جنبش قلم/علی حسنین نقوی

کشمیر : ستر سال بعد کے دس دن

5 اگست 2019 کو ہندوستان میں مودی سرکار کے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور ہندوستانی آئین میں تبدیلی کے جارحانہ اقدامات کے بعد سے پیدا ہونے تشویشناک حالات میں تاحال کوئی بہتری نہیں آسکی، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔مودی سرکار اپنے جارحانہ اقدام سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

آزادی کے بیس کیمپ(آزاد کشمیر)کی قیادت اب بھی 72 سال کے ظلم و ستم کا رونا جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہندوستان سے بدلہ لینے کے اپنے دیرینہ عزم پر مضبوطی سے قائم ہے اور یہاں اپنے سیاسی آقاوں کی خوشامد میں مصروف ہوکر حکومت پاکستان سے امید باندھے حالات کے بدلنے کا انتظار کر رہی ہے۔حکومت پاکستان 70 سالوں سفارتی محاذ پر لڑی جارہی جنگ میں تیزی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی،اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے عالمی ضمیر نامی کسی مردہ شے میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ جموں کشمیر کے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، لوگوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مودی سرکار سفاکیت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے، ایک طرف تو لوگوں کی ممکنہ مزاہمت کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے تو دوسری طرف لوگوں کو گھروں میں محصور کرکے کرفیو کے نفاذ سے اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا کردی گئی ہے لوگوں کو جسمانی طور پر اتنا کمزور کیا جارہا ہے کہ انہیں بھوک مٹانے کے علاوہ کسی جدوجہد کی ہمت ہی نہ رہے۔ایک طرف مودی سرکار کشمیریوں سے انکی زمینیں چھیننے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو دوسری کشمیریوں عورتوں کو جنسی غلام بنانے کی دھمکیاں دے کر کشمیریوں کی غیرت کو للکارا جارہا ہے۔

میں نے کچھ روز قبل “کشمیر: کہانی ختم ہونے والی ہے!” عنوان سے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ اگر آزادی کے بیس کیمپ کی قیادت اور عوام متحد نہ ہوئے کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیا گیا ،حکومت پاکستان نے کوئی واضح پالیسی نہ بنائی تو بھارتی اقدام پر صرف چند روز شور شرابہ ہوگا، مذمتی قراردادیں پاس ہونگی، تقرریں، عالمی برادری سے اپیل اور پھر کہانی ختم، ریاست جموں و کشمیر قصہ ماضی ہوجائے گی۔

5 اگست 2019 سے لیکر اب تک ہم نے کیا کیا؟
ہم نے مذمتی قراردادوں اسمبلی میں پاس کروائی، ہم نے ریلیاں نکالی ،ہم نے احتجاج کیے ،ہم نے یوم آزادی پاکستان کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا، ہم نے عالمی برادری سے اپیل کی،ہم نے اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کا ذکر کروایا ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا؟
سفارتی محاذ پر ہم نے یہ بڑی کامیابی حاصل کی کہ پچاس سال بعد ہم سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں کشمیر کا ذکر کروانے میں کامیاب ہوئے،اجلاس بند کمرے میں ہوا ،سلامتی کونسل اجلاس میں 5 مستقل اور 10 غیرمستقل نمائندے شریک ہوئے، اراکین کو مقبوضہ کشمیر معاملے پر اقوام متحدہ کے مستقل نمائندے نے بریفنگ دی۔اجلاس کے ختم ہونے پر آفیشل پریس بریفنگ نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی پریس ریلیز جاری کی گئی۔تاہم خبررساں اداروں نے یہ کہا ہے اجلاس میں دونوں ملکوں کو شملہ معاہدے کی پاسداری کرنے کو کہا گیا۔اجلاس کے بعد چائنہ ،پاکستان اور ہندوستان کے مندوبین نے الگ الگ میڈیا سے گفتگو کی،چائنیز مندوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا :

جموں و کشمیر میں انڈیا کے حالیہ اقدام کی وجہ سے حالات خطرناک حد تک خراب ہیں، چین کو ہندوستانی اقدام پر شدید تحفظات ہیں،حالیہ بھارتی اقدامات سے چین کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہے ،چین نے دونوں ملکوں کو بہتری کی طرف جانے کا کہا ہے ۔
پاکستانی مندوب نے کہا:
ہندوستان کا دعوی غلط ثابت ہوا کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے،آج ساری دنیا مسئلہ کشمیر پر بات کر رہی ہے ،آج کی میٹنگ ابتدا ہے مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوا ، ہندوستان نے آج کی میٹنگ رکوانے کی بہت کوشش کی لیکن ہندوستان کو ناکامی ہوئی ۔
ہندوستانی مندوب نے کہا:
ہماری پوزیشن وہی ہے اور ہم اس پر قائم ہیں کہ آرٹیکل 370 ہمارا اندرونی معاملہ ہے ،”کشمیر” پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ ہے کسی تیسرے فریق کی گنجائش نہیں، جموں و کشمیر سے کرفیو اور دیگر پابندیاں ہٹانے کا ٹائم ٹیبل پہلے ہی دے چکے ہیں ،ہم اپنے تمام معاہدوں پر قائم ہیں اوران حالات میں بات چیت نہیں ہوسکتی ۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے مسئلہ کشمیر اور کشمیر کے موجودہ حالات پر کیا اثر ہوا؟
سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستان حکومت اور آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اسے پاکستان اور کشمیر کی فتح قرار دیتے ہوئے خوش آئند کہا گیا، لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حکومتی بیان(مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری نے بین الاقوامی مسئلہ تسلیم کیا ہے یہ مظلوم کشمیریوں کی فتح ہے)کی تائید کرتے ہوئے سراہا۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر تو تقریبا 70 سال قبل بین الاقوامی مسئلہ تسلیم ہوچکا اور اس پر سلامتی کونسل کی پہلی قرارداد جنوری 1948میں منظور ہوئی، اس کے بعد بھی متعدد قراردادیں منظور ہوئیں جن میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 38،قراداد نمبر 39،قرارداد نمبر 47،قرارداد نمبر51،قرارداد نمبر80اور قرارداد نمبر 91،96،،98،122، قابل ذکر ہیں ۔ان قراردادوں سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر پہلے سے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے تو پھر حالیہ سلامتی کونسل کی بند کمرے کی میٹنگ میں ہم نے کیا فتح کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس ایک لولی پاپ سے زیادہ کچھ نہ تھا جو چین کی خصوصی درخواست پر دیا گیا ۔

کشمیریوں کے پاس کونسا راستہ ہے؟
یہ حقیقت تو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہورہی ہے کہ اقوام متحدہ ،اس کے ادارے اور عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کی کبھی سنجیدہ تھی نہ ہونگی ۔یہ جدوجہد کشمیریوں کی ہے کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے اگر اپنی شناخت بچانی ہے تو متحد ہونا پڑے گا۔اور اس کے لیے کشمیری قوم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے مسئلہ کشمیر کی نوعیت کیا ہے، پھر ایک قومی بیانیہ(حق خوداردیت)کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا ۔موجودہ صورتحال میں جب مقبوضہ کشمیر لوگوں پر زندگی تنگ کی جاچکی ہے آزادی کے بیس کیمپ کی قیادت کو چاہیئے کہ وہ کانفرنسز کے نام پر غیر ملکی سیر سپاٹوں کو چھوڑ کر کشمیری قوم کو یکجا کریں اور ایک لائحہ عمل دیں لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ اس وقت واحد آپشن ہے جو حالات کو بدل سکتا ہے لیکن اس کے لیے قیادت کو اقتدار پرستی اور سیاسی آقائوں کی خوشامدی کو چھوڑ کر کشمیر کے لیے سوچنا ہوگا، ان مظلوم کشمیریوں کے لیے سوچنا ہوگا جو آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں، ان کشمیریوں عورتوں کے بارے سوچنا ہوگا جن کو جنسی غلام بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور ہماری عزت و غیرت کو نیلام کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔کیونکہ یہ کہانی کا اختتام ہے اب اور اگر اب بھی قیادت مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کو ترک کر کے قوم کو یکجا کرکے قربانی کے لیے نہ تیار کر سکی یقین مانیں مورخ آزادی کے بیس کیمپ کی قیادت کو جرات مند اور باغیرت قیادت لکھنے سے پہلے ہی قلم توڑ دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں