے اور ریاست کی خصوصی حیثیت کو حتم کر کے اسے یونین ٹیرٹری کا درجہ دے کر ہندو اکثریتی علاقہ میں تبدیل کرنے کے درپے ہے بھارت نے اس وقت مقبوضہ کشمیر کو زندہ انسانوں کی قبر بنا رکھا ہے جس پر اسے غیر جانبدار اور عالمی میڈیا نے بری طرح بے نقاب کر دیا ہے مگر بھارتی میڈیا آج بھی مکارانہ انداز میں تاریخ کا بدترین جھوٹ بول کر سب اچھا نشر کر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنی سفارت کاری فعال اور موثر کر کے کشمیر پالیسی کو اولین ترجیح بنا کر ایمرجنسی بنیادوں پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

اس وقت پاکستان کو چاہیے کہ وہ دنیا کو مسلہ کی سنگینی سے آگاہ کرکہ موقع سے فاٸدہ اٹھا کر اس مسلہ کے قابل عمل اور مستقل حل پیش کر کے اسے دنیا سے تسلیم کرواۓ نا کہ رواٸتی طریقہ کار پر چل کر ڈیلے ٹیکٹس استعمال کی جانی چاہیں۔ ریاستی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے عالمی دنیا اور میڈیا کی توجہ حاصل کی جا سکے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جس طرح کشمیریوں کی اکثریت نا صرف پاکستان سے الحاق چاہتی ہے بلکہ وہ خود کو 19 جولاٸی کی متفقہ قرار داد کی روشنی میں پاکستان بننے سے قبل کی پاکستانی سمجھتی ہے جبکہ پاکستانی عوام بھی کشمیریوں کو اپنے وجود کا حصہ لازمی حصہ تسلیم کرتی ہے اور آج بھی دونوں اطراف کی عوام اس نظریے پر قاٸم ہے۔حالیہ صورت حال میں سب سے زیادہ حوصلہ افزا یہ بات سامنے آٸی ہے کہ جہاں چند احباب پاکستان کے ارباب اختیار کو ستر سالہ غلطیوں پر بری الذمہ قرار دے کر انکی کوششوں کے معترف ہیں وہیں الحاق پاکستان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستانی اشرافیہ کی غلطیوں کی کھل کر نشاندہی کرتی ہے جسے مشکوک نظروں سے دیکھا یا دکھایا جاتا ہے۔

مگر یاد رہے حقاٸق کو طاقت کا زور پر اخبارات میں نا چَھپنے یا ٹی وی پر نشر نا ہونے سے چُھپایا نہیں جا سکتا سوٸشل میڈیا کہ اس دور میں حقاٸق عوام تک پہنچ جاتے ہیں مگر ایسے اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے جو قوم کو حالات سے بے خبر رکھتے ہیں ہمیں پاکستان کا قومی مفاد جان سے عزیز تر لیکن ریاست کے زندہ انسانوں کی اہمیت سے صرف نظر ناقابل قبول ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں