45 بچیوں سے زیادتی کا معاملہ؛ تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل

راولپنڈی(نیوزڈیسک) کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم 45 بچیوں سے زیادتی اور انہیں بلیک کرنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

چند روز قبل راولپنڈی پولیس نے درجنوں لڑکیوں کے اغوا اور زیادتی کے الزام میں میاں بیوی کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں ملزم زیر حراست ہیں تاہم درندگی کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ کی شکایت پر تفتیشی افسر کو ہٹادیا گیا تھا۔ جس کے بعد اب 8 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

معاملے کی تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد فیصل کررہے ہیں، اس کے علاوہ ایس پی راول آصف محمود، ڈی ایس پی سٹی فیصل سلیم، ایس ایچ او سٹی حمد شیرازی، خاتون آفیسر اے ایس پی آمنہ بیگ، تفتیشی افسر اور راولپنڈی پولیس کے آئی ٹی ایکسپرٹس بھی ٹیم میں شامل ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے ملزم اور ملزمہ سے تفتیش بھی شروع کردی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم قاسم بظاہر ویب سائٹ پر اینٹی وائرس پرگرام اور دیگر سافٹ ویئر فروخت کرتا ہے، اس نے اپنی ویب سائٹ بنا رکھی ہے اور سوشل میڈیا بلاگر بھی ہے۔ قاسم جہانگیر اور کرن محمود کی شادی تین سال قبل انجام پائی لیکن دونوں کی کوئی اولاد نہیں۔

ملزم قاسم اپنی بیوی کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا اور اس کی بیوی کرن اپنے خاوند کی لڑکیوں سے زیادتی کی ویڈیو بناتی تھی۔ ملزم میاں بیوی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ اب تک 45 لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکے ہیں، ان سے 10 واقعات کی برہنہ ویڈیوز اور ہزاروں تصاویر بھی برآمد ہوئیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں